உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے قبائلیوں کو با اختیار بنانے کیلئے کر رہی ہیں اقدامات

    مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے قبائلیوں کو با اختیار بنانے کیلئے کر رہی ہیں اقدامات

    مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے قبائلیوں کو با اختیار بنانے کیلئے کر رہی ہیں اقدامات

    Jammu and Kashmir : دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ان قبائلی برادریوں کو ان کے سماجی اور سیاسی حقوق مل سکیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
    جموں و کشمیر : دوہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر میں درج فہرست قبائلیوں کا کل آبادی کا 11.9 فیصد ہے۔ آبادی کا ایک بڑا حصہ ہونے کے باوجود گجر، بکروال اور دیگر قبائلی ماضی میں یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ جموں و کشمیر اور مرکز کی لگاتار حکومتوں کی طرف سے انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ تاہم دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ ان قبائلی برادریوں کو ان کے سماجی اور سیاسی حقوق مل سکیں۔ "فاریسٹ رائٹس ایکٹ" کا نفاذ ایسے ہی اقدامات میں سے ایک ہے، جس نے جموں و کشمیر کی گجر اور بکروال طبقے کو با اختیار بنایا ہے۔ مرکزی حکومت کے ایک حالیہ اقدام میں ہندوستان کے صدر نے گجر رہنما غلام علی کھٹانہ کو راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا گیا۔ قبائلی برادری کے رہنماؤں نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا۔ قبائلی رہنماؤں نے پانچ اگست دوہزار انیس کے بعد سے حکومت کے اقدامات کو سراہا۔

    آل گجر بکروال کوآرڈینیشن کمیٹی کے کنوینر انور چوہدری نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت گجروں اور بکروال برادری کو سماجی اور سیاسی بااختیار بنانے کے لیے پابند ہے۔ انہوں نے کہا " قوانین پہلے سے موجود تھے۔ تاہم جموں و کشمیر میں متواتر حکومتوں نے کبھی بھی ان قوانین کو نافذ نہیں کیا تاہم آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد جنگلات کے حقوق ایکٹ جیسے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا گیا ہے، جس سے قبائلی طبقے کے افراد کو زمین پر حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ جو صدیوں سے جنگلاتی علاقوں میں آباد ہیں۔

     

    یہ بھی پڑھئے: پہلگام میں اپنی نوعیت کی پہلی ایکوائن بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر


    گوجر لیڈر غلام علی کی راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت ان لوگوں کو موقع دینے میں یقین رکھتی ہے جو عام اور نظر انداز طبقات اور برادریوں کے لیے زمینی کام کر رہے ہیں"۔ گوجروں اور بکروالوں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے کمیونٹی ممبران کے درمیان اعتماد پیدا ہوا۔ اب وہ پرامید ہیں کہ یہ اقدامات طبقے کی ترقی کو یقینی بنائیں گے اور اس معاشرے کی تعمیرو ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: اچھی پراسیکیوشن کے ساتھ اچھی جانچ UAPA مقدمات میں سزا کی شرح کو بڑھانے میں کارگر ہوں گی


    قبائلی محقق ڈاکٹر جاوید راہی کا کہنا ہے کہ 05 اگست 2019 کے بعد کمیونٹی کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے قبائلی برادری کے لیے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے، 05 اگست 2019 سے پہلے بہت سے ایسے اقدامات کیے گئے جن پر عمل نہیں کیا گیا۔ حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگلات کے ایکٹ کے نفاذ سے تقریباً 3000 بکروالوں کو فائدہ پہنچا ہے، جو کہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ گجر اور بیکروال جنہیں پچھلی حکومتوں نے نظر انداز کیا تھا اب انہیں ان کے حقوق مل رہے ہیں۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں حد بندی کے عمل کے دوران حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر میں درج فہرست قبائل کے لیے نو اسمبلی حلقے مختص کیے ہیں۔ جس کا کمیونٹی ممبران نے خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے ان کی آواز سنی جائے گی اور حقیقی مسائل حل کئے جائیں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: