ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

بانڈی پورہ کے سرحدی علاقے گریز میں کووڈ ٹیکہ کاری، برفانی تودوں پر چل کر ہیلتھ ورکر لوگوں کو دے رہے ہیں کووڈ ویکسین

محکمہ صحت کے مطابق اب تک 45 سال سے اوپر اٹھانوے فیصد لوگوں کو کووڈ کا ٹیکہ لگایا جاچکا ہے۔

  • Share this:
بانڈی پورہ کے سرحدی علاقے گریز میں کووڈ ٹیکہ کاری، برفانی تودوں پر چل کر ہیلتھ ورکر لوگوں کو دے رہے ہیں کووڈ ویکسین
محکمہ صحت کے مطابق اب تک 45 سال سے اوپر اٹھانوے فیصد لوگوں کو کووڈ کا ٹیکہ لگایا جاچکا ہے۔

محمد سعید کووڈ کی دوسری لہر کے چلتے جہاں ڈاکٹرس اور دوسرا نیم طبعی عملہ اسپتالوں میں چوبیسوں گھنٹے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہیں زمینی سطح پر ہیلتھ ورکر دوسرے محکموں کے عملے کے ساتھ مل کر کووڈ ویکسی نیشن کا اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ بانڈی پورہ کے سرحدی علاقے گریز میں بھی ہیلتھ ورکر دشوار ترین حالات میں لوگوں کے پاس جاکر ان کو کوویڈ ویکسین لگاتے ہیں۔ گریز اور تُلیل تحصیلوں پر مشتمل اس علاقے میں موسم سرما میں آٹھ سے لیکر دس فُٹ تک برف باری ہوتی ہے۔ برف باری کی وجہ سے ہی یہ علاقے تقریبا چھ ماہ تک باقی ملک سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ گریز اور تُلیل میں آبادی دور دور اور اونچے پہاڈی ڈھلانوں پر آباد ہیں آج بھی گریز اور تُلیل میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر مکمل سڈک رابطہ نہیں ہے جب کہ پورے گریز اور تُلیل میں شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں پر برفانی تودے گر آنے کا خطرہ نہ ہو تاہم ان تمام تر مشکلات کے باوجود گریز اور تُلیل میں ہیلتھ ورکروں نے کہی کلو میٹر پیدل چل کر اور برفانی تودوں پر رینگتے ہوئے لوگوں کو کوویڈ ویکسن لگائے ۔


گریز میں محکمہ صحت کے مطابق پینتالیس سال سے اوپر اٹھانوے فی صد لوگوں کو ویکسین لگائی جاچکی ہے اور اس کا سہرا ان ہیلتھ ورکروں کو جاتا ہے جنہوں نے تمام تر کٹھنایئوں کے باوجود بھی لوگوں کے پاس پہنچ کر انھیں اپنے گھروں میں ہی ویکسین لگائے ۔ محکمہ صحت کے مطابق بکتور علاقے میں محمد سلطان ہرے نامی ایک ہیلتھ ورکر کی ایک تصویر ڈبلیو ایچ او کے کلینڈر پر بھی شائع ہوئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح محمد سلطان برف باری میں کووڈ ویکسین لگانے کی مہم پر جارہے ہیں۔ مشکل ترین حالات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جس طرح گریز میں ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکروں نے کووڈ ویکسی نیشن کی مہم چلائی وہ قابل ستائش ہے۔


قابل ذکر بات یہ ہے کہ پورے گریز خطے میں برقی رو کا کوئی نام و نشان نہیں ہے اور لوگوں کو شام کے وقت چند گھنٹوں کے لئے جنریٹروں کے زریعے بجلی فراہم کی جاتی ہے جب کہ آج بھی اس سرحدی خطے میں موثر مواصلاتی نظام لوگوں کو دستیاب نہیں ہے۔ تاہم بے سرو سامانی کی حالت میں بھی گریز کے ہیلتھ ورکر کووڈ کی دوسری لہر سے نبرد آزما ہے۔ نیوز 18اردو بھی ان جاں باز ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکروں کو سلام پیش کرتا ہے۔ ان فرنٹ لائن ورکروں کے حوصلے اور جزبے کو دیکھ کر ہمارا یہ یقین اور بھی مستحکم ہوجاتا ہے کہ ہم مل کر کووڈ کو ضرور ہرائیں گے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Jun 06, 2021 01:43 PM IST