உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڈگام پولیس نےدو بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا۔ ممنوعہ مادہ برآمد

    واضح رہے کہ کشمیر میں آئے روز منشیات کے بڑھتے معاملات کی شکایات موصول ہوتی ہیں جنہیں روکنے کے لئے جگہ جگہ بیداری پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ پولیس بھی اس ناسور کو روکنے کے لیے کمربستہ ہیں۔

    واضح رہے کہ کشمیر میں آئے روز منشیات کے بڑھتے معاملات کی شکایات موصول ہوتی ہیں جنہیں روکنے کے لئے جگہ جگہ بیداری پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ پولیس بھی اس ناسور کو روکنے کے لیے کمربستہ ہیں۔

    واضح رہے کہ کشمیر میں آئے روز منشیات کے بڑھتے معاملات کی شکایات موصول ہوتی ہیں جنہیں روکنے کے لئے جگہ جگہ بیداری پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ پولیس بھی اس ناسور کو روکنے کے لیے کمربستہ ہیں۔

    • Share this:
    سماج سے منشیات کی لعنت کو روکنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے، وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام پولیس نے دو بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے ممنوعہ مادہ برآمد کیا۔بیروہ کے ہرد پنزو کراسنگ پر ناکے کی چیکنگ کے دوران پولیس چوکی ہردپنزو کی پولیس پارٹی نے دو افراد کو مشکوک انداز میں گھومتے ہوئے روکا ۔مذکورہ افراد کی تلاشی کے دوران پولیس پارٹی نے ان کے قبضے سے منشیات چرس برآمد کرکے انہیں موقع پر گرفتار کرلیا۔ گرفتار افراد کی شناخت لار بل داسن کے فردوس احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ اور ہرد لاتینا کےنثار احمد بھٹ ولد محمد رمضان بھٹ کے طور پر ہوئی۔ مقدمہ ایف آئی آر نمبر156/2021 این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت پولس اسٹیشن بیروہ میں درج ہے اور تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔کمیونٹی کے اراکین سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں منشیات فروشوں کے بارے میں کسی بھی معلومات کے ساتھ آگے آکر پولیس کو فوراً اطلاع فراہم کریں تاکہ منشیات فروشی میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ کشمیر میں آئے روز منشیات کے بڑھتے معاملات کی شکایات موصول ہوتی ہیں جنہیں روکنے کے لئے جگہ جگہ بیداری پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ پولیس بھی اس ناسور کو روکنے کے لیے کمربستہ ہیں۔ کشمیر میں یہ مشاہدہ کیاگیا ہےکہ اب چھوٹے چھوٹے بچے بھی منشیات کے عادی ہوگئے ہیں بچے چرس کا استعمال کرتے ہیں۔ ان دنوں مختلف جگہوں پر قدرتی طور پر آئی ہوئی بنگ سے چرس حاصل کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو خاتمے کی اورلے جاتے ہیں۔ کشمیر میں منشیات کے بڑھتے رجحان کو مختلف شخصیات نے افسوسناک قرار دیا۔

    معروف ماہر تعلیم پروفیسر عبد الجبار گوکہمی نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں آج گھر سے باہر نکلنے سے ڈر لگ رہا ہے کیونکہ باہر کسی نہ کسی جگہ پر کوئی نہ کوئی چرسی کا سامنا ہوتاہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشرہ اتنا بگھڑ چکا ہے کہ آج کسی کو نصیحت بھی نہیں کرسکتے ہیں۔اگر کسی سے بھی کچھ کہا جاتا ہے تو وہ حملہ آور ہوتاہے۔

    پروفیسر عبد الجبار نے کہاکہ ایسے سنجیدہ معاملات کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بیروہ کے مشہور تاجر محمد یوسف نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بیروہ میں منشیات کی لت سے نوجوان تباہی کی اور جارہے ہیں۔ یہاں آئے روز نوجوانوں کی شکایات سننے کو ملتے ہیں انہوں نے سرکار اور جموں وکشمیر پولیس سے اپیل کی کہ منشیات فروشوں کی چین کو توڑا جائے تاکہ معاشرہ سدھر سکے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: