உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر میں کریک ڈاؤن، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مزید سات مذہبی رہنما زیر حراست

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    جمعے کو حراست میں لیے گئے سات افراد میں سے دو عبدالرشید داؤدی اور مشتاق احمد ویری شامل ہیں، ان مبلغین کی سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں پیروکار ہیں۔ ایک بریلوی عالم داؤدی جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں واقع ’تحریک صوت الاولیاء‘ کے سربراہ ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu, India
    • Share this:
      حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے مختلف حصوں سے پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت پولیس نے ہفتے کے روز مزید سات مذہبی رہنماوؤں کو حراست میں لیا ہے۔ اس سے قبل دو مذہبی مبلغین کو حراست میں لیا گیا تھا۔ متنازعہ پی ایس اے کے تحت حراست میں لیے گئے افراد میں ممتاز مذہبی مبلغ سرجان برکاتی (Sarjan Barkati) اور اوقاف کے صدر نذیر احمد خان (Nazir Ahmad Khan) بھی شامل ہیں۔

      اس معاملے سے واقف ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد کے خلاف پی ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں جموں منتقل کیا گیا ہے۔ جمعہ کو بریلوی، جمعیت اہلحدیث (JaH) یا سلفی گروپوں اور کالعدم جماعت اسلامی (JeI) کے ارکان سمیت سات افراد کو اس ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا۔

      پولیس نے گرفتاریوں کی وجوہات کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ پی ایس اے کے تحت حکام کسی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے دو سال تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔ جمعے کو حراست میں لیے گئے سات افراد میں سے دو عبدالرشید داؤدی اور مشتاق احمد ویری شامل ہیں، ان مبلغین کی سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں پیروکار ہیں۔

      کشمیر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے جمعہ کو ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ دو مذہبی افراد (مولوی) اور پانچ جے آئی کارکنوں کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ ایک بریلوی عالم داؤدی جنوبی کشمیر کے اننت ناگ میں واقع ’تحریک صوت الاولیاء‘ کے سربراہ ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ یہ گرفتاریاں بی جے پی کی فرقہ وارانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: