உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں-کشمیر میں کووڈ  کرفیو میں اضافہ، جمعہ کی دوپہر سے weekend curfew کرفیو نافذ

     کووڈ مثبت کیس میں مسلسل اضافے اور اومیکرون کی موجودگی کے چلتے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ حاملہ سرکاری ملازمین کو دفتر کے بجائے گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    کووڈ مثبت کیس میں مسلسل اضافے اور اومیکرون کی موجودگی کے چلتے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ حاملہ سرکاری ملازمین کو دفتر کے بجائے گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    کووڈ مثبت کیس میں مسلسل اضافے اور اومیکرون کی موجودگی کے چلتے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ حاملہ سرکاری ملازمین کو دفتر کے بجائے گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    • Share this:
    سرینگر: جموں کشمیر میں کووڈ کرفیو  weekend curfew بڑھا دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کے نئے حکم نامہ کے مطابق اب جمعہ کو دن کے 2 بجے سے پیر کی صبح 6 بجے تک صرف لازمی خدمات کو جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔ اس سے قبل ہفتہ میں سنیچر اور اتوار کو ہی یہ پابندی عائد کی گئی تھی۔ تازہ حکم نامہ میں لکھا گیا ہے کہ کووڈ مثبت کیس میں مسلسل اضافے اور اومیکرون کی موجودگی کے چلتے یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ حاملہ سرکاری ملازمین کو دفتر کے بجائے گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ تیزی سے بڑھ رہئے کووڈ معاملات مکمل لاک ڈاؤن کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خود ساختہ ماہرین کی طرف سے دئیے جارہے بیانات پر دھیان دینے کے بجائے لوگوں کووڈ رہنما خطوط پر عمل کرنا چاہئے۔ ادھر پچھلے چوبیس گھنٹے میں جموں کشمیر میں 5992 نئے کووڈ معاملے درج کئے گئے ہیں جن میں سے کشمیر وادی میں 4072 اور جموں صوبہ میں 1920 کووڈ مثبت معاملے درج کئے گئے۔اس دوران 7 اموات بھی ہوئی ہیں جن میں سے 5 جموں صوبہ میں اور دو کشمیر میں۔

    جموں صوبہ کا جموں صوبہ اور کشمیر میں سرینگر ضلع میں سب سے زیادہ کووڈ مثبت معاملے درج کئے گئے ہیں۔ سرینگر میں 1306 اور جموں ضلع میں 1217 نئے کووڈ معاملے درج کئے گئے۔ کشمیر وادی کے دس اضلاع میں سے صرف ایک ضلع شوپیاں ایسا ہےجہاں کیس 100 سے کم ہیں لیکن اسپتالوں میں کووڈ مریض زیادہ نہیں ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 8.97 فیصد بستروں پر مریض ہیں اور باقی کووڈ مریضوں کے لئے مخصوص بستر خالی ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: