ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : سرکاری اسکول میں پچاس روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے والی نسیمہ اب بنیں کورونا واریئر ، کررہی ہیں یہ کام

گزشتہ دو دہائیوں سے ایک گورنمنٹ اسکول میں بطور کنٹنجنٹ پیڈ پر پچاس روپے ماہانہ اجرت پانے والی ایک خاتون نسیمہ کورونا واریئرس کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : سرکاری اسکول میں پچاس روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے والی نسیمہ اب بنیں کورونا واریئر ، کررہی ہیں یہ کام
جموں و کشمیر : سرکاری اسکول میں پچاس روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے والی نسیمہ اب بنیں کورونا واریئر ، کررہی ہیں یہ کام

کورونا مخالف جنگ میں جہاں مختلف محکموں کے ملازمین اپنا کلیدی رول نبھارہے ہیں ، وہیں پچاس روپے ماہانہ اجرتوں پر محکمہ تعلیم میں کام کر رہے کنٹینجنٹ پیڈ ورکر بھی دن رات محنت کرکے اپنا فرض بخوبی نبھا رہے ہیں ۔ کوارنٹائن سینٹروں میں دن رات ڈیوٹی کرکے یہاں قیام پذیر لوگوں کے لیے کھانا پکا رہے ہیں ۔ کوارنٹائن مراکز میں موجود افراد بھی ان کی خدمات کی ستائش کررہے ہیں ۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک گورنمنٹ اسکول میں بطور کنٹنجنٹ پیڈ پر پچاس روپے ماہانہ اجرت پانے والی ایک خاتون نسیمہ کورونا واریئرس کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ وہ شادرمن ترال میں واقع کوارنٹائن سینٹر میں موجود لوگوں کے لیے کھانا بنا رہی ہیں ۔


نسیمہ نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ انہیں محکمہ نے سرکاری تعلیمی اداروں میں صفائی  کے لئے تعینات کیا ہے ، جہاں وہ  قلیل تنخواہ پر کام کر رہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں مہلک کورونا کے نمودار ہونے کے ساتھ ہی انہیں ترال میں واقع ایک کوارنٹائن سینٹر میں رکھے گئے درجنوں افراد  کے لئے دوپہر اور شام کا کھانا بنانے کا کام سونپا گیا ہے ۔ وہ تین ماہ سے اپنے فرائض کو خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صبح سویرے یہاں آتی ہیں اور شام کو دیر گئے سبھی افراد کو کھانا کھلا کر گھر چلی جاتی ہیں ۔


نسیمہ نے مزید بتایا کہ ان کا قلیل مشاہرہ تین سال سے رکا ہوا ہے اور نہ ہی ان کو مستقل کرنے کے بارے میں سرکار کوئی فیصلہ لے رہی ہے ، جس کی وجہ سے ان کی طرح محکمہ میں کام کر رہے درجنوں افراد طرح طرح کی مشکلات سے دوچار ہیں ۔ مشاہرہ کی واگزاری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سخت دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔ نسیمہ نے کہا کہ جس کوارنٹائن سینٹر میں وہ لوگوں کے لئے کھانا بنانے کا کام کر رہی ہیں ، گزشتہ کئی روز قبل ہی اس سینٹر سے بیس مثبت کیس سامنے آئے تھے ۔ تاہم انتظامیہ نے ان کے تحفظ کیلئے کوئی بھی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا ہے ، جس کی وجہ سے انہیں بھی اب ڈر لگنے لگا ہے ۔


نسیمہ کا کہنا تھا کہ اگر ان کنٹینجنٹ پیڈ ورکرس میں سے کسی کو بھی کورونا وائرس ہوگیا تو ان کا کیا ہوگا ۔ ان میں سے کسی کے پاس کوئی انشورنس بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے انتظامیہ سے ان ملازمین کی طرف توجہ کرنے کی اپیل کی اور ان کی رکی ہوئی تنخواہ کو فوری طور پر واگزار کرنے کی فریاد کی ۔ تاکہ انہیں موجودہ لاک ڈون میں مزید کسی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
First published: May 29, 2020 07:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading