உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نابینا عرفان احمد نے دنیا کی بلند ترین چوٹی پر قدم جمایا، ملک کے ساتھ ساتھ وادی کا نام کیا روشن

     انسان میں اگر حوصلہ ہو تو وہ ہر کسی طوفان کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے جس کی زندہ مثال ان معذور افراد نے پیش کی ہے جنہوں نے اپنی جسمانی کمزروی کو دور کر کے دنیا کی بلند ترین چوٹی پر قدم جمایا ہے۔

    انسان میں اگر حوصلہ ہو تو وہ ہر کسی طوفان کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے جس کی زندہ مثال ان معذور افراد نے پیش کی ہے جنہوں نے اپنی جسمانی کمزروی کو دور کر کے دنیا کی بلند ترین چوٹی پر قدم جمایا ہے۔

    انسان میں اگر حوصلہ ہو تو وہ ہر کسی طوفان کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے جس کی زندہ مثال ان معذور افراد نے پیش کی ہے جنہوں نے اپنی جسمانی کمزروی کو دور کر کے دنیا کی بلند ترین چوٹی پر قدم جمایا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    پندرہ اگست کو دہلی سے سوشل جسٹس منسٹر وریندر کمار نے سی ایل اے ڈبلیو جو کہ سابقہ فوجیوں کی ایک ایسوسی ایشن ہے کی ٹیم کو جن میں آٹھ معذور افراد شامل تھے کو سیاچن گلیشر پر ٹریکینگ کے لئے ہری جھنڈی دکھائی۔ جس کے بعد ٹیم نے ہماچل سے گاڑیوں میں سفرطے کرکے لیہہ سے پیدل ٹرکینگ شروع کی اور چھ دنوں کے سفر کے بعد ٹیم نے پندرہ ہزار چھ سو بتیس فٹ سیاچن گلیشر کی بلندی کمار پوسٹ تک پہنچ کر نیا عالمی ریکارڈ قایم کیا ہے جن میں قصبہ پانپور کے دسو علاقے کے عرفان احمد میر بھی شامل تھے عرفان بچپن سے ہی بینائی سے محروم ہے۔

    عرفان نے بچپن سے ہی ہمت سے کام لیا ہے عرفان بلاینڈ کرکٹ میں بھی اپنا نام کما چکے ہیں ۔ سابقہ فوجیوں کے سپیشل فورسز کی ایسوسی ایشن سی ایل اے ڈبلیو کے ڈائریکٹر میجر ارون پرکاش امباتی نے کہا کہ انہوں نے سابقہ پیرا کمانڈوں کی ایک ایسوسی ایشن بنائی ہے جو خاص طور معذور افراد کو ان کے حوصلے بنلد کرنے کے لئے انہیں ہر طرح کی ٹرینگ فراہم کرتے ہیں تاکہ یہ افراد اپنے جسمانی کمزرویوں سے پریشان نہ ہوں۔



    ارون نے بتایا کہ انہوں نے اپنی سروس کے دوران جو ٹرینگ حاصل کی ہے اس کا فایئدہ وہ ان افراد تک پہنچاتے جو جسمانی کمزروی کے شکار ہیں ۔ٹریکینگ کے دوران فوج نے انہیں کافی مدد فراہم کی ہے۔ سیاچن گلیشر کو سر کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے جہاں تندرست انسان بھی آسانی سے نہیں پہنچ نہیں پاتے ہیں تاہم ملک کے کئی ریاستوں کے ان سات معذور افراد نے سیاچن پر قدم رکھ کے ملک کا نام اونچا کیا ہے۔

    وہیں عرفان جب اپنے گاوں ٹریکینگ کے بعد واپس پہنچے تو وہاں ان کے ہمسایوں اور والدین نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور ٹیم میں شامل ساتوں افراد کو مالایئں پہنائی گئی۔ انسان میں اگر حوصلہ ہو تو وہ ہر کسی طوفان کے ساتھ مقابلہ کرسکتا ہے جس کی زندہ مثال ان معذور افراد نے پیش کی ہے جنہوں نے اپنی جسمانی کمزروی کو دور کر کے دنیا کی بلند ترین چوٹی پر قدم جمایا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: