உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir میں ویلیج ڈیفنس کمیٹیوں کو دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ، سیاسی پارٹیوں کا ملاجلا ردعمل

    Jammu and Kashmir میں ویلیج ڈیفنس کمیٹیوں کو دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ، سیاسی پارٹیوں کا ملاجلا ردعمل

    Jammu and Kashmir میں ویلیج ڈیفنس کمیٹیوں کو دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ، سیاسی پارٹیوں کا ملاجلا ردعمل

    Jammu and Kashmir News : مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں قائم کردہ دیہی دفاعی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹیاں کئی برسوں سے بے کار پڑی ہوئی تھیں۔ مرکزی سرکار کے اس تازہ فیصلہ نے جموں و کشمیر میں ایک نیا مدعا کھڑا کردیا ہے ، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں سرکار سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ اگر حالات میں بہتری آئی ہے تہ دوبارہ ان کمیٹیوں کو فعال بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔

    • Share this:
    Jammu and Kashmir News : مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں قائم کردہ دیہی دفاعی کمیٹیوں کو دوبارہ فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹیاں کئی برسوں سے بے کار پڑی ہوئی تھیں۔ مرکزی سرکار کے اس تازہ فیصلہ نے جموں و کشمیر میں ایک نیا مدعا کھڑا کردیا ہے ، کیونکہ اپوزیشن جماعتیں سرکار سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ اگر حالات میں بہتری آئی ہے تہ دوبارہ ان کمیٹیوں کو فعال بنانے کی کیا ضرورت ہے ۔ وہیں بی جے پی کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئندہ چلینجوں کو مد نظر رکھ کر اٹھایا جارہا ہے۔  جب جموں و کشمیر میں ملیٹینسی اپنے عروج پر تھی تب مرکزی سرکار نے جموں کے ملیٹینسی سے متاثرہ اضلاع میں دیہی دفاعی کمیٹیاں قائم کی تھیں اور ان کمیٹیوں میں دیہی علاقوں کے کئی افراد کو شامل کرکے انہیں تربیت اور ہتھیار مہیا کرایا گیا تھا ۔ اس کا مقصد تھا کہ یہ کمیٹیاں اپنے اپنے گائوں کے عوام کو ملیٹینٹوں کے غیض و غضب سے بچائیں ۔ تاہم وقت گزرنے اور حالات میں بہتری آنے کے ساتھ ہی یہ کمیٹیاں بے کار ہوگئیں اور ان کا کوئی کام نہیں رہا۔ تاہم اب مرکزی سرکار نے ان کمیٹیوں کو دوبارہ بحال کرکے انہیں فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : حد بندی کمیشن نے پیش کی نئی شفارشات، جموں و کشمیر میں پھر سیاسی گھمسان شروع


    جموں و کشمیر بی جے پی کے جنرل سکریٹری اور کشتواڑ سے پارٹی لیڈر سُنیل شرما نے حال ہی میں وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی ، جس کے بعد سرکار نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ اس نئے فیصلے تحت اب ان وی ڈی سی کمیٹیوں کا نام بدل کر انہیں وی ڈی جی رکھا گیا ۔ ایسی ہر کمیٹی میں دس افراد شامل ہوں گے ۔ سُنیل شرما کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار نے ویلیج ڈیفنس گارڈ نامی ان کمیٹیوں کے ماضی میں ادا کئے گئے رول کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وی ڈی سی کی تنخواہیں بھی دو برس سے بند تھیں اور اب ان کی تنخواہیں بھی بحال ہوں گی۔ سُنیل شرما نے نیوز18 سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وی ڈی جی کے تمام ممبران کے مسائل کا اب نمٹارہ ہوگا اور وہ بغیر کسی پریشانی کے اپنی زمہ داریاں پوری کر پائیں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : کشمیری طالبات کی سوشل میڈیا پر کردار کشی کا معاملہ، عدالت نے دو افراد کی ضمانت کو کیا مسترد


    ادھر جموں و کشمیر کی اپوزیشن جماعتیں سرکار کے اس فیصلہ سے حیران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف سرکار جموں و کشمیر کے حالات میں بہتری آنے کے دعوے کر رہی ہے تو وہیں دوسری طرف دیہی دفاعی کمیٹیوں کو دوبارہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حالات ٹھیک ہوگئے ہیں تو ان کمیٹیوں کا اب کیا کام ہے۔ نیشنل کانفرنس نے اس فیصلہ پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ کمیٹیاں اپنے دور میں لوگوں پر کافی ظلم زیادتیاں کر رہی تھیں ، لہذا ان کمیٹیوں کو دوبارہ بحال کرنے سے پہلے جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    پردیش کانگریس کے ترجمان سینئر رویندر رینہ کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں دیہی دفاعی کمیٹیوں کا قیام وقت کی ضرورت تھی ۔ تاہم اب ایسے علاقوں میں ملیٹینسی کے گراف میں کمی آئی ہے اور اب ان کمیٹیوں کو بحال کرنے کے  فیصلہ کی ضرورت کے بارے میں تو صرف وزارت داخلہ ہی بتا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں کی بجائے بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے تھی ۔

    نیشنل کانفرنس کے سینیر لیڈر شیخ بشیر احمد کا الزام ہے کہ جب ماضی میں یہ کمیٹیاں اپنے دم کھم میں تھیں ، تب یہ عام لوگوں پر ظلم ڈھارہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس زمانے میں ملیٹینیسی کو قابو کرنے کیلئے یہ کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں اور بعد میں ان کمیٹیوں کے کئی ممبران نے بندوق کا غلط استعمال کیا ، جس وجہ سے بعد میں ان کمیٹیوں کو معطل رکھا گیا۔ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے ان خدشات کو بی جے پی نے سرے سے خارج کردیا ہے ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ صرف اورصرف ان دیہی علاقوں میں ملی ٹینٹوں کا اثر کم کرنے اور اس بدعت کا خاتمہ کرنے کے لئے لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کمیٹیوں کو دوبارہ بحال کرنا مستقبل کے چلینجوں کے لئے کافی اہم ہے۔

    ادھر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کمیٹیوں کے بحال ہونے سے حفاظتی عملے کو ملیٹینسی کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی۔ سیاسی تجزیہ کار سُہیل قاظمی کا ماننا ہے کہ مرکزی سرکار کا یہ فیصلہ ایک مثبت فیصلہ ہے اور اس طرح کے اقدام سے جموں و کشمیر کے دیہی علاقوں میں ملیٹینسی کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے جہاں یہ ممبران ملک کی حفاظت میں اپنا بھر پور رول ادا کرنے کے اہل ہوں گے تو وہیں ان علاقوں میں بے روزگاری پر بھی کافی فحد تک قابو پایا جاسکتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: