உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں Darbar Move کی روایت بند ہونے سے کاروبار متاثر، تاجر فکر مند

      تاجر انوپ جین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سےسال میں دو بار دربار مو کی روایت چلی آرہی تھی جس سے جموں اور سرینگر کے تاجر طبقے کی آمدن میں اضافہ ہوتا تھاتاہم اس روایت کو بند کرنے سے تاجر برادری پریشان ہے۔ 
Cancellation of Darbar Move hits Jammu business Traders worried jkman snm

    تاجر انوپ جین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سےسال میں دو بار دربار مو کی روایت چلی آرہی تھی جس سے جموں اور سرینگر کے تاجر طبقے کی آمدن میں اضافہ ہوتا تھاتاہم اس روایت کو بند کرنے سے تاجر برادری پریشان ہے۔ Cancellation of Darbar Move hits Jammu business Traders worried jkman snm

    تاجر انوپ جین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سےسال میں دو بار دربار مو کی روایت چلی آرہی تھی جس سے جموں اور سرینگر کے تاجر طبقے کی آمدن میں اضافہ ہوتا تھاتاہم اس روایت کو بند کرنے سے تاجر برادری پریشان ہے۔ Cancellation of Darbar Move hits Jammu business Traders worried jkman snm

    • Share this:
    جموں و کشمیر میں گزشتہ برسوں کے برعکس اس بار موسم سرما کے دوران کاروبار پھیکا پڑ گیا ہے۔ اس کی خاص وجہ دربار مو کی معطلی بتائی جارہی ہے۔ ماضی میں دربار مو کی منتقلی کے ساتھ ہی جموں شہر میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہوجاتی تھیں اور بازاروں میں کشمیری خریداروں کی خاصی تعداد خریداری کرتے ہوئے دیکھنے کو ملتی تھی تاہم رواں برس دربار مو کی مکمل منتقلی نا ہونے کی وجہ سے جموں شہر کے بازاروں کی رونق فیکی پڑ گئی ہے۔ جموں کے تجارت پیشہ افراد کا کہنا ہے کہ ایل جی انتظامیہ کی طرفسے دربار مو کی منتقلی کو منسوخ کرنے سے یہاں کی تجارت پر منفی اثر پڑا ہے۔ جموں کے ایک کاروباری جوگیندر گُپتا کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران کورونا وبا کی وجہ سے تجارت پیشہ افراد کو کافی نقصانات سے دوچارہونا پڑا حالانکہ اب کورونا کے حالات میں سُدھار آنے کے ساتھ ہی تجارت دوبارہ شروع ہوچکی ہے تاہم اب بھی تاجر امیدوں کے مطابق کاروبار نہیں کر پارہے ہیں ۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکمل دربار مو نہ ہونے کے سبب بہت کم تعداد میں لوگ جموں آرہے ہیں جس کے باعث تجارت پر منفی اثر پڑا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں دربار مو کے ساتھ ہی ہزاروں کی تعداد میں کشمیری عوام موسم سرما کے دوران جموں میں تقریبا پانچ ماہ کے لئے منتقل ہوتے تھے نتیجے کے طور پر جموں شہر میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ جاتی تھیں اور تاجر وں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا تھا تاہم رواں برس ابھی تک ایسا دیکھنے کو نہیں ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تو کورونا کی وجہ سے تاجروں کو مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا اور اب دربار مو نہ ہونے نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ ایک اور تاجر انوپ جین نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کئی دہائیوں سےسال میں دو بار دربار مو کی روایت چلی آرہی تھی جس سے جموں اور سرینگر کے تاجر طبقے کی آمدن میں اضافہ ہوتا تھاتاہم اس روایت کو بند کرنے سے تاجر برادری پریشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دربار مو نہ ہونے کی وجہ سے ان دنوں جموں کے بازاروں میں پہلے جیسی رونق دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ چاہتا ہے کہ انکی مالی حالت کو بہتر بنانے کے لئے دربار مو کی روایت کو دوبارہ بحال کیا جائے اور یہاں کے تجارت پیشہ افراد کو مزید نقصان ہونے سے بچایا جاسکے۔ ٹیورازم ایڈوائیزری بورڈ کے ممبر روی مہاجن نے کہا کہ جموں کے تجارت پیشہ افراد آج کل مایوس ہیں۔

    نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دربار مو کی ڈیڈھ سو سال پرانی روایت کو بند کرنے سے جموں کے کاروبار میں کافی نقصان ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موسم گرما کے دوران دربار مو کے ساتھ ہی جموں سے کافی تعداد میں لوگ کشمیر چلے جاتے تھے جبکہ کشمیر کے لوگ موسم سرما کے دوران جموں کا رُخ کرتے تھے اور اسطرح دونوں خطوں میں تجارت کو بڑھاوا م،لتا تھا۔ لہذا ہماری مانگ ہے کہ دربار مو کو دوبارہ بحال کیا جائے۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ارون گُپتا کا کہنا ہے کہ جموں کی تجارتی سرگرمیوں پر زیادہ منفی اثر نہٰں پڑے گا کیونکہ سرکار نے کہا ہے کہ کچھ محکموں کو چھوڑ کر باقی محکمے ماضی کی طرح ہی منتقل ہوتے رہیں گے۔انہوں نے کہا حالانکہ ابھی جموںکے بازاروں میں کشمیری خریداروں کی کم تعداد نظر آرہی ہے لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔

    گُپتا نے کہا کہ ماضی میں بھی نومبر مہینے میں دربار مو کے ساتھ ہی صرف ملازمین ہی آیا کرتے تھے جبکہ انکے افراد خانہ دسمبر مہینے کے وسط سے جموں کا رُخ کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں چیمبر آف کامرس نے سرکار سے اپیل کی تھی کہ دربار مو کو جاری رکھا جائے اور سرکار نے کافی حد تک انکی مانگ پوری کرلی ۔گُپتا نے کہا کہ پندرہ دسمبر کے بعد کافی تعداد میں کشمیر سے لوگ جموں کا رُخ کریں گے اور ماضی کی طرح ہی یہاں کے تضارتمیں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس برس کشمیر سے آنے والے لوگوں کی تعداد میں پانچ سے دس فی صد کمی واقع ہوسکتی ہے تاہم اس سے کاروبار پر زیادہ منفی اثر نہیں پڑے گا۔ واضح رہے کہ ایل جی انتظامیہ نے رواں برس جولائی کے مہینے میں ایک حُکمنامہ جاری کرکے لگھ بھگ ایک سو پچاس سال پرانی دربارر مو کی روایت کو یہ کہکر منسوخ کیا تھا کہ اس سے سرکار خزانہ عامرہ پر دو سو کروڈ روپئے سالانہ کی بچت ہوگی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: