உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڈگام پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکٹ کا کیا پردہ فاش، 3افراد گرفتار، کرنسی و سامان برآمد

    پولیس کے مطابق پوچھ گچھ پر مذکورہ شخص نے اپنے گھر بالی ہارن سنگھ پورہ بارہمولہ میں جعلی کرنسی نوٹ چھاپنے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

    پولیس کے مطابق پوچھ گچھ پر مذکورہ شخص نے اپنے گھر بالی ہارن سنگھ پورہ بارہمولہ میں جعلی کرنسی نوٹ چھاپنے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

    پولیس کے مطابق پوچھ گچھ پر مذکورہ شخص نے اپنے گھر بالی ہارن سنگھ پورہ بارہمولہ میں جعلی کرنسی نوٹ چھاپنے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

    • Share this:
    بڈگام پولیس نے جعلی کرنسی کے ریکیٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کیا، جعلی کرنسی نوٹ اور دیگر سامان ضبط کیاگیا۔وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے ناربل میں ناکہ چیکنگ کے دوران ناربل چوکی کی پولیس پارٹی نے رجسٹریشن نمبر *JK01AB/9599* والی ایک گاڑی کو روکا جس کو ایک توفیق حسین خواجہ ولد محمد اکبر خواجہ ساکنہ بالی ہارن سنگھ پورہ پٹن بارہمولہ چلا رہا تھا۔ تلاشی کے دوران گاڑی سے پینتالیس ہزار *45,000 مالیت کے پرنٹ شدہ جعلی کرنسی نوٹ برآمد ہوئے۔

    پولیس کے مطابق پوچھ گچھ پر مذکورہ شخص نے اپنے گھر بالی ہارن سنگھ پورہ بارہمولہ میں جعلی کرنسی نوٹ چھاپنے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اسی مناسبت سے ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور تلاشی کے دوران جعلی کرنسی نوٹوں کی چھپائی کے لیے استعمال ہونے والی مندرجہ ذیل اشیاء برآمد ہوئیں جن میں 02 پرنٹرز،ایک کاغذ کٹر،02 بانڈ پیپر کے ریمس،01 موبائل فون، 10 بانڈ پیپرز پر چھپے ہوئے 100 کے جعلی کرنسی نوٹ برآمد ہوئے۔

    پولیس پریس بیان کے مطابق مسلسل پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اپنے دو ساتھیوں کے نام بھی بتائے جن میں فاروق احمد گنائی ولد احد گنائی ساکنہ کلسری پٹن اور عبدالحمید گنائی ولد غلام رسول گنائی ساکنہ برن پٹن شامل ہیں یہ ملزمین بازاروں میں جعلی کرنسی نوٹ پھیلا رہے تھے یہ دکانوں سے سازوسامان بھی ان ہی پیسوں سے خریدتے تھے۔دکانداروں کی آنکھوں پر یہ لوگ چونا ڈالتے تھے۔

    پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کرکے پولس چوکی نارہ بل منتقل کردیا گیا ہے جہاں وہ زیر حراست ہیں۔پولیس اسٹیشن ماگام میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ ایف آئی آر نمبر *262/2021* درج کیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہناہے اس معاملے میں مزید گرفتاریاں اور بازیابی بھی متوقع ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: