உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راہل گاندھی پہنچے جموں۔کشمیر، ماتا ویشنو دیوی کے درشن کیلئے کٹرہ ہوئے روانہ

    Youtube Video

    راہل گاندھی گزشتہ ایک ماہ میں دوسری بار جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر آج جموں پہنچے جہاں سے وہ سیدھے ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے کٹرہ روانہ ہوئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کے جموں و کشمیر کے دورے کو اپوزیشن جماعتیں ایک سیاسی مدعا بنانے میں لگی ہیں۔ راہل گاندھی گزشتہ ایک ماہ میں دوسری بار جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے پر آج جموں پہنچے جہاں سے وہ سیدھے  ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے کٹرہ روانہ ہوئے۔ کل کٹرہ سے واپسی پر راہل گاندھی جموں میں پارٹی ورکروں اور لیڈران سے جموں و کشمیر کے موجودہ صورتحال اور پارٹی کی مقبولیت کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ راہل گاندھی کے اس دورے پر  اپوزیشن جماعت بی جے پی راہل گاندھی کو گھیرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ آج جیسے ہی راہل گاندھی جموں ہوائی اڈے پر پہنچے تو ورکروں کا جوش دیکھتے ہی بنتا دکھا گیا۔ پارٹی وکروں کی ایک بھاری تعداد نے انہں جموں ائیر پورٹ پر استقبال کیا اور کٹرہ جاتے ہوئے راستے میں ]پارٹی ورکروں نے راہل گاندھی کو پھولوں سے استقبال کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نے گاڑی سے باہر نکل کر ورکروں کا خوش آمدید کیا اور انکا جوش بڑھایا۔ خترہ میں رات گزارنے کے بعد راہل گاندھی شری ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لئے جائیں گے اور وہاں خصوصی آرٹھی میں بھی شرکت کریں گے۔ راہل گاندھی کے اس دورے کو سیاسی مبصرین ہندو ووٹروں کو پارٹی کی طرف راغب کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

    سیاسی مبصر  پریکھشت منہاس کا کہنا ہے کہ یو پی الیکشن کے مد نظر کانگیریس پارٹی اس کوشش میں ہے کہ کسی بھی طرح سے ہندو ووٹروں کو اپنی طرف راغب کیا جائے۔ انکا یہ بھی کہنا ہے کہ یو پی کے انتخابات کے دوران جہاں بی جے پی رام جنم بھومی کے معاملے کو ایک مدعا بنانے والی ہے وہیں کانگریس بھی چاہتی ہے کہ وہ ہندو ووٹروں کو یہ احساس دے کہ کپارٹی ہندووں کے مفادات کے لئے کام کرنے کی کوشش میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف کانگریس بلکہ سماج وادی پارٹی کے لیڈران بھی اب مندروں میں حاضری لگاکر ہندو ووٹروں کو لُبھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ا

    س مدعے پر جب نیوز ایٹین اردو نے کانگریس کے ترجمان اعلی رویندر شرما سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ کانگریس مندر مسجد کے معاملے پر ووٹ بٹورنے کی خواہاں نہیں ہے۔ انہوں نے تاہم الزام لگایا کہ یہ بی جے پی ہی ہے جو مندر مندر الاپ کر لوگوں سے ووٹ لینے کی کوشش میں جُٹ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذہبی فرائیض انجام دینا راہل گاندھی کا ایک نجی معاملہ ہے اور اس پر سیاست کرنے سے بی جے پی کو گُریز کرنا چاہئیے۔اسی دوران کانگریس ورکروں کا جوش دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ آئیندہ دنوں میں جموں و کشمیر میں کانگریس ایک مضبوط پارٹی کے طور پر اُبھر سکتی ہے۔ کانگریس ورکر جموں و کشمیر کو جلد ریاست کا درجہ بحال کرنے اور اسمبلی انتخابات کروانے کے حق میں ہیں تاکہ لوگوں کے مسائیل کا ازالہ ہوسکے۔ انکا یہ بھی الزام ہے کہ مودی سرکار کے دور اقتدار میں جموں خطے کو نظر انداز کیا گیا ہے اور یہاں لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جہاں کووڈ نے لوگوں کو بے حال کیا ہے وہیں مہنگائی کی مار لوگوں پر کافی بھاری پڑی ہے اور لوگ پریشان حال ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جموں کے لوگوں کی اقتصادی حالت کو بہتر کرنے کے لئے مودی سرکار کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کے جموں کے دورے کے دوران وہ یہ تمام معاملے انکی نوٹس میں لائیں گے تاکہ راہل گاندھی دلی واپس جاکر جموں خطے کے عوام کی پریشانیوں کے ازالے کے لئے آواز اٹھا سکیں۔ اسی دوران بی جے پی راہل گاندھی سے سوال کر رہی ہے کہ  جب انہوں نے کبھی والمکی سماج اور رفیوجیوں کی بات نہیں کی ہے تو وہ کس مُنہ سے جموں کے لوگوں کے سامنے آئے ہیں۔ پارٹی کے ترجمان ابھجیت جسروٹیہ نے کہا کہ کانگریس لوگوں میں اپنی ساخت کھوچکی ہے اور وہ اب اپنی آخری کوشش میں لوگوں کے نزدیک آنا چاہتی ہے جبکہ لوگ راہل گاندھی کے دورے کو کوئی بھی اہمیت نہیں دیتے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: