உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش، جانیے کیا کہتے ہیں دفاعی ماہرین

    دفاعی ماہرین ملی ٹنٹوں کی تعداد میں کمی کو ایک مُثبت پیش رفت سےد تعبیر کرتے ہیں تاہم وہ غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافے کو باعث تشویش مانتے ہیں۔

    دفاعی ماہرین ملی ٹنٹوں کی تعداد میں کمی کو ایک مُثبت پیش رفت سےد تعبیر کرتے ہیں تاہم وہ غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافے کو باعث تشویش مانتے ہیں۔

    دفاعی ماہرین ملی ٹنٹوں کی تعداد میں کمی کو ایک مُثبت پیش رفت سےد تعبیر کرتے ہیں تاہم وہ غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافے کو باعث تشویش مانتے ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں و کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد میں رواں برس کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ فوج کی شمالی کمان کی طرف سے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یو ٹی میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد دو سو سے کم ہے۔ رواں برس جنوری سے مارچ تک کے تین ماہ کے عرصے کی تفصیلات دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سرگرم ملی ٹنٹوں کی تعداد ایک سو بہتھر ہے جن میں سے اُناسی غیر ملکی دہشت گرد ہیں جبکہ باقی مقامی ملی ٹنٹ ہیں۔ دفاعی ماہرین ملی ٹنٹوں کی تعداد میں کمی کو ایک مُثبت پیش رفت سےد تعبیر کرتے ہیں تاہم وہ غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافے کو باعث تشویش مانتے ہیں۔ سلامتی امور سے متعلق ماہر ریٹائیرڈ کیپٹن انیل گور کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے زیادہ سے زیادہ غیر ملکی دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں داخل کرنے کا مقصد کشمیر میں ملٹینسی کے واقعات میں اضافہ کرنا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انوہں نےکہا: پاکستان کی ہمیشہ سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی دہشت گردوں کو جمون و کشمیر میں داخل کرے تاکہ وہ انکی مدد سے جموں و کشمیر میں تخریبی کاروائیاں انجام دے پائیے۔

    پاکستان مقامی ملی ٹنٹوں کے بجائے غیر ملکی دہشت گردوں پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے لہذا وہ اسطرح کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جموں و کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی طرفسے ملی ٹنٹ صفوں میں شامل ہونے کے رُجحان میں کمی آنے کے باعث بھی پاکستان غیر ملکی دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں دھکیل رہا ہے: انہون نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو کنٹرول لائین اور بین اُلاقوامی سرحد کے اسپار بیجنے کی زیادہ تر کوششیں ناکام بنائی جاتی ہیں تاہم یہ اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں کہ غیر ملکی دہشت گرد کچھ تعداد میں جموں و کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جس پر قابو پانا نہایت لازمی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: وادی میں کچھ عناصر اب بھی موجود، جو نہیں چاہتے کشمیری پنڈتوں کی واپسی، Kashmiri Migrants ایسے حملوں نہیں ڈرنے والے

    جموں و کشمیر کے سابق ڈائیریکٹر ولیس ایس پی وید نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں غیر ملکی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جاسکے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ گُفتگو کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا : میں نے بھی یہ رپورٹ پڑھی ہے حالانکہ دہشت گردوں کی مجموعی تعداد دو سو سے کم ہونا اسبات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ حالات میں بہتری واقع ہو رہی ہے تاہم غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد 79 بتائی گئی ہے جو باعث تشویش ہے۔ غیر ملکی دہشت گردوں کی یہ تعداد کنٹرول لائین اور بین الا اقوامی سرحد پر فوج اور دیگر حفاظتی عملے کی چوکسی پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے کیونکہ غیر ملکی دہشت گرد سرحد پار کرکے ہی ہمارے علاقے میں داخل ہوتے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سرحد کے کچھ مقامات پر نگرانی میں کمی ہے۔ لہذا چوکسی کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

    ایس پی وید نے کہا کہ غیر ملکی دہشت گردوں کی جموں و کشمیر میں زیادہ تعداد میں موجودگی کئی لحاظ سے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نےکہا: غیر ملکی دہشت گرد نہ صرف دہشت گردانہ حملے انجام دینے کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں بلکہ وہ مقامی نوجوانون کو گُمراہ کرکے ملی ٹنٹ صفوں میں شامل کرنے کا خطرناک کھیل بھی کھیلتے ہیں۔ جس کے سبب وادی میں امن و قانون کی صورتحال بگڑ جاتی ہے ۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی جموں و کشمیر میں کنٹرول لائین سےمتصل علاقوں میں اب برف پگلنے لگی ہے لہذا پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں داخل کرنےکی کوششوں میں اضافہ ہوگا۔ اسکے پیش نظر کنٹرول لائین پر حفاظتی عملے کی چوکسی کو مزید چُست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دراندای کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔

    یہ بھی پڑھیں: حجاب کے بہانے القاعدہ سرغنہ ایمن الظواہری نے اگلا زہر، 'اللہ اکبر' کا نعرہ لگانے والی مسکان خان کو بتایا بہن، ویڈیو جاری کرکے پڑھی کویتا
    Published by:Sana Naeem
    First published: