உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: ڈی ڈی سی حلقہ لارنو کیلئے تیسری مرتبہ ہوئی ووٹوں کی گنتی، جانئے اب کس کو ملی جیت

    J&K News: ڈی ڈی سی حلقہ لارنو کیلئے تیسری مرتبہ ہوئی ووٹوں کی گنتی، جانئے اب کس کو ملی جیت

    J&K News: ڈی ڈی سی حلقہ لارنو کیلئے تیسری مرتبہ ہوئی ووٹوں کی گنتی، جانئے اب کس کو ملی جیت

    Jammu and Kashmir : تیسری مرتبہ ووٹ شماری کے بعد آزاد امیدوار ساجدہ بیگم کو فاتح قرار دیا گیا۔ انہوں نے اپنی نزدیکی حریف پی ڈی پی کی خالدہ بی کو 65 ووٹوں سے ہرا کر لارنو کی ڈی ڈی سی نشست اپنے نام کر دی۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اگرچہ دسمبر 2020 میں ڈی ڈی سی انتخابات عمل میں لائے گئے تھے ۔ تاہم اننت ناگ ضلع کی لارنو ڈی ڈی سی نشست کیلئے اب تک تین مرتبہ ووٹ شماری کی جاچکی ہے۔ ایڈیشنل کمشنر کشمیر کی ہدایت پر لارنو اننت ناگ کی ڈی ڈی سی نشست کےلیے تازہ ووٹ شماری کی گئی۔ یہ ووٹ شماری جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ایڈیشنل کمشنر کشمیر کو اپیلیٹ اتھارٹی تعینات کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی۔ تیسری مرتبہ ووٹ شماری کے بعد آزاد امیدوار ساجدہ بیگم کو فاتح قرار دیا گیا۔ انہوں نے اپنی نزدیکی حریف پی ڈی پی کی خالدہ بی کو 65 ووٹوں سے ہرا کر لارنو کی ڈی ڈی سی نشست اپنے نام کر دی۔

    واضح رہے کہ دسمبر 2020 میں ڈی ڈی سی انتخابات میں پی ڈی پی امیدوار خالدہ کو فاتح قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد ساجدہ نے ووٹ شماری پر اپنا اعتراض جتایا تھا اور پی ڈی پی امیدوار کے حق میں کچھ ووٹوں کو رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ساجدہ کی جیت کے بعد ڈال بنگلو کھنہ بل میں ان کے حامیوں نے جشن منایا اور اس فتح کو جمہوریت کی جیت قرار دیا۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ماتا کھیر بھوانی میلے میں شرکت کیلئے کافی کم تعداد میں جارہے ہیں کشمیری پنڈت


    ادھر پی ڈی پی نے تیسری مرتبہ ووٹ شماری کو غیر آئینی اور غیر جمہوری قرار دیا۔ پی ڈی پی لیڈر چودھری گلزار احمد کھٹانہ نے کہا کہ جموں کشمیر ہائی کورٹ کے احکامات کو غلط انداز میں استعمال کیا گیا اور وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ تازہ ووٹ شماری سے پی ڈی پی امیدوار کو نقصان پہنچے گا۔

     

    یہ بھی پڑھئے : سیکورٹی فورسز نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ناپاک کوشش کو بنایا ناکام


    چودھری گلزار نے کہا کہ پی ڈی پی امیدوار خالدہ بی کے حق میں ڈالے گئے ووٹوں کو آج اس بنا پر رد کیا گیا کیونکہ ایک ووٹنگ بوتھ پر پریزائیڈنگ افسر نے ووٹر سلپ پر ثبت کرنے والی مہر نہ ملنے کی بناء پر نئی مہر ووٹران کو دی اور ووٹران نے وہی مہر استعمال کی جس کو بعد میں کالعدم قرار دیا گیا۔ چودھری گلزار نے کہا کہ وہ اس نئی ووٹ شماری کے فیصلے کے خلاف پارٹی کارکنوں کو اعتماد میں لیکر ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

    ادھر آزاد امیدوار ساجدہ بیگم کے شوہر اور سیاسی لیڈر ہارون چودھری نے ووٹوں کی از سر نو ووٹ شماری کو جمہوریت کی جیت قرار دیا اور کہا کہ وہ ہائی کورٹ کی ہدایت پر انتظامیہ کے اس عمل سے کافی مطمئن ہیں۔ ہارون چودھری نے کہا کہ اب ان کے علاقے میں تعمیر و ترقی کا نیا سورج طلوع ہوگا۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: