உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آرٹیکل 370 کی سنوائی کو لے کر جموں وکشمیر کے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ پر امید

    آرٹیکل 370 کی سنوائی کو لے کر جموں وکشمیر کے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ پر امید

    آرٹیکل 370 کی سنوائی کو لے کر جموں وکشمیر کے دونوں سابق وزرائے اعلیٰ پر امید

    سپریم کورٹ کی جانب سے دفعہ 370 کی سلسلے میں دائر کی گئی عرضداشتوں کے تناظر میں معاملات کی سنوائ کی خبروں کو لیکر جموں کشمیر کے دونوں وزرائے اعلیٰ کافی پرامید ہیں۔ جموں کشمیر کے سابق وزراۓ اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دفعہ 370 معاملات کا نوٹس لینے کے بعد انہیں امید ہے کہ عدالت عظمیٰ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کا فیصلہ سنائے گی۔

    • Share this:
    جموں کشمیر: سپریم کورٹ کی جانب سے دفعہ 370 کی سلسلے میں دائر کی گئی عرضداشتوں کے تناظر میں معاملات کی سنوائ کی خبروں کو لیکر جموں کشمیر کے دونوں وزرائے اعلیٰ کافی پرامید ہیں۔ جموں کشمیر کے سابق وزراۓ اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دفعہ 370 معاملات کا نوٹس لینے کے بعد انہیں امید ہے کہ عدالت عظمیٰ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو بحال کرنے کا فیصلہ سنائے گی۔

    محبوبہ مفتی کے مطابق یہ حیران کن بات ہے کہ سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لینے میں 3 برس کا لمبا وقت صرف کیا اور اب بھی پتہ نہیں کہ معاملے کی سنوائ میں مزید کتنا وقت درکار ہوگا۔ تاہم محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں اس بات کی امید ہے کہ کورٹ دفعہ 370 کی بحالی اور اگست 2019 سے قبل کی پوزیشن کو واپس لاگو کرنے میں سپریم کورٹ اسکے حق میں فیصلہ سناۓ گی۔ اسی طرح کی راۓ این سی کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی قائم کر رہے ہیں۔

    عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے دفعہ 370 سے منسلک عرضداشتوں کو لسٹ کرنے سے انہیں اس بات کی امید قائم ہوئ ہے کہ جموں کشمیر کی منفرد اور خصوصی شناخت واپس قائم ہوگی۔  تاہم دونوں وزراۓ اعلیٰ نے ملک میں مزہبی منافرت کو ہوا دینے کیلئے بی جے پی پر الزامات عاید کۓ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلمانوں اور اقلیتوں پر بلڈوزر چلا کر بی جے پی ملک کے آئین و قوانین کو منہدم کر رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکزی حکومت آئے روز جموں کشمیر میں ایسے قوانین نافز کر رہی ہے جو یہاں کے عوام کے مخالف ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین کو واپس لیا جانا چاہیے تاکہ یہاں کے باشندوں کے حقوق کا تحفظ ممکن بن سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی کی وجہ سے جموں کشمیر کے لوگ اپنی زمینوں کے تحفظ اور نوکریوں کو لیکر کافی تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ جبکہ یہاں کے وسائل کو بھی مرکزی سرکار یہاں کے لوگوں سے چھین رہی ہے۔

    دوسری جانب، عمر عبداللہ نے بی جے پی پر مزہبی مداخلت کا الزام عاید کرتے ہوئے کڑی نقطہ چینی کی ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق بی جے پی مزہبی معاملات میں مداخلت کر کے اب یہ طے کر رہی ہے کہ لوگ کہا پہنے گے اور لوگ کیا کھاینگے۔ عمر عبداللہ کے مطابق اس طرح کے حربے ملک کے سیکولرازم کے لئے کافی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: