ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

غیر ملکی سفارتکاروں کا دورہ کشمیر ملکی پارلیمان کے تضحیک کی کوشش: کانگریس

غیر ملکی سفارتکاروں پر مشتمل وفد کے ردعمل میں جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ملک کے پارلیمنٹ کی تضحیک کرنے کی ایک کوشش ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 12, 2020 09:24 PM IST
  • Share this:
غیر ملکی سفارتکاروں کا دورہ کشمیر ملکی پارلیمان کے تضحیک کی کوشش: کانگریس
غیر ملکی سفارتکاروں کا دورہ کشمیر ملکی پارلیمان کے تضحیک کی کوشش: کانگریس

وادی کشمیر کی تازہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے بدھ کے روز وارد سری نگر ہوئے 25 غیر ملکی سفارتکاروں پر مشتمل وفد کے ردعمل میں جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ملک کے پارلیمنٹ کی تضحیک کرنے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی وفود کشمیر کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں اگر کچھ ہونا ہے تو وہ اپنے ملک کا پارلیمان اور ارکان پارلیمان کرسکتے ہیں۔غلام احمد میر نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ غیر ملکی وفود کو یہاں لایا جارہا ہے جبکہ ملک کے پارلیمانی نمائندوں کو اجازت نہیں دی جارہی ہے۔


غیر ملکی سفارتکاروں کا دورہ کشمیر
غیر ملکی سفارتکاروں کا دورہ کشمیر


انہوں نے کہا: 'جب دیکھو غیر ملکی وفود کو یہاں لاکر گھمایا جارہا ہے، جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے آواز اٹھی ہے تو پھر مقامی پارلیمنٹ کے نمائندوں خاص کر اپوزیشن لیڈروں کو یہاں آنے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی ہے جن ایشوز پر وہ بات کرسکتے ہیں ان پر غیر ملکی سفارتکار تھوڑی بات کرسکتے ہیں'۔موصوف صدر نے سوالیہ انداز میں کہا کہ غیر ملکی سفارتکار کشمیر کے لئے کیا بہتر کریں گے۔ان کا کہنا تھا: 'باہر کے لوگ کشمیر کے لئے کیا بہتر کریں گے، یہ انڈین پارلیمنٹ کی تضحیک کرنے کے لئے مودی کی ایک کوشش ہے'۔


جی اے میر نے کہا کہ اس وفد کا دورہ بھی رائیگاں ہی ہوگا اگر کوئی کوشش کامیاب ثابت ہوگی تو وہ ملک کے ارکان پارلیمان کا دورہ کشمیر ہوگا۔انہوں نے کہا: 'اس وفد کا دورہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا اگر کوئی کوشش نتیجہ خیز ثابت ہوگی تو وہ ملک کے ارکان پارلیمان کا دورہ کشمیر ہوگا، یہاں جو کچھ بھی ہونا ہے ملک کے پارلیمنٹ سے ہونا ہے'۔

غلام احمد میر نے کہا کہ یہاں وہی غیر ملکی نمائندے آتے ہیں جو ان کی بات مانتے ہیں۔انہوں نے کہا: 'معتبر ممالک کے معتبر نمائندے یہاں آنا نہیں مانتے ہیں، کئی غیر ملکی وفود نے یہاں آنا نہیں مانا وہ کہتے ہیں کہ اگرہم آئیں گے تو حکومت کی ہم پر کسی قسم کی پابندیاں نہیں ہونی چاہئے، یہاں وہی نمائندے آتے ہیں جو ان کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں اور پھر ہوٹلوں میں ان سے وہی لوگ ملتے ہیں جو ان کی اپنی پیداوار ہوتے ہیں'۔

غیر  ملکی وفود کشمیر کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں: کانگریس
غیر ملکی وفود کشمیر کے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں: کانگریس


موصوف صدر نے کہا کہ یورپی یونین کے ارکان پارلیمان نے کشمیر معاملے کو انٹرنیشنلائز کردیا۔انہوں نے کہا: 'یورپی یونین کے ارکان پارلیمان نے اس معاملے کو انٹرنیشنلائز کردیا، انہوں نے یہاں مودی کے سامنے ایک بات کی اور وہاں اپنے اپنے ممالک میں دوسرے بیانات دے ۔ جی اے میر نے کہا کہ ایک طرف کہا جارہا ہے کہ کشمیر اندرونی معاملہ ہے جب کہ دوسری طرف خود ہی اس کو انٹرنیشنلائز کیا جارہا ہے۔

بی جے پی کے مقامی لیڈر خالد جہانگیر، جو کشمیر کا روایتی لباس پھیرن پہن کر ہوٹل پہنچے، نے سفارتکاروں سے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت ہند کو کشمیری سیاستدانوں بشمول عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو رہا کرنا چاہیے اور اگر وہ کرپٹ ہیں تو ان کے خلاف کرپشن کے کیس درج کئے جانے چاہیے۔سرکاری ذرائع کے مطابق وفد سری نگر میں شبانہ قیام کے بعد جمعرات کی صبح جموں روانہ ہوگا اور وہاں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو کے علاوہ مختلف عوامی وفود سے ملاقی ہوگا۔
دریں اثنا وادی کے لوگ اس تیسرے غیر ملکی وفد کے دورہ کشمیر سے قطعی طور پر لا تعلق دیکھے گئے۔لوگوں کے بعض حلقوں نے متذکرہ وفد کے دورہ کو سعی لاحاصل تو بعض نے غیر ملکی سفارتکاروں کو کشمیر کی سیر پر آنے کا بہانہ قرار دیا۔

یو این آئی اردو نے جب اس سلسلے میں لوگوں کے ایک گروپ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا: 'اس سے قبل بھی غیر ملکی سفارتکاروں کے دو وفد وارد وادی ہوئے اور یہاں کے زمینی حقائق سے واقفیت حاصل کرنے کے بجائے چنندہ عوامی وفود سے ملاقی ہو کر نشستن، خوردن و برخاستن کے مصداق بن گئے تھے اور یہی حال اس وفد کا بھی ہوگا'۔

ایک شہری نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کی غرض سے غیر ملکی سفارتکاروں کو کشمیر کی سیر کرنے کا بہانہ مل جاتا ہے ورنہ یہ بات طے ہے کہ اس سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آج تک کسی بھی وفد کے دورے سے کشمیریوں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور اس وفد کے دورے کے بارے میں بھی یہی امیدیں وابستہ ہیں۔قابل ذکر ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں کے وفد کا یہ دورہ اس وقت ہورہا ہے جب دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر حال ہی میں پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا جو سوشل میڈیا پر سیاسی گلیاروں سے لے کر صحافتی حلقوں تک گرم موضوع بحث بن گیا تھا۔
First published: Feb 12, 2020 09:24 PM IST