உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر : بدلتے زمانے میں بھی تختی پر لکھنے کی روایت کو اس سرکاری اسکول کے تین اساتذہ رکھتے ہوئے قائم

    جموں و کشمیر : بدلتے زمانے میں بھی تختی پر لکھنے کی روایت کو اس سرکاری اسکول کے تین اساتذہ رکھتے ہوئے قائم

    جموں و کشمیر : بدلتے زمانے میں بھی تختی پر لکھنے کی روایت کو اس سرکاری اسکول کے تین اساتذہ رکھتے ہوئے قائم

    Jammu and Kashmir : جہاں پرانے دور میں تختی کو بہترین لکھائی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا تو وہیں بدلتے زمانے نے یہ روایت تقریباً معدوم کردی ہے، لیکن وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام نارہ بل کے گنڈ خلیل گاؤں میں قائم گورنمنٹ پرائمری اسکول کے تین اساتذہ اب بھی اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu | Badgam
    • Share this:
    جموں و کشمیر : گورنمنٹ پرائمری اسکول گنڈ خلیل نارہ بل بڈگام نے طلبہ کی لکھائی کو بہتر بنانے کے لیے معدوم ہوتی ہوئی تختی کی مشق کو بحال کیا ہے۔ جہاں پرانے دور میں تختی کو بہترین لکھائی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا تو وہیں بدلتے زمانے نے یہ روایت تقریباً معدوم کردی ہے، لیکن وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام نارہ بل کے گنڈ خلیل گاؤں میں قائم گورنمنٹ پرائمری اسکول کے تین اساتذہ اب بھی اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ايک زمانہ تھا جب تختی پرلکھائی نہ صرف ذریعہ تعلیم ہوتا تھا بلکہ بچوں کی لکھائی میں نکھار کا سبب بھی بنتا تھا۔ تختی لکھنے سے بچوں کی خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ایسا ہی گنڈ خلیل میں گورنمنٹ پرائمری سکول کے اساتذہ اپنے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کررہے ہیں۔

    اسکول کے استاد نثار احمد نے نیوز18 کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چند سال پہلے محکمہ تعلیم کے افسران نے ان کے اسکول کا دورہ کیا ۔ اس دوران انہوں نے تختی کو اسکول میں دوبارہ رائج کرنے کا مشورہ دیا۔ نثار احمد نے کہا کہ چند سال پہلے جب محکمہ تعلیم سے کچھ افسران اسکول کا معائنہ کرنے کے لئے آئے تو بچوں کی اہلیت کو دیکھتے ہوئے مجھے مشورہ دیا کہ آپ یہاں بچوں سے تختی سیاہ استعمال کروائیں، جس سے ان کی لکھائی میں بہتری آئے گی۔ پہلے میں پریشان تھا کہ یہ پہل رنگ لائے گی کہ نہیں، میں اگلے روز بچوں کے والدین کو بلایا اور انہیں اس بات کا مشورہ دیا والدین نے اس اقدام کو سراہا جس سے انہیں  بھی ہمت آئی اور پھر اگلے روز سے بچوں نے اسکول میں تختی لانا شروع کیا ۔ بچے خوش نظر آئے اورانہوں نے اچھی طرح لکھنا شروع کیا۔

    نثار احمد نے مزید کہا کہ رفتہ رفتہ جب بچوں نے تختی لکھنا شروع کیا تو ان کی ہینڈ رائٹنگ میں کافی بہتری نظر آنی شروع ہوئی اور والدین بھی کافی خوش ہوئے ۔ انہوں نے اسے جاری رکھنے پر زور دیا ۔ یہ ایک فطرتی عمل ہے کہ ہر کوئی خوبصورت چیز اور لکھائی دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ خطاطی بھی ایک خوبصورتی ہے۔ ہینڈ رائٹنگ اور اس کلچر کو دوبارہ بحال کرنےکے مقصد سے اساتذہ کرام نے اس طرح پہل شروع کی۔ نثار احمد نے نیوز18 کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو اردو، کشمیری اور انگریزی کی مشق کرواتے ہیں۔ جس سے انہیں تینوں زبانوں میں لکھائی اچھی ہوتی ہے۔ بچوں کو اس سے فائدہ بھی ہوتاہے کہ انہیں تختی لکھنے سے سبق بھی زبانی یاد ہوتاہے۔

    یہ بھی پڑھئے : کشمیری پنڈتوں کے ٹارگیٹ کلنگ پر سیاسی لیڈران کی الزام تراشیاں، پھر کون ہے آخر ذمہ دار؟


    یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کی مذہبی سیاست کو الیکشن کمیشن کر رہا ہے ان دیکھا: محبوبہ مفتی


    نارہ بل کے گنڈ خلیل گاؤں میں قائم اس گورنمنٹ پرائمری اسکول میں ساٹھ بچے زیر تعلیم ہیں۔ اول سے پانچویں جماعت تک تمام بچے تختی لکھ کر اسکول لاتے ہیں۔ صبح مارنگ اسمبلی پر ان بچوں کی باریک بینی سے چیکنگ ہوتی ہے۔ تختی لکھنے پر بچے کافی خوش نظر آئے۔ کچھ طالب علموں نے نیوز18 کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اچھا لگتا ہے اور وہ دلچسپی سے اپنے گھر میں تختی لکھتے ہیں۔ ان کے گھر والے بھی خوش ہوتے ہیں۔ طالب علموں کے والدین نے کہا کہ تختی پر لکھنے کی وجہ سے ان کے بچوں کی ہینڈ رائٹنگ یعنی لکھائی میں بہت بہتری آئی ہے اورتختی سے تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

    والدین کا کہنا ہے کہ یہ روایتی تحریری ٹول پرائمری سطح کی تعلیم میں اپنی اہمیت اور جگہ رکھتا ہے اور اسے اسکولوں میں جاری رکھا جانا چاہئے۔ ایک والد نے نیوز18 کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب اس اسکول کے اساتذہ نے یہ مشورہ دیا تو ہم نے اسے قبول کیا اور ہم چاہتے ہیں بچوں کی ہینڈ رائٹنگ اچھی ہواسی لئے ہم نے اساتذہ کو اس کام میں تعاون دیا۔ تختی لکھنا کبھی نہ صرف ذریعہ تعلیم ہوتا تھا بلکہ بچوں کی لکھائی میں نکھار کا سبب بھی بنتا تھا، مگر جدید دور نے اسکولی بچوں سے قلم ،دوات اور تختی کا اثاثہ بھی چھین لیا ۔ تاہم گورنمنٹ پرائمری سکول گنڈ خلیل کی پہل شاید رنگ لائے گی اور آنے والے وقت اسے تمام اسکولوں میں دوبارہ رائج کیاجائےگا۔

    اس فن کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ایسے مواقع پیدا کرنے ہوں گے تاکہ طلبہ میں تختی اور فن خطاطی کا شوق پیدا ہو اور یہ فن  مفقود ہونےسے  بچ جائے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: