ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

لاک ڈاؤن سے ٹرانسپورٹ کا شعبہ بری طرح متاثر، پیٹ بھرنے کیلئے کچھ ایسا کرنے کو لوگ ہوئے مجبور

کشمیر میں پابندیوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ شعبہ کو بری طرح مار جھیلنی پڑ رہی ہے۔ اگست دو ہزار اُنیس سے ٹرانسپورٹرس کی حالت اتنی خراب ہوچکی ہے کہ اب وہ اپنوں کا پیٹ بھرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔

  • Share this:

کشمیر میں پابندیوں کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ شعبہ کو بری طرح مار جھیلنی پڑ رہی ہے۔ اگست دو ہزار اُنیس سے ٹرانسپورٹرس کی حالت اتنی خراب ہوچکی ہے کہ اب وہ اپنوں کا پیٹ بھرنے کے قابل بھی نہیں رہے۔ مالکان اب بسوں کے پرزے اور آلات بیچنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ بس کےمختلف حصوں پر ہتھوڑا چلاتا یہ شخص اسکریپ ڈیلر نہیں بلکہ یہ بس اسُی کی ہے۔۔اپنے روزگار کے ذریعے پر ہتھوڑا چلانےکی نوبت اس شخص پر آن پڑی ہے ۔۔کافی خوشی خوشی اُس نے یہ بس خریدی تھی ۔۔درحقیقت بلال احمد کے درد کو کوئی سمجھ نہیں پائے گا۔کیوں کہ محض چند روپیوں کی خاطر بلال کو یہ انتہائی تکلیف دہ قدم اٹھانا پڑا ہے ۔ کے ایم ڈی بس کا مالک ہونے پر بلال کو فخر ہوا کرتا تھا۔۔لیکن اب کچھ کوڑیوں کے لیے بلال اپنی بس کے ٹکڑے کر رہا ہے۔


مالی مشکلات کے سبب بلال جیسے لوگ اپنی گاڑیاں اسکریپ ڈیلروں کو فروخت کر ر ہے ہیں۔۔در اصل وادی کے ٹرانسپورٹرس سال دو ہزار چودا میں آئے سیلاب کے بعد سے ہی طرح طرح کے مسائل کا شکار ہوچکے تھے ۔۔ بلال کی ہی طرح نو بس مالکا ن نے اپنی بسیں اسکریپ ڈیلروں کو بیچ دی ہیں ۔۔ اپنے گھر والوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے لیے اُنہیں یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔ سال دو ہزار چودا کے سیلاب میں ان میں سے زیادہ تر بسوں کو نقصان پہنچا تھا ،۔۔ہمیشہ کی ہی طرح ہر حکومت نے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا ،۔۔لیکن کسی نے بھی اپنے وعدے کو وفا کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔۔سال دو ہزار اُنیس کے بعد سے مسلسل لاک ڈاؤنس کی وجہ سے ٹرانسپورٹ سیکٹرکادیوالیہ ہوچکا ہے۔۔قرضوں کی قسطیں بنتے بنتے ، انشورنس اور ٹیکسوں کی ادائیگی کر تے کرتےیہ ڈرائیور اب تھک چکے ہیں ،۔۔کیوں کہ اب بوجھ نا قابل برداشت بن چکا ہے۔۔


حکومتیں ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے احیاء کے لیے لگاتار کئی طرح کے وعدے کرتی آئی ہیں ۔۔لیکن کوئی ٹھوس قدم اٹھانے سے ابھی تک بھی گریز کیا جاتا رہا ہے ۔۔حکام نے اپنے آرام دہ دفتروں میں بیٹھ کر مالی تعاون کے حکام نامے صادر تو کردیے،۔۔لیکن کسی کو یہ جاننے میں دلچسپی نہیں کہ زمینی سطح پر اُن احکامات پر عمل در آمد ہوا یا نہیں ۔۔اَسی اور نوے کی دہائی میں ایسی بسوں کو ،۔۔کے ایم ڈی بسوں کے نام سے جانا جاتا تھا۔۔یہ مسافر بسیں سڑکوں کی رونق بڑھایا کرتی تھیں۔۔لیکن ان دنوں یہ بسیں ایسے یارڈس میں پڑی پڑی خراب ہورہی ہیں۔۔گذشتہ تین برسوں کے دوران صرف چند دن ہی یہ بسیں سڑکوں پر چل سکی ہیں ۔۔


کووڈ وباء کی وجہ سے صرف قیمتی جانیں ہی ضائع نہیں ہوئیں بلکہ اُس نے معیشت کی بھی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔۔لاکھوں لوگوں نے اپنا ذریعہ روزگار کھو دیا ہے ۔۔اور اُن کے پاس انتہائی غربت بھری زندگی گذارنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ر ہ گیا ہے۔۔ایسے میں ایل جی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ ٹرانسپورٹروں کے مسائل کے تئیں بیداری کا ثبوت دے ، اور ایک جامع پیکیج کا اعلان کیا جائے تاکہ بلا ل جیسے ڈرائیوروں کو اپنی من پسند کی گاڑیاں اسکریپ ڈیلروں کےہاتھوں فروخت نہ کرنا پڑے
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 05, 2021 04:46 PM IST