உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کشمیر وادی میں اس سال اب تک 36 غیرملکی دہشت گردوں سمیت 140 ملی ٹینٹس ہلاک

    J&K News: کشمیر وادی میں اس سال اب تک 36 غیرملکی دہشت گردوں سمیت 140 ملی ٹینٹس ہلاک۔ علامتی تصویر ۔

    J&K News: کشمیر وادی میں اس سال اب تک 36 غیرملکی دہشت گردوں سمیت 140 ملی ٹینٹس ہلاک۔ علامتی تصویر ۔

    Jammu and Kashmir : جموں وکشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لئے پاکستان ہر حربہ اپنا رہا ہے ۔ حالانکہ کشمیری عوام پاکستان کی ہر چال کو ناکام بنانے کے لئے سکیورٹی فورسز کو اپنا پورا تعاون پیش کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے چلائے جارہے آپریشنز کے دوران دہشت گرد مارے جارہے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
      رمیش امباردار

      جموں : جموں وکشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لئے پاکستان ہر حربہ اپنا رہا ہے ۔ حالانکہ کشمیری عوام پاکستان کی ہر چال کو ناکام بنانے کے لئے سکیورٹی فورسز کو اپنا پورا تعاون پیش کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آئے روز جموں و کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے چلائے جارہے آپریشنز کے دوران دہشت گرد مارے جارہے ہیں ۔ یہ مقامی لوگوں کے اشتراک کا ہی نتیجہ ہے کہ حفاظتی عملہ ملی ٹینٹوں کے خلاف جاری کارروائی کی مہم میں کامیابی پا رہا ہے۔ اس سال اب تک وادی کشمیر میں حفاظتی عملہ کے ساتھ ہوئی مختلف جھڑپوں میں ایک سو چالیس ملی ٹینٹس مارے گئے ہیں، جن میں چھتیس ملی ٹینٹس غیر ملکی تھے۔

      ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون  وجے کمار کا کہنا ہے کہ حفاظتی عملہ رواں سال کے دوران ملی ٹینٹوں کے خلاف شروع کی گئی کاروائی میں کامیابی پارہا ہے اور اس برس کے پہلے آٹھ مہینے کے دوران چھتیس غیر ملکی دہشت گردوں سمیت ایک سو چالیس ملی ٹینٹس مارے چا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا یہ سلسلہ زور و شور سے جاری رہے گا اور کوشش یہ رہے گی کہ جموں و کشمیر کو ملیٹینسی کی پاک کرایا جائے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: پاکستان ہمارے نوجوانوں کو منصوبہ بند سازش کے تحت منشیات کی طرف دھکیل رہا: منوج سنہا


      انہوں نے کہا کہ مختلف سیکورٹی ایجنسیان آپسی تال میل کے ساتھ کسی نقصان کے بغیر ملی ٹینٹوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔ انہوں نے گمراہ نوجوانوں سے پھر ایک بار اپیل کی کہ وہ شدد کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہوکر اپنے مستقبل کو سنواریں۔ اے ڈی جی پی وجے کمار نے گمراہ ہوئے نوجوانوں کے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ کرنے کی پہل کریں ۔ تاکہ ان نوجوانوں کا مستقبل تاریک بننے کی بجائے روشن ہو اور یہ نوجوان بھی سماج میں عزت کی زندگی گزار سکیں۔

      انہوں نے کہا کہ لوگ اب پاکستان کی منشا کو بھانپ چکے ہیں اور اب وہ ان کی ایسی کارروائیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہائی برڈ ملی ٹینسی حفاظتی عملے کے سامنے کوئی چیلنج نہیں ہے اور حفاظتی عملہ لوگوں کے تعاون سے ایسے ملی ٹینٹوں کا یا تو صفایا کرتی ہے یا انہیں گرفتار کر رہی ہے۔  اس سے پہلے ڈائریکٹر جنرل پولیس نے حفاظتی عملے کو ہدایات دیں کہ وہ کسی بھی حال میں دہشت گردوں کو اپنی کارروائیوں کو انجام دینے میں کامیاب نہ ہونے دیں اور ان کے خلاف کارروائیوں میں شدت لائیں۔ اس کے لئے انہوں نے مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے آپسی تال میل کو مزید مظبوط بنانے اور عام لوگوں کے ساتھ قریبی رشتہ قائم رکھنے پر زور دیا تھا۔

       

      یہ بھی پڑھئے: سرینگر بارہمولہ نیشنل ہائی وے پر سڑک حادثہ، دو کی موت، تین زخمی


      گزشتہ دنوں نئی دہلی میں وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہوئی جموں و کشمیر سے متعلق میٹنگ میں وزیر داخلہ نے صاف یہ پیغام دیا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور وادی کشمیر سے ملیٹینسی کو ختم کرکے ہی سرکار دم لے گی۔ اس میٹنگ میں فوج کے سربراہ منوج پانڈے، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے علاوہ جموں و کشمیر یو ٹی کے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا، پولیس چیف دلباغ سنگھ اور دیگر حفاظتی عملے کے سربراہان موجود رہے۔ میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ بے قصور شہریوں کو کوئی گزند نہ پہنچے۔

      دوسری جانب پاکستان بھی دہشت گردوں کو کنٹرول لائن کے اس پار بھیجنے کی اپنی مذموم کاروائیاں جاری رکھے ہوا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایل او سی سے متصل پاکستانی قبضے والے علاقے میں ایک سو پچاس سے دو سو کے قریب لانچ پیڈس پر اس موقع کی تلاش میں ہیں کہ کب موقع ملے کہ وہ سرحد کے اس پار داخل ہوں۔ تاہم کنٹرول لائن پر ہماری فوج اور بی ایس ایف کی چوکسی پاکستان کے ان عزائم کو خاک میں ملا رہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: