உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: اسمبلی انتخابات کے اشارے کے بعد بی جے پی نے قومی کونسل کی میٹنگ طلب

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اپنے حالیہ جموں وکشمیر دورے کے دوران رواں سال کے آخر میں یہاں پر اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے واضح اشارے دیئے، جس کے بعد یقینی طور پر جموں وکشمیر میں نئی سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جموں وکشمیرکے لئے31 اگست تک مسودہ کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اپنے حالیہ جموں وکشمیر دورے کے دوران رواں سال کے آخر میں یہاں پر اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے واضح اشارے دیئے، جس کے بعد یقینی طور پر جموں وکشمیر میں نئی سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جموں وکشمیرکے لئے31 اگست تک مسودہ کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

    وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اپنے حالیہ جموں وکشمیر دورے کے دوران رواں سال کے آخر میں یہاں پر اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے واضح اشارے دیئے، جس کے بعد یقینی طور پر جموں وکشمیر میں نئی سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جموں وکشمیرکے لئے31 اگست تک مسودہ کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اپنے حالیہ جموں وکشمیر دورے کے دوران رواں سال کے آخر میں یہاں پر اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے واضح اشارے دیئے، جس کے بعد یقینی طور پر جموں وکشمیر میں نئی سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی طرف سے جموں وکشمیرکے لئے31 اگست تک مسودہ کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ ایسے میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی اور حکمراں جماعت بی جے پی نے پارٹی  کی قومی ایگزیکٹو میٹنگ 2 اور 3 جولائی کو حیدرآباد میں طلب کی ہے۔

    اس میٹنگ میں جموں وکشمیر کے اسمبلی انتخابات کے منصوبوں کے بارے میں تبادلہ خیال کے قوی امکانات ہیں۔ اس میٹنگ میں جموں وکشمیر سے پارٹی کے نو سینئر لیڈروں کو طلب کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ، یو ٹی بی جے پی کے سربراہ رویندر رینہ، پارٹی کے جنرل سکریٹری آرگنائزیشن اشوک کول، کویندر گپتا، ڈاکٹر نرمل سنگھ، پریا سیٹھی، درخشاں اندرابی اور جی اے میر ان لیڈران میں شامل ہیں۔

    قومی ایگزیکٹو میٹنگ جس کی صدارت پارٹی صدر جگت پرکاش نڈا کریں گے اور اس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بھی شامل ہوں گے۔ کووڈ-19 کے بعد بی جے پی کی یہ پہلی قومی ایگزیکٹو میٹنگ ہوگی اور اس میں گجرات اور ہماچل پردیش میں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں پر غورکیا جائے گا، جو اس سال دسمبر میں ہونے والے ہیں۔
    پارٹی کے لیڈران نے کہا، "جموں اور کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا امکان زور پکڑگیا ہے اور جموں وکشمیر کے اسمبلی انتخابات کا مدعا نیشنل ایگزیکٹو اجلاس میں شامل ہونے کا امکان ہے کیونکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے بی جے پی کے نو سینئر رہنما اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔"

    الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ذریعہ اسمبلی انتخابات کے لئے مومینٹم مقرر کیا گیا ہے، جس نے 31 اگست تک ڈرافٹ فہرستوں کی اشاعت کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ پولنگ اسٹیشنوں کی معقولیت اور حد بندی کمیشن کے بعد دیگر رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے اس بیان کے بعد ہوا ہے کہ جموں وکشمیر میں سال کے آخر تک اسمبلی انتخابات ہونے کا قوی امکان ہے۔

    اندرونی ذرائع کے مطابق، بی جے پی کی قومی ایگزیکٹو جموں وکشمیر سے متعلق دیگر امور بھی اٹھائے گی، جن میں ترقی، ملیٹینسی، ٹارگٹ کلنگ، کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری وغیرہ شامل ہیں۔ بی جے پی ذرائع کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر ہمیشہ بی جے پی کے ایجنڈے میں سرفہرست رہا ہے۔ جموں وکشمیر کے مسائل کو ہمیشہ بی جے پی کی طرف سے نہ صرف تمام پارٹی میٹنگوں میں بلکہ حکومتی سطح پر بھی اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں پارٹی کے ایک وفد نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بھی ملاقات کی تھی اور انہیں بریفنگ دی تھی۔

    ذرائع نے بتایا کہ 31 اگست کو مسودہ فہرست کی اشاعت کے بعد جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے بہت زیادہ امکانات ہیں کیونکہ حد بندی کمیشن نے اپنا کام پہلے ہی مکمل کر لیا ہے۔ حد بندی کمیشن نے سفارش کی ہے کہ ایک خاتون سمیت دو کشمیری تارکین وطن کو حق رائے دہی کے ساتھ قانون ساز اسمبلی میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔ اس نے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے بے گھر افراد کے لئے نامزدگیوں کی بھی سفارش کی، لیکن تعداد کا ذکر نہیں کیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق، مرکزی حکومت پاک مقبوضہ کشمیر کے بے گھر افراد کو نامزدگی کی تین سے چار نشستیں اس بنیاد پر دینے پر غور کر رہی ہے کہ اسمبلی میں وہاں کے لوگوں کے لئے 24 حلقے مخصوص کئے گئے ہیں اور تقریباً ایک تہائی آبادی 1947 میں یہاں سے ہجرت کرگئی تھی۔

    ذارئع کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہاں آباد پاکستان مقبوضہ کشمیر پناہ گزینوں کے لیے 8 سیٹیں ریزرو کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن زیر غور سیٹیں تین سے چار ہیں۔ جموں وکشمیر اسمبلی کی کل 114 نشستیں ہیں، لیکن انتخابات صرف 90 حلقوں کے لئے ہوں گے۔ 47 کشمیر ڈویژن میں اور43 جموں خطے میں۔ کیونکہ 24 نشستیں پاکستان مقبوضہ کشمیر کے لئے مخصوص ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کے لئے دو خواتین کی نامزدگی کا پہلے ہی نظم موجود ہے جو کہ پچھلے ایوان میں بھی اس وقت ہوا جب جموں و کشمیر ایک ریاست تھی۔

    ذرائع نے بتایا کہ جموں وکشمیر ہاؤس کی طاقت دو خواتین کی نامزدگی اور ممکنہ طور پر دو کشمیری پنڈت مہاجرین اور چار پی او کے جی مہاجرین کی نامزدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 98 تک پہنچ سکتی ہے۔ حد بندی کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اسمبلی میں نامزد کئے جانے والے کشمیری تارکین کو ووٹ کا حق دیا جائے، جو کہ پڈوچیری اسمبلی کے مطابق ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ خواتین سمیت ایم ایل ایزکو نامزدکرنے کا اختیار اوراگر پارلیمنٹ سے منظوری مل جاتی ہے تو کشمیری پنڈت مہاجرین اور پی او جے کے بے گھر افراد کو مرکزی حکومت کے پاس ہے، جیسا کہ پڈوچیری اسمبلی میں ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: