ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر میں "ترکی مرغا" پالنے کا بڑھ رہا ہے رجحان ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

ڈاکٹر ظہور احمد صوفی نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ ترکی نامی مرغا دراصل یوروپ کی پیداوار ہے ۔ اس نسل کوترکی کے راستے سے ہی مختلف ممالک میں پہنچایا گیا ، اسی وجہ سےمرغے کی اس نسل کا ترکی مرغا نام پڑگیا ۔

  • Share this:
وادی کشمیر میں
وادی کشمیر میں "ترکی مرغا" پالنے کا بڑھ رہا ہے رجحان ، جانئے کیا ہے اس کی وجہ

وادی کشمیر میں متعارف کئے گئے غیر ملکی مرغے پالنے کا رجحان اب خاصا نظر آرہا ہے ۔ ان مرغوں میں خاص طورپر ون راج اور ترکی نام کے مرغے پالنے کا سلسلہ یہاں شروع ہوا ہے ۔ لوگ اپنے گھروں کے صحن میں ان مرغوں  کو پالتے ہیں ۔ ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں نے روزگار حاصل کرنے کی غرض سے مختلف مقامات پر اپنے یونٹس کھڑا کئے ہیں ، جن میں ترکی نام کے مرغوں کو پالا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر ظہور احمد صوفی نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ ترکی نامی مرغا دراصل یوروپ کی پیداوار ہے ۔ اس نسل کوترکی کے راستے سے ہی مختلف ممالک میں پہنچایا گیا ، اسی وجہ سےمرغے کی اس نسل کا ترکی مرغا نام پڑگیا ۔


شِپ پورہ ماگام  سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان محمد شفیع راتھر نے مرغے پالنے کے کئی یونٹس قائم کر کے روزگار حاصل کرنے کی ایک مثال قائم کی ۔ محمد شفیع نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ جب انہیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری نوکری نہیں ملی ، تو انہوں نے اس طرح کے یونٹ کھڑا کرکےاپنا روزگار شروع کیا ، جو انہیں کافی سود مند ثابت ہوا ۔ محمد شفیع ان یونٹس میں ترکی ، ون راج ، کےاسٹون اور کڈک ناک نامی مرغے پال رہے ہیں ۔


محمد شفیع کے مطابق لوگ یہاں ترکی اور ون راج نام کے مرغوں کا گوشت استعمال کرتے ہیں ۔ بلکہ گھروں میں پالنے کے لئے بھی خریدتےہیں ۔ شفیع نے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے یونٹس کھڑا کرنے سے وہ ایک اچھا روزگار حاصل کرسکتے ہیں ۔ محکمہ انیمل ہسبنڈری کے ڈاکٹر بھی ترکی اور دیگر مرغوں کے پالنے اور ان کا گوشت استعمال کرنے کو انسانی صحت کیلئے مفید بتاتے ہیں ۔


ترکی نامی مرغا دراصل یوروپ کی پیداوار ہے ۔ اس نسل کوترکی کے راستے سے ہی مختلف ممالک میں پہنچایا گیا ، اسی وجہ سےمرغے کی اس نسل کا ترکی مرغا نام پڑگیا ۔
ترکی نامی مرغا دراصل یوروپ کی پیداوار ہے ۔ اس نسل کوترکی کے راستے سے ہی مختلف ممالک میں پہنچایا گیا ، اسی وجہ سےمرغے کی اس نسل کا ترکی مرغا نام پڑگیا ۔


ڈاکٹر ظہور احمد صوفی نے نیوز 18 اردو کو بتایا کہ ترکی نام کے مرغے روایتی طور طریقے اور بہت ہی کم خرچ سے پال سکتے ہیں اور ان مرغوں میں گوشت کی مقدارعام مرغوں کی بجائے چار گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ ان کی غذا میں گھاس پھوس کا ہی زیادہ استعمال ہوتا ہے ۔ موصوف نے مزید بتایا کہ ترکی اور ون راج مرغوں کا گوشت انسانی صحت ، بچوں کی دماغی نشو و نما اور دل کے امراض کیلئے کافی مفید ہے ۔

محمد شفیع راتھر نے بتایا کہ انہوں نےجب کئی لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھا ، تو انہوں نے بھی ایک مضبوط  اور مصمم ارادے سے پہلے ایک یونٹ کھولا اور جب انہیں احساس ہوا کہ یہ ایک نفع بخش اور فائدہ مند تجارت ہے ، تو انہوں نے پھر مزید کئی یونٹس شروع کردئے ۔ محمد شفیع نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اس بے روزگاری کے دور میں اپنے پاوں پر کھڑا ہو کر روزگار حاصل کرنے کیلئے اس طرح کے یونٹس لگانے کا مشورہ دیا ۔ بے روزگاری کے بڑھتے رجحان کو کم کرنے کیلئے اس طرح کے یونٹس کافی سود مند ثابت ہوسکتے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 21, 2020 11:18 PM IST