ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: بی جے پی لیڈر کی ڈیوٹی پرتعینات محافظ کی گولی سے لیڈران زخمی، علاقے میں سنسنی

پولس ذرائع کے مطابق بی جی پی لیڈران لوگوں میں عید کے پیش نظر لوگوں میں کھانے پینے کی چیزیں تقسیم کررہے تھے۔ اس دوران پی ایس او کی بندوق حادثاتی طور پر چل رہی تھی، جس کے بعد بی جے پی کے ایک کارکن اور بی جے پی کے ضلعی صدر کو آتش گیر چوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: بی جے پی لیڈر کی ڈیوٹی پرتعینات محافظ کی گولی سے لیڈران زخمی، علاقے میں سنسنی
جموں وکشمیر: بی جی پی لیڈران کی ڈیوٹی پرتعینات محافظ کی گولی سے لیڈران زخمی، علاقے میں سنسنی

جموں وکشمیر: شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع، کے گلگام علاقے میں دوارن شام اس وقت سنسنی پھیل گئی، جب علاقے میں گولیوں کی آواز سنائی دی۔ ابتدای اطلاعات میں کہا گیا کہ نامعلوم بندوق برداروں نے بی جی پی کے لیڈران پر حملہ کیا جس کے بعد پورے ضلع میں افراتفری پھیل گئی۔ اس دوران بی جی پی کے ضلع صدر کپواڑہ محمد شفیع میر کے بیٹے اشفاق احمد زخمی ہوئے تھے۔ رات کے اندھیرے میں لیڈران نے اسے ملیٹنٹوں کا حملہ تصور کیا تھا، تاہم پولس ذرائع کے مطابق اس خبر میں کوئی حقیقت نہیں تھی۔ بلکہ سچ یہ ہے کہ کپواڑہ میں پی ایس او کے ذریعہ بی جے پی کے ضلعی صدر کا بیٹا غلطی سے زخمی ہوا۔


پولس ذرائع کے مطابق بی جی پی لیڈران لوگوں میں عید کے پیش نظر لوگوں میں کھانے پینے کی چیزیں تقسیم کررہے تھے۔ اس دوران پی ایس او کی بندوق حادثاتی طور پر چل رہی تھی، جس کے بعد بی جے پی کے ایک کارکن اور بی جے پی کے ضلعی صدر کو آتش گیر چوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

ایس ایس پی کپواڑہ ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی نے نیوز 18 کو بتایا کہ کار میں پی ایس او میں سے ایک کی طرف سے غلط فہمی پھیل گئی۔ دوسرے پی ایس او نے خوف سے فائرنگ کی اور ایک گولی اشفاق احمد بی جے پی کارکن کے بازو میں لگی۔ ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ اشفاق کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال کپواڑہ منتقل کیا گیا، جہاں سے ابتدائی طبی  علاج کے بعد اسے فارغ کردیا گیا ہے۔


ان کا کہنا تھا کہ واقعہ کے فوراً بعد ہی پولیس اور فوج کے اعلی عہدیدار موقع پر پہنچ گئے۔ تاہم اس واقعہ سے پورے بی جی پی خیمے میں ہلچل مچ گئی۔ کیونکہ دیر رات گئے تک تمام لوگوں نے اسے ملیٹنٹوں کا حملہ تصور کیا تھا، لیکن بعد میں جیسے ہی پولس نے وضاحت کی تو بی بی پی خیمے نے راحت کی سانس لی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 17, 2021 10:40 AM IST