ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : کورونا انفیکشن کی شرح گزشتہ سال کے مقابلہ میں اس سال چار گنا زیادہ ، انتظامیہ الرٹ

Coronavirus in Jammu and Kashmir : اعداد و شمار کے مطابق رواں سال انفیکشن کی شرح پچھلے سال سے چار گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جموں و کشمیر میں کووڈ 19 کے مثبت واقعات میں اضافے سے انتظامیہ بھی فکر مند ہے

  • Share this:
جموں و کشمیر : کورونا انفیکشن کی شرح گزشتہ سال کے مقابلہ میں اس سال چار گنا زیادہ ، انتظامیہ الرٹ
جموں و کشمیر : کورونا انفیکشن کی شرح گزشتہ سال کے موازنہ میں چار گنا زیادہ ، انتظامیہ الرٹ۔ علامتی تصویر ۔

جموں و کشمیر: گزشتہ برس کووڈ کی پہلی لہر پر قابو پانے کے بعد یوٹی میں کورونا معاملات نے ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کر لیا ہے ، جس کی وجہ سے کافی حد تک کورونا معاملات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال انفیکشن کی شرح پچھلے سال سے چار گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے جموں و کشمیر میں کووڈ 19 کے مثبت واقعات میں اضافہ سے انتظامیہ فکرمند ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ تیزی سے انفیکشن کے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ کووڈ پر قابو پانے کےلئے مرتب شدہ ایس او پیز کی سختی سے پیروی نہیں کررہے ہیں۔


فائنانشل کمشنر ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ، اٹل ڈلو نے نیوز18 نمائندے کو بتایا کہ کہ کورونا کے تازہ معاملات ایک خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی بار کووڈ کے 100 معاملات سے لے کر 1000 معاملات تک 100 دن کا وقفہ لگا تھا ۔ تاہم اس مرتبہ محض 25 دنوں میں ہی 100 سے 1000 معاملات تجاوز کر گئے ہیں ، جس سے ان معاملات کی سنگینی کا پتہ چلتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ انفیکشن کے تیزی سے پھیلاؤ کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ کووڈ ایس او پیز کی سختی سے پیروی نہیں کررہے ہیں ۔ جبکہ مثبت مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے مدنظر محکمہ ان تمام 17 اسپتالوں کو مطلع کرنے جارہا ہے جو صرف کووڈ مریضوں کے علاج کے لئے استعمال ہوئے تھے اور دوسرے اسپتالوں میں ایسے مریضوں کے لیے علاحدہ بستروں کا انتظام کیا جارہا ہے ۔ فائنانشل کمشنر اٹل ڈلو نے بتایا کہ وادی کشمیر کے 18 ڈسٹرکٹ اور سب ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں آکسیجن جنریشن پلانٹس چل رہے ہیں ۔


ڈلو نے نیوز18 نمائندے کو بتایا کہ وادی کشمیر میں کورونا کے بڑھتے معاملات کے مدنظر ضلع اسپتالوں ، کچھ سب ڈسٹرکٹ اسپتالوں اور متعلقہ اسپتالوں جن میں آکسیجن جنریشن پلانٹس لگ رہے ہیں کو 15 دنون میں شروع کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اب اسپتالوں میں کورونا سے نمٹنے کے غیر معمولی اقدامات و سہولیات بہم رکھنے سے مریضوں کو سرینگر منتقل ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ ڈلو کے مطابق حالات تشویشناک نہیں ہے لیکن رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران بڑی تعداد میں آکسیجن سے چلنے والے بیڈ خریدے ہیں جو صورتحال کو سنبھالنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

ویکسینیشن کی صورتحال کے بارے میں اٹل ڈلو نے بتایا کہ اب تک جموں و کشمیر یوٹی میں تقریبا 13 لاکھ ویکسین دئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک محکمہ 45 برس سے زائد کی عمر والے 24 فیصد افراد کو ویکسینیشن دینے میں کامیاب رہا ہے ۔ اٹل ڈلو نے کہا کہ محکمہ کو صورتحال سے نمٹنے میں مہارت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ صحت کے حکام نے پچھلے سال صورتحال کو بہتر طریقے سے سنبھالا تھا اور انہیں امید ہے کہ جلد ہی صورتحال کو قابو میں کرلیا جائے گا۔

تاہم اٹل ڈلو نے کووڈ پروٹوکول پر سختی سے عمل کرتے ہوئے کورونا زنجیر توڑنے میں عام لوگوں سے تعاون طلب کیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 13, 2021 06:36 PM IST