உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غلام نبی آزاد نے اچانک کیوں کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ کیا‘؟ سابق وزیر اعلیٰ نے 'G 23' لیڈران کو بتایا

    غلام نبی آزاد نے اچانک کیوں کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ کیا‘؟

    غلام نبی آزاد نے اچانک کیوں کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ کیا‘؟

    Ghulam Nabi Azad: غلام نبی آزاد نے اپنی پرانی جماعت اور اس کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بیمار‘ کانگریس کو دعا کی نہیں، دوا کی ضرورت ہے، لیکن اس کا علاج ’کمپاونڈر‘ کر رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس کے ’جی 23‘ گروپ میں شامل رہے تین اہم لیڈران آنند شرما، بھوپیندر سنگھ ہڈا اور پرتھوی راج چوہان نے منگل کے روز غلام نبی آزاد سے ملاقات کی اور ان کے استعفیٰ کی وجہ اور حالات سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق، غلام نبی آزاد کی رہائش گاہ پر یہ تینوں لیڈران آج دوپہر پہنچے اور ان کے ساتھ لمبی میٹںگ کی۔ پرتھوی راج چوہان کے مطابق، میٹنگ کے دوران غلام نبی آزاد نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کے ایک گروپ کے ذریعہ ان کے خلاف ’سازش‘ کی جارہی تھی اور پارٹی میں ان کی پوزیشن غیر مستحکم ہوگئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی پرتھوی راج چوہان نے پارٹی انتخابات اور گاندھی فیملی کے صدر عہدے کی دوڑ سے باہر رہنے کے فیصلے کا بھی استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات آزادانہ اور شفاف ہونا چاہئے۔

      میٹنگ کے بعد ان تینوں لیڈران میں سے ایک لیڈر نے ’پی ٹی آئی- بھاشا‘ سے کہا، ’یہ ایک خیر سگالی ملاقات تھی۔ ذاتی طور پر کئی باتیں ہوتی ہیں، جن کے بارے میں نہیں بتایا جاسکتا۔ اتنا ضرور ہے کہ ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کن وجوہات اور کن حالات میں آزاد صاحب کو اتنا بڑا قدم اٹھانا پڑا‘۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ کس طرح سے الزام تراشی کا دور چل رہا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ اب ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا بند ہونا چاہئے۔ سینئر لیڈران کا احترام ہونا چاہئے‘۔

      غلام نبی آزاد نے اپنی پرانی جماعت اور اس کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بیمار‘ کانگریس کو دعا کی نہیں، دوا کی ضرورت ہے، لیکن اس کا علاج ’کمپاونڈر‘ کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
      غلام نبی آزاد نے اپنی پرانی جماعت اور اس کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بیمار‘ کانگریس کو دعا کی نہیں، دوا کی ضرورت ہے، لیکن اس کا علاج ’کمپاونڈر‘ کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)


      یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ کانگریس صدر کے الیکشن کے عمل سے مطمئن ہیں تو انہوں نے کہا، ’ہمارا مطالبہ تھا کہ الیکشن ہو۔ دو سال کی تاخیر ہوئی، لیکن اب الیکشن ہو رہا ہے۔ ہمیں سونیا جی پر بھروسہ ہے۔ ہم لوگ تو یہی چاہتے تھے کہ کوئی بھی صدر بنے، لیکن الیکشن کے ذریعہ بننا چاہئے۔ اگر راہل گاندھی جی بھی الیکشن کے ذریعہ صدر بنتے ہیں تو اچھا ہے‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Jammu and Kashmir: کانگریس میں بڑی ٹوٹ، غلام نبی آزاد کی حمایت میں 50 لیڈران نے دیا پارٹی سے استعفیٰ

      یہ بھی پڑھیں۔

      سونیا گاندھی کے بے حد قریبی رہے غلام نبی آزاد کے Congress چھوڑنے کے فیصلے پر ایک نئی بحث کا آغاز
       غلام نبی آزاد کے استعفیٰ دینے کے بعد چاروں لیڈران نے ایک ساتھ پہلی بار میٹنگ کی ہے۔ غلام نبی آزاد، آنند شرما اور 21 دیگر کانگریسی لیڈران نے اگست، 2020 میں میٹنگ کرکے سونیا گاندھی کو خط لکھا تھا۔ اس میں انہوں نے پارٹی کو پھر سے مضبوط کرنے کے لئے کئی مطالبات کئے تھے، جن میں تنظیم کے الیکشن کرانے اور سرگرم قیادت کے مطالبات اہم تھیں۔ ان کے اس خط کو کانگریس قیادت کو چیلنج کے طور پر دیکھا گیا۔


      اس گروپ کے کئی لیڈران جیسے غلام نبی آزاد، کپل سبل، جتن پرساد کانگریس چھوڑ چکے ہیں اور ویرپا موئلی جیسے کچھ لیڈران نے اس گروپ سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ غلام نبی آزاد نے گزشتہ جمعہ کو پارٹی سے ناطہ توڑ لیا تھا۔ پیر کے روز انہوں نے اپنی پرانی جماعت اور اس کی قیادت پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بیمار‘ کانگریس کو دعا کی نہیں، دوا کی ضرورت ہے، لیکن اس کا علاج ’کمپاونڈر‘ کر رہے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: