உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Kashmir Tiranga Bike Rally: سری نگر کے تاریخی لال چوک کے گھنٹہ گھر پر لہرایا ترنگا

    سری نگر کے تاریخی لال چوک کے گھنٹہ گھر پر لہرایا ترنگا ۔ تصویر : بی جے پی کپوارہ ٹویٹر اکاونٹ

    سری نگر کے تاریخی لال چوک کے گھنٹہ گھر پر لہرایا ترنگا ۔ تصویر : بی جے پی کپوارہ ٹویٹر اکاونٹ

    Kashmir Tiranga Bike Rally: کشمیر کا تاریخی لال چوک پیر کو لال چوک نہیں بلکہ ترنگا چوک نظر آرہا تھا ۔ چاروں طرف دکانوں پر قومی پرچم لہرا رہا تھا، چوک کے بیچوں بیچ گھنٹہ گھر پر بھی ترنگا تھا اور نیچے سڑک پر جمع بھیڑ بھی ترنگا ہاتھوں میں لیے کھڑی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Srinagar | Jammu and Kashmir | Jammu
    • Share this:

      سری نگر : کشمیر کا تاریخی لال چوک پیر کو لال چوک نہیں بلکہ ترنگا چوک نظر آرہا تھا ۔ چاروں طرف دکانوں پر قومی پرچم لہرا رہا تھا، چوک کے بیچوں بیچ گھنٹہ گھر پر بھی ترنگا تھا اور نیچے سڑک پر جمع بھیڑ بھی ترنگا ہاتھوں میں لیے کھڑی تھی۔ ترنگا تھامے چہروں پر کوئی مجبوری یا خوف نہیں تھا بلکہ قوم پرستی کا جذبہ تھا جو کشمیر میں امن، جمہوریت اور خوشحالی کی بحالی کا اعلان کر رہا تھا۔ نہ صرف کشمیر کے مختلف حصوں سے بلکہ جموں اور ملک کی دیگر ریاستوں سے تقریباً 400 بائیکرس ترنگا لے کر چوک پر جمع ہوئے تھے۔



      یہ بھی پڑھئے :  کانگریس کے 4 اراکین پارلیمنٹ کو لوک سبھا سے معطل کر دیا گیا


      بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے بینر تلے جمع ہوئے یہ بائیکرس آج کرگل کے لال چوک سے کرگل وجے دیوس منانے کے لئے قربانیاں پیش کرنے والوں کے گھروں کی مٹی لے کر روانہ ہوئے۔ کشمیر میں قوم پرستی کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لئے وادی کے مختلف حصوں سے بچوں، بوڑھوں اور خواتین سمیت بڑی تعداد میں کشمیری ہاتھوں میں ترنگا لیے انہیں رخصت کرنے پہنچے تھے۔


      یہ بھی پڑھئے:  تربیتی طیارہ کھیت میں گر کر تباہ، 22 ​​سالہ خاتون پائلٹ زخمی


      ریلی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چُگ نے جھنڈی دکھا کر کرگل کیلئے روانہ کیا، جو جموں و کشمیر بی جے پی کے انچارج بھی ہیں ۔ ان کے ساتھ بی بی جے پی لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ بھی موجود تھے ۔

      کشمیر میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی ریلی تھی، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے بائیکرس نے لال چوک پر ترنگا لہرایا۔ لال چوک پر بھارت ماتا کی جئے اور آزاد ہندوستان زندہ باد کے نعروں کی گونج صرف سری نگر تک ہی محدود نہیں رہی، بلکہ بہت سے لوگ اپنے اپنے موبائل فونز پر اس ریلی کو لے کر فیس بک سمیت انٹرنیٹ کے مختلف ذرائع سے اپنے اہل خانہ تک براہ راست نشر بھی کر رہے تھے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: