ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز

چیف میڈیکل افسر کپواڑہ نے نیوز 18 کو بتایا کہ کووڈ مریضوں کی بڑھتی تعداد کو لے کر زچلڈارہ ہندوارہ میں ایک اور اسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ اس طرح سے ضلع میں آئیسولیشن سنٹروں کی تعداد تین ہوگی ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر  کے کپواڑہ ضلع میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز
جموں و کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 1000 سے تجاوز

سخت ترین بندشوں کے نفاذ کے باوجود کپوارہ ضلع میں مہلک بیماری کورونا وائرس کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور گزشتہ دس روز میں کورونا متاثرین کی تعداد میں زبردست تیزی آئی ہے ۔ گزشتہ چار روز کے دوران ایک سو پچاس نئے معاملات درج کئے گئے ہیں ۔ ضلع میں کورونا کی روم تھام کیلئے بارہ جولائی سے سخت لاک ڈاون ہے جو کہ پچیس جولائی تک جاری رہے گی ۔ ضلع میں اب تک متاثرین کی تعداد ایک ہزار ت جا پہنچی ہے ، جن میں سے چھ سو سات اب تک شفایاب ہوگئے ہیں جبکہ تین سو چوراسی ابھی ایکٹیو ہیں ۔ ضلع میں کورونا وائرس سے گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں سولہ افراد موت کی آغوش میں پہنچ گئے ہیں ۔ اس دوران انتظامیہ نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور سماجی دوری کا خاص خیال رکھیں ۔


اگر چہ ایک طرف عوام لاک ڈاؤن کی پاسداری کررہے ہیں تو وہیں دوسری طرف  ہر گزرتے دن کے ساتھ کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ چیف میڈیکل افسر کپواڑہ  نے نیوز 18 کو بتایا کہ کووڈ مریضوں کی بڑھتی تعداد کو لے کر زچلڈارہ ہندوارہ میں ایک اور اسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ اس طرح سے ضلع میں آئیسولیشن سنٹروں کی تعداد تین ہوگی ۔


واضح رہے کہ ابھی تک کووڈ 19 کے مریضوں کیلئے دو اسپتال قائم کے گئے ہیں ، جہاں اس بیماری میں مبتلا مریضوں کو آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے ۔ جبکہ ضلع میں چار مریضوں کے  درد میں اضافہ ہونے پر آکسیجن پر رکھا گیا ہے ۔ وہیں اب سرینگر کے بڑے اسپتالوں میں جگہ کی کمی کے باعث اب ڈسٹرکٹ اسپتالوں میں ہی کورونا متاثرین کا علاج کیا جائے گا ۔


محکمہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اب سماجی دوریوں کا خاص خیال رکھنا ہوگا اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہوگا ۔ جبکہ شادی کی تقریبات بھی سادگی سے انجام دینے کی ضرورت ہے ۔ محکمہ صحت کے ایک افسر نے نیوز 18 کو بتایا کہ سرحدی علاقہ کرناہ میں کورونا کے کیسوں میں اضافہ کی ایک وجہ شادی کی تقریب بھی ہے ، کیونکہ اس علاقہ میں شادی کی تقریب میں لوگوں کی ایک تعداد جمع ہوگئی تھی اور سماجی دوری کا خیال نہیں رکھا گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے اب وہاں ہر روز کورورنا کے کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔

چیف میڈیکل افسر کپواڑہ ڈاکٹر کے امین نے نیوز 18 کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہا کہ عوام کو احتیاط سے کام لینا چاہئے ۔ تاکہ اس بیماری پر قابو پایا جاسکے ۔ انہوں کہا کہ ضلع میں کوررونا وائرس کے کیسوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ کے نتیجے میں اب ضلع میں ایک اور اسپتال کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ، جس کے ساتھ ہی ضلع میں آئیسولیشن سنٹروں کی تعداد تین ہو جائے گی اور آنے والے دنوں میں  کورورنا متاثریں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔

ادھر ڈپٹی کمشنر کپواڑہ انشل گرک نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کورورنا کیسوں میں اضافہ کو لے کر کرناہ سے کپواڑہ لینگٹ لولاب تک لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ ضلع میں پہلے ہی تمام تحصیلداروں کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ ماسک کے بغیر چلنے والے افراد پر 500 روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے ۔ تاکہ لوگ ایس او پی پر عمل کریں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 24, 2020 11:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading