ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

فائربندی کی خلاف ورزی، نصف درجن سے زائد آشیانےگولہ باری میں خاکستر

کپواڑہ ضلع سے محض 40 کلو میٹرکی دوری پر واقع تمنہ چوکی بل میں اس وقت افراتفری اورکہرام مچ گیا جب اچانک ہوئی اس گولہ باری کے نتیجے میں کئی شیل اس بستی میں آگرے۔

  • Share this:
فائربندی کی خلاف ورزی، نصف درجن سے زائد آشیانےگولہ باری میں خاکستر
فائربندی کی خلاف ورزی، نصف درجن سے زائد آشیانے گولہ باری میں خاکستر

کپواڑہ: سرحدی ضلع کپواڑہ میں گولہ باری سے ہوئی تباہی کے اثرات آج دوسر ے روز صاف واضح ہوگئے، جہاں نصف درجن سے زائد آشیانےگولہ باری میں خاکستر ہوگئے ہیں۔ وہیں تین افراد ہلاکتوں کو لےکر تمنہ چوکی بل اور ریڈی کی بستیوں میں خوف و ہراس کے ساتھ ساتھ لوگوں نے آہ و وزاری میں کاٹ دی۔ پہلی مرتبہ ضلع صدر مقام کپواڑہ سے محض 30 کلو میٹرکی دوری پر واقع بستیاں گولہ باری کی زد میں آگئی اورد ن دہاڑے ہوئی اس قیامت خیز گولہ باری نے پوری بستی میں کہرام مچا دیا۔ ٹھیک 3بجے اچانک کرناہ اور کیرن سیکٹروں میں آر پارگولہ باری شروع ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے گولہ باری کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور بستیوں میں آکرگولےقہر بن کرگرنے لگے۔


دلچسپ بات یہ ہےکہ کپواڑہ ضلع سے محض 40 کلو میٹرکی دوری پر واقع تمنہ چوکی بل میں اس وقت افراتفری اورکہرام مچ گیا جب اچانک ہوئی اس گولہ باری کے نتیجے میں کئی شیل اس بستی میں آگرے۔ چنانچہ ایک شیل وہاں رہائشی مکان پر آگرا، جس کی وجہ سے اس نے آگ پکڑلی اور یوں تباہی کےلپٹیں آسمان کو چھونےلگیں۔ اسی دوران اپنی ماں کےساتھ گھر کےآنگن میں کھیلنے والا 4 سالہ بچہ شیل کی زد میں آکر وہیں خون میں لت پت ہوکر گر پڑا۔


 کپواڑہ ضلع سے محض 40 کلو میٹرکی دوری پر واقع تمنہ چوکی بل میں اس وقت افراتفری اورکہرام مچ گیا جب اچانک ہوئی اس گولہ باری کے نتیجے میں کئی شیل اس بستی میں آگرے۔
کپواڑہ ضلع سے محض 40 کلو میٹرکی دوری پر واقع تمنہ چوکی بل میں اس وقت افراتفری اورکہرام مچ گیا جب اچانک ہوئی اس گولہ باری کے نتیجے میں کئی شیل اس بستی میں آگرے۔


چنانچہ ماں کی نظر اس پر پڑتے ہی اس نے آنکھیں موندھ لی۔ چنانچہ ماں نےخون مین لت پت اپنے جگر گوشے کو گود میں لےلیا اور وہ دم توڑگیا، جس کے ساتھ ہی ماں کی گودشیلنگ کے باعث ہمیشہ کیلئے اجڑگئی اور یوں شیلنگ کا قہر وہیں تھما نہیں بلکہ ادھر ریڈی میں بھی کئی رہائشی مکان گولہ باری کی زد میں آگئے اورہرطرف آگ پھیل گئی اور ایک مکان کے زمین بوس ہونے کے ساتھ ہی پانچ بچوں کی ماں بھی اپنے معصوموں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئےچھوڑ گئےاور وہ یتیم ہوگئے۔ جبکہ ایک 18 سالہ نوجوان بھی شیلنگ کی زد میں آکر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

اس علاقے میں شیلنگ کےساتھ ہی خوف وہراس اور چیخ وپکارکا عالم تھا۔ چنانچہ پوری بستیوں میں رات بھر آہ وزاری کا عالم تھاجبکہ وہ ماں باربار آسمان کی طرف نگاہ اٹھاکر اپنی بے بسی کا اظہار کر رہی تھی اور رات بھر تمنہ چوکی بل، ریڈی اور چوکی بل میں لوگ خون کے آنسو روتے رہے۔ ادھر معصوم بچے سمیت تینوں مارے گئے افراد کو نم آنکھوں سے سپردخاک کیا گیا ہے اور یہ سوال کرتے رہےکہ اگر مخاصمت دو ممالک کے درمیان ہے تو پھران کے بچوں کو درگورکرکےکیوں سزا دی جارہی ہے۔
First published: Apr 13, 2020 06:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading