உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر میں اکتوبرسخت أزمائشی مہینہ رہا، عام شہریوں اورجوانوں کا جانی نقصان، تحقیقات جاری

    جموں وکشمیر سے متعلق داخلی سیکورٹی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔ فائل فوٹو

    جموں وکشمیر سے متعلق داخلی سیکورٹی رپورٹ میں یہ بات کہی گئی ہے۔ فائل فوٹو

    جموں و کشمیر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی تحقیقات اور تلاش شروع کردیا ہے، جنہوں نے ایک ہفتہ قبل تین شہریوں کے ساتھ ساتھ دو دیگر کو ہلاک کیا تھا، اس کے بعد 7 اکتوبر کو مزید عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اس بار اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے دو اساتذہ بھی نشانہ بنے۔

    • Share this:
      جموں و کشمیر (Jammu and Kashmir) میں سیکورٹی فورسز اور پولیس کے لیے اکتوبر ایک چیلنجنگ مہینہ رہا ہے، جس میں مرکز کے زیر انتظام علاقے (UT) میں کئی انکاؤنٹر، شہری ہلاکتیں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان جانی نقصان ہوا۔

      اکتوبر کے پہلے دن شمیم صوفی Samim Sofi اور کامران بشیر Kamran Bashir سمیت چار دہشت گردوں کو جموں و کشمیر پولیس نے گرفتار کیا تھا، جبکہ ایک شوپیاں میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مار گرایا گیا تھا۔ اگلے دن دہشت گردوں نے دو مقامی افراد کو نشانہ بنایا جن کی شناخت ماجد احمد گوجری Majid Ahmad Gojri اور محمد شفیع ڈار Mohammad Shafi Dar کے نام سے ہوئی۔ مؤخر الذکر اگلے دن ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

      پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی تحقیقات اور تلاش شروع کردیا ہے
      پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی تحقیقات اور تلاش شروع کردیا ہے


      تاریخی اعتبار سے ہلاکتوں کی فہرست اور تفصیلات:

      ۔ 5 اکتوبر کو کشمیر میں دہشت گردوں نے غیر مقامی سمیت تین شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ ممتاز کشمیری پنڈت کیمسٹ ڈاکٹر بندرو لال Dr Bindroo Lal، اسٹریٹ وینڈر وریندر پاسوان اور سومو ڈرائیور ایسوسی ایشن کے صدر محمد شفیع لون کو مختلف علاقوں میں تین الگ الگ واقعات میں قتل کر دیا گیا۔

      جموں و کشمیر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی تحقیقات اور تلاش شروع کردیا ہے، جنہوں نے ایک ہفتہ قبل تین شہریوں کے ساتھ ساتھ دو دیگر کو ہلاک کیا تھا، اس کے بعد 7 اکتوبر کو مزید عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، اس بار اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے دو اساتذہ بھی نشانہ بنے۔ مبینہ طور پر دہشت گرد سری نگر کے اسکول میں داخل ہوئے اور تمام عملے اور اساتذہ کو اپنے شناختی کارڈ چیک کرنے کے لیے قطار میں کھڑا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے دو اساتذہ کو باہر نکالا جن کی شناخت دیپک چند Deepak Chand اور سپندر کور Supindar Kour کے نام سے ہوئی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

      بانڈی پورہ، اننت ناگ اور شوپیاں میں انکاؤنٹر کے دوران تقریباً ایک درجن دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔
      بانڈی پورہ، اننت ناگ اور شوپیاں میں انکاؤنٹر کے دوران تقریباً ایک درجن دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔


      رائٹرز کی رپورٹ میں ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ’’پستول بردار افراد آج صبح اسکول میں آئے اور اساتذہ سے شناختی کارڈ مانگے اور بعد میں دو اساتذہ پر گولی چلا دی، جن میں سے ایک اقلیتی سکھ اور ہندو برادری سے تھا‘‘۔ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے درمیان، سیکورٹی اہلکاروں کو فورسز کو نشانہ بنائے جانے کے امکان کے بارے میں بھی الرٹ کر دیا گیا تھا۔

      ۔ 8 اکتوبر کو ایک مقامی اس وقت مارا گیا جب سی آر پی ایف کے دستوں نے ایک ایس یو وی کے ڈرائیور پر گولی چلائی جب اس نے مبینہ طور پر اننت ناگ ضلع میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کو روکنے کے لیے ان کے اشارے پر عمل نہیں کیا۔ جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ فوجیوں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی جب ڈرائیور ان کی طرف بڑھا۔

      اس کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA)، انٹیلی جنس بیورو اور R&AW کے اہلکاروں نے کشمیر میں دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے والے زمینی کارکنوں (OGWs) کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی۔ اگلے ایک ہفتے میں تقریباً 900 دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے والے زمینی کارکنوں کو IB کے زیر نگرانی مشترکہ آپریشنز میں گرفتار کیا گیا۔

      بانڈی پورہ، اننت ناگ اور شوپیاں میں انکاؤنٹر کے دوران تقریباً ایک درجن دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔ مبینہ طور پر ان دہشت گردوں کا تعلق مزاحمتی محاذ اور لشکر طیبہ سے تھا، ان دہشت گرد تنظیموں نے شہریوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

      ۔11 اکتوبر سے 16 اکتوبر تک، پونچھ، مینڈھر کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے ساتھ مسلح تصادم میں فوج کے 9 اہلکار مارے گئے۔ 16 اور 17 اکتوبر کو چار غیر مقامی مزدوروں کو ہلاک کر دیا گیا، جس سے شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا۔

      وزارت داخلہ نے این آئی اے کو شہری ہلاکتوں کے پیچھے بڑی سازش کی تحقیقات کرنے کا مقدمہ درج کرنے کا کام سونپا، جبکہ وزیر داخلہ امیت شاہ Amit Shah نے افراتفری کے درمیان جموں و کشمیر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران شاہ نے مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا اور CRPF، IB، R&AW، NIA اور J&K پولیس کے سربراہوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بھی کی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: