உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: پولیس سب انسپکٹر اسامیوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں سی بی آئی کی چھاپہ ماری

    جموں وکشمیر پولیس سب انسپکٹر اسامیوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں سی بی آئی کی چھاپہ ماری. فائل فوٹو

    جموں وکشمیر پولیس سب انسپکٹر اسامیوں کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں سی بی آئی کی چھاپہ ماری. فائل فوٹو

    جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹر اسامیوں کے لئے تحریری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں ملک کی تحقیقاتی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن کے مطابق ہریانہ میں مقیم ایک گینگ جموں وکشمیر کے سب انسپکٹر بھرتی گھوٹالے میں ملوث ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    سری نگر: جموں وکشمیر پولیس میں سب انسپکٹر اسامیوں کے لئے تحریری امتحانات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے سلسلے میں ملک کی تحقیقاتی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کے مطابق ہریانہ میں مقیم ایک گینگ جموں وکشمیر کے سب انسپکٹر بھرتی گھوٹالے میں ملوث ہے اور اس کی تار مزید کہاں تک جائے گی، اس کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔
    ایک مقامی نیوز ایجنسی کے مطابق سی بی آئی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ جموں، سری نگر سمیت 36 مقامات پر تلاشی لی گئی ہے۔ ہریانہ کرنال، مہندر گڑھ ریواڑی، گجرات مگاندھی دھام، دہلی، اترپردیش غازی آباد اور کرناٹک بنگلورو کے علاوہ جے کے ایس ایس بی کے سابق چیئرمین، جے کے ایس ایس بی کے اس وقت کے جے کے امتحان کنٹرولر، ہریانہ میں مقیم گینگ کے ارکان، کچھ اساتذہ، جے اینڈ کے پولیس کے کچھ حاضر سروس/ریٹائرڈ اہلکاروں بشمول ڈی ایس پی اور سی آر پی ایف اہلکار کے احاطے کی تلاشی لی گئی۔ ذارئع کے مطابق  تلاشی کارروائیوں کے دوران اب تک مجرمانہ دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد برآمد کئے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ سب انسپکٹر اسامیوں کے تحریری امتحانات کے بعد دھاندلیوں کے الزامات کے مدنظرجموں وکشمیر حکومت نے اس کی جانچ کے لئے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی۔ یہ الزام لگایا گیا تھا کہ  جے کے ایس ایس بی، بنگلورو کی پرائیویٹ کمپنی کے عہدیداروں، فائدہ اٹھانے والے امیدواروں اور دیگر کے درمیان سازش کی اور سب انسپکٹرز کے عہدوں کے تحریری امتحان کے انعقاد میں زبردست بے ضابطگیاں کی گئی ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and Kashmir: آرٹیکل 370 نہ میں واپس دلا سکتا ہوں، نہ کانگریس، نہ پوار اور نہ ممتا- بارہمولہ میں بولے غلام نبی آزاد

    مزید یہ الزام بھی لگایا گیا کہ جموں، راجوری اور سانبہ اضلاع سے منتخب امیدواروں کی غیر معمولی حد تک زیادہ فیصد تھی۔ جے کے ایس ایس بی کی طرف سے مبینہ طور پر بنگلورو کی پرائیویٹ کمپنی کو سوالیہ پرچہ ترتیب دینے کا کام سونپتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی پائی گئی۔

    اس سے قبل 5 اگست کو جموں، سری نگر، بنگلورو وغیرہ سمیت 30 مقامات پر تلاشی لی گئی تھی۔ ذارئع کے مطابق تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ امتحان کے آغاز سے قبل سوالیہ پرچہ تک رسائی کے لیے رضامند امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے مبینہ طور پر 20 سے 30 لاکھ روپئے کی ادائیگی کی گئی۔ ذارئع کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں اس سلسلے میں، ہریانہ میں مقیم ایک گینگ، جموں و کشمیر کے کچھ اساتذہ، سی آر پی ایف، جے اینڈ کے پولیس اور جے کے ایس ایس بی کے کچھ حاضر/ریٹائرڈ اہلکاروں کی شمولیت مبینہ طور پر سامنے آئی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: