ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سردیوں کے دوران کشمیر میں کووڈ-19 کی صورتحال ہوسکتی ہے سنگین، اسپتالوں میں مریضوں کے داخلہ میں اضافہ

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ موسم سرما میں کووڈ-19 پھیلانے والا وائرس یہاں زیادہ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں کمیونٹی میڈیسن شعبہ کے سربراہ محمدسلیم خان کہتے ہیں کہ موسم سرما میں سینے کی تکالیف ویسے ہی بڑھ جاتی ہیں اور کووڈ-19 کی موجودگی اس صورتحال کو سنگین بنا سکتی ہے۔

  • Share this:
سردیوں کے دوران کشمیر میں کووڈ-19 کی صورتحال ہوسکتی ہے سنگین، اسپتالوں میں مریضوں کے داخلہ میں اضافہ
سردیوں کے دوران کشمیر میں کووڈ-19 کی صورتحال ہوسکتی ہے سنگین، اسپتالوں میں مریضوں کے داخلہ میں اضافہ- علامتی تصویر

سری نگر: کشمیر میں چناروں کے آتشی پتوں نے شاخوں کا دامن چھوڑنا شروع کردیا ہے اور اونچے پہاڑوں پر پہلی برفباری نے سرما کی آمد کا اعلان بھی کردیا۔ موسم سرما ویسے تو ہر سال کئی مشکلیں لے کے آتا ہے، لیکن اس بارکووڈ-19 کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ موسم سرما میں کووڈ-19 پھیلانے والا وائرس یہاں زیادہ پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر میں کمیونٹی میڈیسن شعبہ کے سربراہ محمدسلیم خان کہتے ہیں کہ موسم سرما میں سینے کی تکالیف ویسے ہی بڑھ جاتی ہیں اور کووڈ-19 کی موجودگی اس صورتحال کو سنگین بنا سکتی ہے۔


ڈاکٹر سلیم خان کا کہنا ہے کہ پچھلے دو ہفتے سے اسپتالوں میں کووڈ-19 مریضوں کے داخلے بڑھنے لگے ہیں، جو آنے والی صورتحال کا عندیہ دیتے ہیں۔ جموں کشمیر میں زیادہ ترکووڈ مریض اب گھروں میں ہی کورانٹائن کئے جاتے ہیں اور زیادہ بیمار ہونے کی صورت میں ہی اسپتالوں میں داخل کئے جاتے ہیں۔ کئی مریض تو آکسیجن سیچوریشن کم ہونے پرگھروں میں ہی آکسیجن سلنڈر لاکر اس کمی کو پورا کرتے ہیں، لیکن موسم سرما میں یہ شاید ممکن نہ ہوپائےگا کیونکہ بجلی کی سپلائی کم ہوجاتی ہے اور لوڈ شیڈنگ کے سبب ان لوگوں کو بھی اسپتال کا رُخ کرنا پڑسکتا ہے۔

ڈاکٹر سلیم کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں اسپتالوں میں کووڈ کے علاوہ سینے کی تکالیف میں مبتلا دیگر مریضوں کا بھی رش لگا رہتا ہے، ایسے میں آکسیجن کی موجودہ سپلائی کافی نہیں ہوگی۔ موسم سرما میں سوائن فلو پھیلانے والا وائرس بھی کشمیر میں کافی ایکٹیو رہتا ہے اور پچھلے کچھ سالوں میں اس سے کئی افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ سوائن فلو کی علامات کووڈ کی علامات جیسی ہی ہیں۔


دوسری جانب کووڈ قواعد وضوابط پر عمل برائے نام ہے۔ سری نگر کے بازاروں میں ماسک پہنےکوئی شخص ڈھونڈنے پہ ہی ملتا ہے۔ سوشل ڈسٹنسنگ سرکاری پوسٹروں پر چپک کے رہ گئی ہے۔ بچے، بزرگ خواتین سب کے سب، لوگوں سے لبا لب بازاروں میں بے خوف گھومتے نظر آرہے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان لوگوں کو کووڈ کے خطرات کی آگہی نہیں لال چوک میں کئی لوگوں سے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ماسک تو ان کے پاس ہے، لیکن جیبوں میں سجا رکھی ہے۔ کچھ ایک تو گردنوں پر لٹکا کے گھومتے نظر آئے۔ کووڈ کے ابتدائی دور میں لوگوں نے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا، لیکن بعد میں بے پرواہ ہوگئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان لاک-1 یعنی جون کے آخرتک جہاں جموں کشمیرمیں کل 7497 کووڈ-19 کے معاملے اور 101 اموات درج ہوئیں۔ وہیں ان لاک-2 جولائی کے آخر تک کووڈ کیسوں کی
تعداد 12862 کے اضافہ کے ساتھ 20359 تک پہنچ گئی اور اموات میں 276 کا اضافہ ہوا۔ اگست مہینے میں کل نئے کووڈ  معاملات میں 17339 کا اضافہ ہوا اور اموات میں 326 کا۔

ستمبر مہینہ سب سے شدت والا ثابت ہوا۔ اس دوران کُل کووڈ کیسوں میں 37372 کا اضافہ ہوا اور اموات میں 478 کا۔ اکتوبر مہینہ میں 19715 نئے کووڈ معاملے سامنے آئے اور 297 مریضوں کی موت واقع ہوئی۔ نومبر کے پہلے پانچ دنوں میں 39 اموات ہوئی ہیں۔ 5 نومبر تک حالانکہ ایکٹیو پازیٹیو مریضوں کی تعداد 5804 ہے، لیکن جی ایم سی سری نگر کی جانب سے حال ہی جاری کی گئی سیرو پرولنس سروے کے مطابق سری نگر ضلع میں 40 فیصد سے زاید افراد میں کووڈ وائرس کے اینٹی باڈیز پائے گئے، جس کا مطلب یہ بنتا ہےکہ صرف سری نگر ضلع میں6 لاکھ افراد کو کسی نہ کسی موقع پر انفیکشن ہوا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 06, 2020 09:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading