உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر سے کنیا کماری تک سائیکل ریس، سائیکلنگ کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو اس جانب راغب کرنے کی ایک مہم

    ملک کے مختلف ریاستوں کے یہ سائیکلسٹ پہلے کشمیر آئے یہاں انہوں نے کئی روز تک قیام کیا اور تربیت حاصل کی۔

    ملک کے مختلف ریاستوں کے یہ سائیکلسٹ پہلے کشمیر آئے یہاں انہوں نے کئی روز تک قیام کیا اور تربیت حاصل کی۔

    فوج کی ٹو آر آر کے زینہ کوٹ سری نگر ہیڈ کوارٹر سے اس ریس کا آغاز ہوا۔ کشمیر سے کنیا کماری تک عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے کشمیری سائیکلسٹ عادل احمد تیلی نے فوجی افسران کی موجودگی میں ہری جھنڈی دکھا کر انہیں روانہ کیا۔

    • Share this:
    کشمیر میں سائکلنگ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے اور یہاں کے نوجوانوں کو اس جانب راغب کرنے کی ایک مہم کے تحت فوج کی ٹو آر آر کی جانب سے اہم پہل کرتے ہوئے کشمیر سے کنیاکماری تک سائیکل ریس کا اہتمام کیا۔اس ریس میں ملک کی مختلف ریاستوں سے نامور سائیکلٹس نے شرکت کی جس میں خواتین سائیکلسٹ بھی شامل ہیں۔ یہ سائیکلسٹ اٹھارہ سے بیسٹھ سال کی عمر کے زمرے کے ہیں۔جس میں بیسٹھ سال کے سائیکلسٹ نے بھی حصہ لیا۔ فوج کی ٹو آر آر کے زینہ کوٹ سرینگر ہیڈ کوارٹر سے اس ریس کا آغاز ہوا۔ کشمیر سے کنیاکماری تک عالمی ریکارڈ قائم کرنے والے کشمیری سائیکلسٹ عادل احمد تیلی نے فوجی افسران کی موجودگی میں ہری جھنڈی دکھا کر انہیں روانہ کیا۔

    واضح رہے کہ یہ سائیکلسٹ دن میں دو سو کلو میٹر کا سفر طے کریں گے ۔ ملک کے مختلف ریاستوں کے یہ سائیکلسٹ پہلے کشمیر آئے یہاں انہوں نے کئی روز تک قیام کیا اور تربیت حاصل کی۔ انہوں نے کشمیر کی خوبصورتی اور یہاں کی مہمان نوازی کی بھی تعریفیں کیں۔ حیدر آباد سے تعلق رکھنے والی پوروی نامی ایک خاتون سائیکلسٹ نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں آکر انہیں کافی خوشی ہوئی،انہوں نے کہاکہ یہاں کے لوگ واقعی مہمان نوازی میں لاجواب ہیں۔  اتر پردیش سے آئی ہوئی لکشمی  نامی خاتون جن کا شوہر فوجی آفیسر ہیں، نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ کافی خوش ہیں کہ وہ کشمیر سے کنیاکماری تک سائیکل ریس کرنے جارہی ہیں۔

    انہوں نے کہاکہ ان کے شوہر نے انہیں کافی حوصلہ دیا ہے انہوں نے اس پہل پر ان کا خوب ساتھ دیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کشمیر سے کنیاکماری تک تین ہزار سات سو کلو میٹر کی مسافت طے کرنا کافی کھٹن ہوگا تاہم وہ اپنے حوصلے اور مضبوط ارادے سے مکمل کریں گی۔ حیدرآباد سے آئے ہوئے جین کمارنامی سائیکلسٹ نے نیوز18اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم اس لئے شروع کی کہ وہ چاہتے ہیں کہ سائکلنگ کا رجحان ملک بھر میں عام ہو۔انہوں نے کہاکہ بچوں کو بچپن سے ہی سائکلنگ کی طرف راغب کرنا چاہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب سے کورونا وائرس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تب سے یہ مشاہدہ کیاگیا کہ جو بھی کھیل کود سے منسلک تھے وہ کووڈ سے محفوظ رہے۔انہیں کسی طرح کا کوئی انفکشن نہیں ہوا۔ ہریانہ کے روندر نوری  سائیکلسٹ نے کہاکہ اس بارحرکت قلب بند ہونے سے نوجوانوں کی اموات بہت زیادہ ہورہی ہے،اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نوجوان جسمانی ورزش کرنے میں لیت ولعل سے کام لیتے ہیں۔

    انہوں نے زور دیاکہ ملک بھر کے نوجوانوں کو جسمانی طور پر مضبوط رہنا چاہیے۔ اس موقع عادل احمد تیلی جنہوں نے گزشتہ سال کشمیر سے کنیاکماری تک سائیکلنگ میں عالمی ریکارڈ قائم کیا،نے ہری جھنڈی دکھا کر ان سائیکلسٹس کو روانہ کرنے سے پہلے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتہائی مسرت ہوئی کہ انہیں آج ملک بھر سے آئے ہوئے سائیکلسٹس سے ملنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہاکہ وہ پہلے عالمی ریکارڈ قائم کرگئے تاہم انہوں نے ملک کی مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے ان سائکلسٹس کو یہ مسافت عبور کرنے کے مشورے دئے اور اپنی مہارت سے سبھی کو فیضیاب کیا۔ عادل تیلی نے کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ کھیل کے ہر میدان میں اپنی چھپی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے دکھائیں۔ فوج کے آفسران نے بھی نیوز18اردو کو بتایاکہ فوج کی یہی کوشش ہے کہ وہ کس طرح یہاں کے نوجوانوں کو کھیل کود کی جانب راغب کرسکیں تاکہ وہ ملک کانام روشن کرسکیں۔ ایک فوج آفیسر نے بتایا کہ کشمیر سے اب اچھا خاصا ریسپانس مل رہاہے نوجوان اب کافی تعداد میں کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی یہ ہے کہ سرکار کو بھی چاہیے کہ وہ کھیل کود کا انفراسٹرکچر مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے اور نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے میں مزید پہل کریں۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: