உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر کے سلامتی صورتحال پر کور گروپ کی سرینگر میں میٹنگ، امن قائم کرنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال

     عام لوگوں کے ساتھ مل کرجموں وکشمیر میں امن قائم کرنے کی کوششوں پر ہوا تبادلہ خیال۔

    عام لوگوں کے ساتھ مل کرجموں وکشمیر میں امن قائم کرنے کی کوششوں پر ہوا تبادلہ خیال۔

    کور گروپ نے دہشت گرد تنظیموں اور پاکستان میں بیٹھے ان کے آقاؤں کی تازہ حکمت عملی بشمول ہائبرڈ دہشت گردوں کے استعمال اور سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر میں سکبورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سرینگر میں آج حفاظتی عملے،خفیہ ایجنسیوں اور سیول انتظامیہ کے عہدیداروں پر مشتمل کور گروپ کی میٹنگ ہوئی۔ مشترکہ میٹنگ کی صدارت جنرل آفیسر کمانڈنگ،چنار کورلیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے اور ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ نے کی۔ کور گروپ نے 2021 کی خفیہ معلومات اور اس حوالے سے کئے گئے حفاظتی بندوبست کا جائزہ لیا۔ میٹنگ میں بتایاگیاکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کئے گئے اقدامات کی بدولت سال 2021 میں دہشت گردوں کی دراندازی میں کمی آئی۔ میٹنگ میں بتایاگیاکہ دراندازوں کی جانب سے سرحد کے اس پارکی جانے والی کوششوں میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔اس کے علاوہ مقامی نوجوانوں کی ملیٹنٹ صفوں میں شامل ہونے کے رجحان میں بھی کمی دیکھی گئی۔ حفاظتی عملے کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران جانی اور مالی نقصان کم کرنے مقامی لوگوں کی جانب سے دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے متعلق بروقت جانکاری اور شہری ہلاکتوں میں کمی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مختلف حفاظتی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل کی وجہ سے ہی ایسا ممکن ہوپایا ہے۔

    کور گروپ نے دہشت گرد تنظیموں اور پاکستان میں بیٹھے ان کے آقاؤں کی تازہ حکمت عملی بشمول ہائبرڈ دہشت گردوں کے استعمال اور سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بتایاگیاکہ 2021 میں 15 ایسے دہشت گرد مارے گئے جو سیکورٹی فورسز کے راڈار پر نہیں تھے۔ ایس آئی اے اور این آئی اے کی جانب سے دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ این آئی اے اور ایس آئی اے کی کاروائیوں سے ہی منشیات اور حوالہ کے ذریعے رقومات بھیجنے اور بالائی ورکروں کی نیٹ ورک کا دائرہ تنگ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ جنگ بندی سے سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، تاہم دہشت گردوں کے لانچ پیڈز اور پاکستان میں دہشت گردی کی تربیتی سرگرمیوں کی انٹیلی جنس معلومات لائن آف کنٹرول پر چوکنا رہنے کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    میٹنگ میں بتایا گیا کہ بالائی علاقوں میں دیر سے ہونے والی برفباری کے سبب لائن آف کنٹرول پر دراندازی کے راستے طویل عرصے تک کھلے رہے، تاہم مؤثر اقدامات سے پیر پنجال کے جنوبی علاقوں سمیت مجموعی طور پر دراندازی میں کمی کو یقینی بنایاگیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ لائن آف کنٹرول پر منشیات اور ہتھیاروں کی دراندازی کوروکنے کے لیے فوج اور دیگر حفاظتی عملہ چوکس ہے۔افسران نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کے چیلنج پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس حوالے سے بتایاگیا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں کشمیری شہریوں کے قتل کو جائز قرار دینے کا پروپیگنڈہ بھی کیا جارہاہے۔اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بڑے پیمانے پرکیا جارہاہے لہذا مشترکہ کوششوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    جعلی خبروں کو بے نقاب کرنے، بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان فعال اشتراک قائم کرنے پربھی زور دیاگیا۔ڈی جی پی اور کور کمانڈر نے حفاظتی عملے کی کاروائیوں کی سراہانا کی۔ انہوں نے اس بات کی تعریف کی کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں امن اور ترقی کے گئے وعدے پورے گئے جارہے ہیں۔ ڈی جی پی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کے دوران اس بات کو یقینی بنایاجارہاہے کہ عام لوگوں کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے مقامی دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کا موقع فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کی سفارش کی تاکہ انہیں ایک پرامن زندگی گزارنے کا دوسرا موقع فراہم کیا جا سکے۔ کور کمانڈر نے افسران پر زور دیا کہ وہ 2022 کو ایک تبدیلی والے سال کے طور پر دیکھیں جہاں عام آدمی 2021 میں شہری ہلاکتوں سے رنجیدہ ہوتا تھا اسے 2022 میں ایسے واقعات نہ دیکھنے پڑیں۔انہوں نے سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر علیحدگی پسندوں کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور کشمیر میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: