உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا اودھم پور دھماکوں میں استعمال کیا گیا 'اسٹکی بم'؟ افغان کنیکشن بنا ایجنسیوں کیلئے درد سر

    کیا اودھم پور دھماکوں میں استعمال کیا گیا 'اسٹکی بم'؟ افغان کنیکشن بنا ایجنسیوں کیلئے درد سر ۔ تصویر : ANI

    کیا اودھم پور دھماکوں میں استعمال کیا گیا 'اسٹکی بم'؟ افغان کنیکشن بنا ایجنسیوں کیلئے درد سر ۔ تصویر : ANI

    Jammu and Kashmir: افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر استعمال کئے جانے والے اسٹکی بم جموں و کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے نیا خطرہ بن گیا ہے ۔ پولیس نے اشارہ دیا ہے کہ اودھم پور بلاسٹ میں ان بموں کا استعمال کیا گیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Udhampur | Jammu | Srinagar
    • Share this:
      جموں : افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر استعمال کئے جانے والے اسٹکی بم جموں و کشمیر میں سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے نیا خطرہ بن گیا ہے ۔ پولیس نے اشارہ دیا ہے کہ اودھم پور بلاسٹ میں ان بموں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ بم دھماکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اکتوبر میں جموں و کشمیر کے دورے سے ٹھیک پہلے ہوا ہے ۔ جموں و کشمیر کے اودھم پور شہر میں جمعرات کی صبح ایک اسٹینڈ پر کھڑی ایک بس میں ہوئے دھماکہ سے سیکورٹی ایجنسیوں میں افراتفری مچ گئی ۔

      جمعرات صبح ساڑھے پانچ بجے ہوئے دھماکہ میں بس کی چھت اور پچھلا حصہ اڑ گیا ، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ وہیں بدھ کی رات ڈومیل چوک پر ایک پٹرول پمپ کے پاس کھڑی ایک خالی بس میں دھماکہ ہوگیا، جس میں دو لوگ زخمی ہوگئے ۔ حالانکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب اسٹکی بموں کا استعمال کیا گیا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں-کشمیر: اُدھم پور میں اندرون 8 گھنٹے دوسرا بس دھماکہ، دہشت گردانہ سازش کا اندیشہ


      غور طلب ہے کہ مارچ میں جموں کے کٹرا کے پاس چلتی بس میں آگ لگنے سے چار لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 25 زخمی ہوگئے تھے ۔ پولیس کو شک تھا کہ دہشت گرد تنظیموں نے عقیدتمندوں کو نشانہ بنانے کیلئے اسٹکی بم کا استعمال کیا تھا ۔ اودھم پور پھل منڈی میں بھی اسی طرح دھماکہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ جموں و کشمیر پولیس نے اسی مہینے سوپور میں ایک دہشت گرد کے پاس سے ایک اسٹکی بم بھی برآمد کیا تھا ۔

      اے ڈی جی سطح کے ایک افسر نے News18.com کو بتایا کہ اس طرح کے حملوں کے ساتھ پریشانی یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی گاڑی پر کچھ چپکا ہوا ہے ۔ ڈرائیور کو بھی تب تک یہ معلوم نہیں ہوگا کہ بم رکھا گیا ہے یا نہیں جب تک کہ وہ گاڑی کو روک نہیں لیتا اور مینوئل طور پر اس کی جانچ نہیں کرتا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر: لائن آف کنٹرول کے مچھل سیکٹر میں دو دہشت گرد ہلاک، پاکستانی کرنسی برآمد


      مئی میں جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں اسٹکی بم لے جارہے ایک پاکستانی ڈرون کو بھی ہندوستانی سرحد میں گھنسے کے بعد مار گرایا گیا تھا ۔ ڈرون امرناتھ یاترا میں حملے کے مقصد سے ایک اہم دہشت گردانہ سازش کا حصہ تھا ۔ اس کی پورٹیبلیٹی اور تقریبا 25 ڈالر میں آسانی سے ملنے کی وجہ پچھلے سال تک ملک میں اس بم کا کافی استعمال کیا گیا تھا ۔

      رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق حال کے ہفتوں میں کم سے کم دس سرکاری افسران اور ان کے ساتھی افغانستان کی راجدھانی کابل میں اسٹکی بم سے مارے گئے ہیں ۔ نیوز رپورٹس کا دعوی ہے کہ افغانستان میں اسٹکی بموں نے کئی لوگوں کو نشانہ بنایا ہے ۔ ان میں صحافی، سینئر عدالتی اہلکار اور کارکنان شامل ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: