உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر میں ہورہی مسلسل خشک سالی سے بادام کی فصل پر بُرے اثرات مُرتب ہونے کاخدشہ 

    وادی کشمیر میں ہورہی مسلسل خشک سالی سے بادام کی فصل پر بُرے اثرات مُرتب ہونے کاخدشہ 

    وادی کشمیر میں ہورہی مسلسل خشک سالی سے بادام کی فصل پر بُرے اثرات مُرتب ہونے کاخدشہ 

    رواں سال موسم میں آئی تبدیل سے وادی کشمیر میں کاشت ہونے والی مختلف فصلوں پر کافی بُرے اثرات مُرتب ہورہے ہیں۔ دیگر فصلوں کی طرح ہی بادام کی فصل بھی خُشک سالی کی شکار ہو رہی ہے۔

    • Share this:
    پلوامہ: رواں سال موسم میں آئی تبدیل سے وادی کشمیر میں کاشت ہونے والی مختلف فصلوں پر کافی بُرے اثرات مُرتب ہورہے ہیں۔ دیگر فصلوں کی طرح ہی بادام کی فصل بھی خُشک سالی کی شکار ہو رہی ہے۔ ضلع پلوامہ کے اکثر کریواس (KAREVAS) تین ہزار سے زاید ہیکٹر آراضی پر بادام کے باغات ہے، جن میں آبپاشی کی سہولیات نہ ہونے سے بادام کے باغات زیادہ تر بارشوں پر ہی منحصر ہے۔ تاہم رواں برس کشمیر میں گرما کے دوران جہاں درجہ حرارت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

    وہیں بارشیں نہ ہونے سے وادی کے دیگر حصوں کی طرح ہی پلوامہ میں بھی خُشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ہرسال ماہ اگست میں بادام کی فصل کو درختوں سے اُتارنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جوکہ ایک ماہ تک جاری رہتا ہے۔ فصل درختوں سے اُتارنے سے پہلے اس پر بارشیں ہونا ضروری ہے، جس سے بادام کی پیداواری صلاحت بڑھ جاتی ہے۔ تاہم اس بار ابھی تک بارشیں نہ ہونے سے بادام کی فصل کو نُقصان ہونے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔

    میوہ کاشتکاروں کا ماننا ہےکہ گُذشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس بادام کی پیداوار میں پہلے ہی کمی واقع ہوئی ہے۔ اب بارشیں نہ ہونے سے کوالٹی بھی متاثر ہوگی، جس سے اس سے منسلک میوہ کاشتکاروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم محکمہ باغبانی کے پلوامہ آفیسر آر کے کوتوال کا کہنا ہے کہ پیداوار میں رواں سال کمی نہیں آئی ہے۔ تاہم خُشک سالی سے رواں سال بادام کی پیداواری صلاحیت کُچھ حدتک متاثر ہوسکتی ہے۔ ضلع پلوامہ کو بادام کی پیداوار میں کیلدی اہمیت حاصل ہے۔ گُذشتہ سال 6000 سے زاید میٹرک ٹن پلوامہ سے بادام کی پیداوار ہوئی تھی، لیکن رواں برس خُشک سالی سے کاشتکاروں میں کافی تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: