உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حد بندی کمیشن کے دو روزہ دورہ جموں و کشمیر کی کانگریس نے کی مخالفت، کہا یہ دورہ محض دکھاوا ہے

    Jammu and Kashmir:  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن اس مختصر دورے کے دوران لوگوں کی آرا جان نہیں پائے گا۔ غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔

    Jammu and Kashmir: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن اس مختصر دورے کے دوران لوگوں کی آرا جان نہیں پائے گا۔ غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔

    Jammu and Kashmir: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن اس مختصر دورے کے دوران لوگوں کی آرا جان نہیں پائے گا۔ غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: حد بندی کمیشن کے دو روزہ دورہ جموں و کشمیر کی کانگریس نے یہ کہہ کر مخالفت کی ہے کہ کمیشن کا یہ دورہ محض دکھاوا ہے ۔ کمیشن کی جموں میں آمد کے موقع پر آج جموں و کشمیر کانگریس کے سینیر لیڈروں نے احتجاجی دھرنا دیا۔ اس احتجاج کی قیادت پارٹی کے صدر غلام احمد میر نے کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن اس مختصر دورے کے دوران لوگوں کی آرا جان نہیں پائے گا۔ غلام احمد میر نے کہا کہ کمیشن ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا : کمیشن پانچ اضلاع کے وفود کے ساتھ صرف ایک گھنٹے کے لئے ملاقات کر رہا ہے۔ اتنے کم وقت میں کمیشن ان لوگوں سے کس طرح کی تجاویز حاصل کر پائے گا ۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ کمیشن یہاں تفریح کے لئے آیا ہے اگر کمیشن جموں و کشمیر کے لوگوں کی بات سُننے اور انکی بہتری کے لئے کچھ کرنے آیا ہے تو اُسے معقول مدت کے لئے آنا چاہئیے تھا۔

    پردیش کانگریس صدر نے کہا کہ انکی پارٹی نے کمیشن کے سامنے اپنے اعتراضات رکھے تھے اور یہ امید کی جارہی تھی کہ کمیشن پارٹی نمائیندوں کو بلا کر ان اعتراضات پر گفت شنید کرتا تاکہ اسکی رپورٹ میں پائے جانے والی خامیوں کو دور کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا : ہم نے پہلے سے ہی کہا کہ جموں و کشمیر کے پارلیمنٹ ممبران میں سے کسی بھی ممبر کا تعلق کانگریس جماعت سے نہیں ہے لہذا ہماری پارٹی کمیشن میں پائی جانے والی خامیوں کے بارے میں اپنے اعتراضات کمیشن کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ کانگریس پارٹی کوملاقات کے لئے مدعو کرنا چاہئے تھا کیونکہ ہماری پارٹی ایسو سی ایٹ ممبران میں شامل نہیں ہے۔ ہم تو امید کر رہے تھے کہ ہمیں یہ موقع فراہم کیا جائے گا کہ ہم کمیشن کو جموں اور کشمیر کے تمام علاقوں کے بارے میں جانکاری فراہم کرکے حد بندی کمیشن کی جانب سے کی گئی غلطیوں کو سُدھارنے میں تعاون کرتے لیکن ایس نہیں کیا گیا۔ برعکس اس کے کمیشن ایک مختصر دورہ کرکے خانہ پوری کررہا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ ہمیں کمیشن کے اس دورے پر اعتراض ہے: جی اے میر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ پہلے ہی کئی مُصیبتوں میں گرفتار ہیں اور حد بندی کمیشن کی تازہ تجاویز نے لوگون کو اور مایوس کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کمیشن نے کہا تھا کہ آبادی اور جُغرافیائی حالات کو مد نظر رکھ کر اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی عمل میں لائی جائے گی تاہم ایسا دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے کہا تھا کہ اسمبلی حلقوں کے مابین ووٹروں کی تعداد کو مساوی بنانے کی کوشش کی جائے گی تاہم آج بھی جموں و کشمیر میں بتیس ہزار ووٹروں پر مشتمل ایک اسمبلی حلقہ ہے جبکہ دوسرے اسمبلی حلقے میں ایک لاکھ سے زائید ووٹروں کی تعداد ہے۔ کی ایہ انصاف ہے۔ جی اے میر نے کہا کہ کانگریس پارٹی کو امید تھی کہ کمیشن جموں خطے کے لئے مزید لوک سبھا حلقے کی نشاندہی کرے گا تاکہ جموں اور کشمیر صوبوں کے مابین مساوی سیٹیں قائیم ہوں۔ لیکن اس پر بھی کمیشن کی جانب سے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔

    واضح رہے کہ جسٹس رنجنا ڈیسائی کی قیادت میں حد بندی کمیشن کا قیام مارچ دو ہزار بیس میں عمل میں لایا گیا تھا ۔ کمیشن نے مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں سے بات چیت کرکے جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی تعداد میں سات سیٹوں کے اضافے کی سفارش کی ہے جن میں سے چھ سیٹیں جموں خطے جبکہ ایک سیٹ کشمیر صوبے سے تعلق رکھتی ہیں۔

    Kashmir News: سرینگر کی نگین جھیل میں آگ کی ہولناک واردات، میں 6 ہاؤس بوٹ جل کر خاک


    Published by:Sana Naeem
    First published: