ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کورونا وائرس : جموں و کشمیر میں 2157 افراد زیر نگرانی ، لوگوں سے کی گئی یہ خاص اپیل

عوام الناس سے کہا گیا ہے کہ وہ نگرانی کے عمل کو مستحکم کریں اور بیرون ملک سفرسے متعلق تفاصیل مقامی صحت حکام کو از خود پیش کریں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 15, 2020 10:53 PM IST
  • Share this:
کورونا وائرس : جموں و کشمیر میں 2157 افراد زیر نگرانی ، لوگوں سے کی گئی یہ خاص اپیل
علامتی تصویر

جموں وکشمیر انتظامیہ نے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے 2157 افراد کو نگرانی میں رکھا ہے ۔ نوول کورونا وائرس سے متعلق جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن کے مطابق مشتبہ معاملات کے ضابطے میں آئے 2157 مسافروں اور افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جبکہ 1829 افراد کو گھروں میں ہی کورنٹائن کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اسپتالوں میں کورنٹائن کئے گئے افراد کی تعداد 29 ہے جبکہ 131 افراد کو گھروں میں ہی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔


بلیٹن کے مطابق 101 نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں ، جن میں سے 87 منفی پائے گئے جبکہ دو معاملات کے نمونے مثبت پائے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ 12 معاملات کی رپورٹیں 15 مارچ 2020 تک آنے کی توقع ہے ۔ 168 افراد نے 28 دنوں کی نگرانی کا دورانیہ مکمل کیا ہے۔ بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ گھروں میں کورنٹائن کئے گئے افراد اور ان کے افراد خانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی نگرانی ٹیموں اور صحت حکام کے ساتھ تعاون کریں اور گھروں کی کورنٹائن کے لئے مرکزی وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی طرف سے جاری کئے گئے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کریں ۔


عوام الناس سے کہا گیا ہے کہ وہ نگرانی کے عمل کو مستحکم کریں اور بیرون ملک سفرسے متعلق تفاصیل مقامی صحت حکام کو از خود پیش کریں ۔ اس کے علاوہ تمام سماجی، مذہبی اور سیاسی تنظیموں سے کہا گیا ہے کہ وہ بڑے اجتماعات سے اجتناب کریں۔ جاری کی گئی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ صحت مند افراد کو میڈیکل ماسکس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے سیکورٹی کا ایک غلط تاثر پیدا ہوتا ہے اور ہاتھ دھونے جیسی اہم اقدامات نظر انداز ہوجاتے ہیں ۔ دراصل ماسکوں کا زیادہ دیر تک استعمال کرنے یا ڈسپوزبل ماسکس 6 گھنٹوں سے زیادہ تک استعمال کرنے یا بار بار ایک ہی ماسک استعمال کرنے سے انفیکشن کا زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔


ایڈوائزری میں سماجی رابطے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گبھرائیں نہیں بلکہ غیر ضروری سفر کو ترک کریں۔ اس کے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو اجتناب کریں ۔ علاوہ ازیں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں اور بڑے بڑے اجتماعات سے دور رہیں ۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کے بنیادی اصولوں پر عمل کریں اور باربار صابن سے اپنے ہاتھ دھوئیں ۔ کھانستے یا چھینکتے وقت رومال کا استعمال کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ اگر کسی شخص کو بخار ہو ، کھانسی آتی ہو یا سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو رہی ہو تو وہ جلد از جلد صحت حکام کے ساتھ رابطہ قائم کرسکتا ہے۔

غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے لوگوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکار کی طرف سے جاری کی گئی جانکاری پر ہی بھروسہ کریں۔ یہ جانکاری سرکار کی طرف سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں روزانہ میڈیا بلیٹنوں کے ذریعے جاری کی جاتی ہے۔
First published: Mar 15, 2020 10:53 PM IST