உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں JeM دہشت گرد تنظیم کو بڑا جھٹکا! جیش محمد سے وابستہ 10 ٹاپ ورکرز گرفتار

    تلاشی کاروائی کے دوران ان افراد کے قبضے سے موبائل فون، سم کارڈ، رقومات کی منتقلی کے بارے میں ریکارڈ ضبط کئے جانے کےعلاوہ ایک نقلی پستول بھی برآمد کی گئی۔ پریس بیان میں بتایا گیا گرفتار شدہ 10 افراد میں وہ شخص بھی شامل ہے جس کے گھر میں 4 اپریل 2020 کو حفاظتی عملے کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک کئے گئے تھے۔

    • Share this:
    jammu and kashmir: جموں کشمیر میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے مختلف سطحوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ جموں کشمیر پولیس،فوج اور دیگر حفاظتی ایجنسییاں جہاں ایک جانب دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز انجام دے رہی ہیں وہیں مختلف دہشت گرد تنظیم  سے وابستہ بالائی ورکرز یعنی OGWs کے خلاف بھی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ اسی طرح کی ایک کاروائی کے تحت گزشتہ شب اسٹیٹ انویسٹیگیشن ایجنسی (SIA) نے وسطی اور جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع میں چھاپے ماری کی۔ اس دوران جیش محمد (Jaish e Mohammad, ) سے وابستہ دس بالائی ورکروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ایس آئی اے کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا، ”کہ یہ چھاپے ماری بنیادی طور پر JEM کے نیٹ ورک پر مرکوز تھی اور گرفتار شدہ دس افراد جیش محمد کے ایک ماڈیول کا حصہ تھے۔ اس ماڈیول کے اراکین کو ذیلی ماڈیول میں اس طرح منظم کیا گیاتھا تاکہ ایک فرد کے پکڑے جانے سے اس ماڈیول سے جڑے دیگر افراد کے بارے میں جانکاری حاصل کرنا ناممکن ہو۔ “

    پریس بیان کے مطابق اس ماڈیول کا پردہ فاش ہونے سے مستقبل میں جیش کے مزید ایسے گروپوں کو  بے نقاب کیا جاسکتا ہے۔ ایس آئی اے کے مطابق یہ گروپ وسطی اور جنوبی کشمیر میں معصوم نوجوانوں کو ملی ٹینٹ صفوں میں شامل کرنے، ہتھیاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر منتقل کرنے اور دہشت گردوں کی معاونت کرنے میں ملوث ہے۔  تلاشی کاروائی کے دوران ان افراد کے قبضے سے موبائل فون، سم کارڈ، رقومات کی منتقلی کے بارے میں ریکارڈ ضبط کئے جانے کےعلاوہ ایک نقلی پستول بھی برآمد کی گئی۔ پریس بیان میں بتایا گیا گرفتار شدہ 10 افراد میں وہ شخص بھی شامل ہے جس کے گھر میں 4 اپریل 2020 کو حفاظتی عملے کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران 4 دہشت گرد ہلاک کئے گئے تھے۔

    ایس آئی اے نے کہا، ”گرفتار شدہ ماڈیول کے اراکین اسکول و کالج جانے والے طالب علموں کو دہشت گرد تنظیم میں بھرتی کرتے تھے کیونکہ ماڈیول کے کچھ اراکین اسکول اور کالج جانے والے طالب علم ہیں۔ اور ایس آئی اے اس گروپ کی حرکتوں پر پہ کافی عرصے سے نگاہ رکھے ہوئے تھی جس کی وجہ سے یہ بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ “

    ایس آئی اے نے کہا، ”ضبط شدہ ڈیجیٹل ریکارڈ تصدیق کے لئے ایف ایس ایل کو بھیجا جا رہا ہے اور گرفتار کئے گئے افراد کو سرینگر میں این آئی اے نیشنل انویسٹی گیشن اجنسی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ ملزمین سے مزید پوچھ گچھ کرنے کی اجازت حاصل کی جائے۔ “ ایس آئی اے کا ماننا ہے کہ  اس کیس کی مزید تحقیقات سے JEM کے اپرگراؤنڈ نیٹ ورک کو ختم کرنے میں کافی مدد ملے گی۔ واضح رہے حکومت  نے حال ہی میں ایس آئی اے تشکیل دے کر اسے ملیٹینسی کے جڑے واقعات اور علحیدگی پسند کی قوتوں کےخلاف کاروائی کرنے کا اختیار دیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: