ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحد اورLOC پر جنگ بندی معاہدے پر عمل سے رہائش پذیروں نے لی راحت کی سانس

فائر بندی معاہدے Ceasefire کے چار ماہ مکمل ہونے پر کنٹرول لائن اور سرحد سے متصل علاقوں میں آباد لوگ دیگر علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی طرح ہی روزمرہ کے کام انجام دے پارہے ہیں۔

  • Share this:
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحد اورLOC پر جنگ بندی معاہدے پر عمل سے رہائش پذیروں نے لی راحت کی سانس
فائر بندی معاہدے Ceasefire کے چار ماہ مکمل ہونے پر کنٹرول لائن اور سرحد سے متصل علاقوں میں آباد لوگ دیگر علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی طرح ہی روزمرہ کے کام انجام دے پارہے ہیں۔

جموں و کشمیر: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحد اور کنٹرول لائن ( LOC in J&K) پر جنگ بندی کے معاہدے پر عمل ہوجانے کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ فائر بندی معاہدے Ceasefire کے چار ماہ مکمل ہونے پر کنٹرول لائن اور سرحد سے متصل علاقوں میں آباد لوگ دیگر علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی طرح ہی روزمرہ کے کام انجام دے پارہے ہیں۔ برسات کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے کئی پہاڑی علاقوں میں دھان کی کھیتی شررو ہوچکی ہے۔ سرحدوں اور کنٹرول لائن پر خاموش اور امن کے حالات پیدا ہونے جانے سے یہاں کے کسان ان دنوں دھان کی پنیری لگانے میں مشغول ہیں۔ پونچھ ضلع کے ان سرحدی علاقوں میں لوگ اکثر پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی خوف کے سائے میں گزارتے تھے کیونکہ پاکستان بساوقات شہری آبادی کو نشانہ بناتا تھا جس کی وجہ سے علاقے کے کسان کھیتی باڑی کرنے سے قاصر تھے۔ تاہم اب جنگبندی معاہدے پر عمل آوری کی وجہ سے وہ بلا خوف کے دیگر افراد کے ہمراہ کھیتی باڑی انجام دے رہے ہیں۔


کسانوں کی خوشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دھان کی پنیری لگانے کے دوران ڈھول بجاکر کھیتی باڑی کرنے والے ساتھیوں کی تفریح کرتے ہیں۔ سرحدی ضلع کے پونچھ کے کنٹرول لائن سے ملحقہ علاقوں اجوت، کھاری ، کرماڑا اور دیگر علاقوں کے کسان کئی برسوں کے بعد ایک پرامن ماحول میں کھیتی باڑی انجام دے رہے ہیں۔ جہانگیر احمد خان نامی ایک کسان نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری کی وجہ سے علاقے کے لوگ ہمیشہ خوف کے سائے میں رہتے تھے اور یوں ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہوتی تیں تاہم گزشتہ چار ماہ سے علاقے کے لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کے کسان بغیر کسی خوف کے کھیتوں میں کام کر رہے ہیں۔


سرحدی ضلع کے پونچھ کے کنٹرول لائن سے ملحقہ علاقوں اجوت، کھاری ، کرماڑا اور دیگر علاقوں کے کسان کئی برسوں کے بعد ایک پرامن ماحول میں کھیتی باڑی انجام دے رہے ہیں۔


ایک اور کسان روہت شرما نے نیوز ایٹین کو بتایا کہ پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری بند ہونے کے بعد لوگ اب کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے دیگر کام بھی انجام دے پارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ چاہتے ہیں کہ کنٹرول لائن اور سرحد پر فائیر بندی ہمیشہ کے لئے قائیم رہے تاکہ وہ ملک کے دیگر باشندوں کی طرح پر امن زندگی بسر کرسکیں۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او ز نے پچیس فروری دو ہزار اکیس سے سرحد اور کنٹرول لائن پر فائیر بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کا اعلان کیا تھا۔ اگرچہ تب سے سرحدوں اور کنٹرول لائن پر فائیر بندی جاری ہے چونکہ پاکستان کبھی بھی کوئی شرارت انجام دے سکتا ہے۔ لہذا ہندوستان کی طرف سے سرحدوں اور کنٹرول لائن پر چوکسی لگاتار جاری ہے۔ یہ ہندستانی افواج کی چوکسی کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے سرحد کے اس پار منشیات اور ہتھیار بیجنے کی کئی کوششیں ماضی قریب میں ناکام بنا دی گئیں۔

واضح رہے کہ بی ایس ایف نے رواں ماہ کی ۲۳ تاریخ کو جموں و کشمیر کے کٹھوعہ سیکٹر میں منشیات کی ایک بڑی کھیپ کو سرحد کے اسپار بیجنے کی کوشش کو ناکام کیا تھا۔ اس کاروائی کے دوران ستائیس پیکیٹ ہیروین برآمد کی گئی اور اس دوران ایک پاکستانی اسمگلر بھی مارا گیا۔ دریں اثناء شمالی کشمیر کے ٹنگڈار علاقے میں کپواڑہ پولیس نے فوج کی 7 راشٹریہ رایفلز اور 87 بٹالین بی ایس ایف کے ساتھ مل کر دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا جبکہ نارکو ٹیررازم کی ایک کوشش کو بھی اس دوران ناکام بنا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یہ کوشش ایک مصدقہ اطلاع کی بنا پر ناکام بنا دی گئی جس کے تحت دراندازوں کا تعاقب کیا گیا اور اس دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی ضبط ہوا۔ ضبطی میں ایک اے کے۔47 رائفل ، ایک پستول ، 2 دستی بمب و دیگر گولہ بارود بھی شامل ہے۔ اسکے علاوہ نارکوٹکس کو بھی سیکورٹی فورسز نے برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی دستوں نے ہیروئن کے 06 پیکٹ برآمد کر لئے جن کی قیمت تقریبا 30 کروڑ سے زائد بتائ جا رہی ہے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 25, 2021 07:33 PM IST