உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معصوم بچے کی دردناک موت سے وادی کشیمر میں مچی سنسنی، تیندوے نے لڑکے کو گھر سے اٹھاکر مردہ چھوڑا

    بڈگام کے ہرن سوئبگ میں تیندوے نے ایک بچے کو اپنا شکار بنالیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی سے یہ جانی نقصان ہواہے ۔ لوگوں میں انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف کے خلاف ناراضگی ہے ۔

    بڈگام کے ہرن سوئبگ میں تیندوے نے ایک بچے کو اپنا شکار بنالیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی سے یہ جانی نقصان ہواہے ۔ لوگوں میں انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف کے خلاف ناراضگی ہے ۔

    بڈگام کے ہرن سوئبگ میں تیندوے نے ایک بچے کو اپنا شکار بنالیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی سے یہ جانی نقصان ہواہے ۔ لوگوں میں انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف کے خلاف ناراضگی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    بڈگام کے ہرن سوئبگ میں تیندوے نے ایک دس سالہ بچے کو اپنا شکار بنایا۔ ایک بار پھر انتظامیہ کی لاپرواہی سے ایک اور بچے کی جان چلی گئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی سے یہ جانی نقصان ہوا۔ عین شاہدین کے مطابق تیندوے نے بچے کو اپنے گھر سے اٹھایا اور اپنے گھر سے دور کچھ ہی فاصلے پر اسے مردہ چھوڑ دیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جونہی انہیں اسکی اطلاع ملی تو پورے علاقے میں لوگوں نے بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی۔ بچے کی شناخت احران شوکت کے طور ہر ہوئی ہے۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سے لگاتار اپیل کے بعد بھی کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا محکمہ وائلڈ لائف علاقے میں آیا لیکن کوئی اقدام نہیں کیا۔ بچے کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے بعد بچے کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کی گئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بچے کی لاش اسکے گھر سے کچھ ہی دوری پر ایک بغیچے سے بر آمد کیا گیا اور بچے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔

    لوگوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی لاپرواہی سے یہ جانی نقصان ہوا۔


    بتادیں کہ رواں ماہ فروری سے لگاتار بڈگام کے مختلف علاقوں میں تیندوے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ ہم نے بھی انتظامیہ کو لگاتار خبردار کیا کہ تیندووں کو پکڑنے کے لئے کوئی اقدامات کرے۔ انتظامیہ نے اگرچہ کئی مقامات پر جھال بھی بجھائے لیکن بیشتر مقامات پر جھال خالی نظر آئے۔

    ہم آپ کو یہ بھی بتادیں انتظامیہ نے تو کئی مقامات پر تیندووں کو پکڑ بھی لیا لیکن جس طرح کا اقدامات اٹھانے چاہئے تھے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اگر اب بھی انتظامیہ متحرک نہیں ہوتی ہے تو بڈگام میں کئی اور ایسے واقعات دیکھنے کو ملیں گے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: