உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش: دفاعی ماہرین

    Jammu and Kashmir: غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش: دفاعی ماہرین

    Jammu and Kashmir: غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش: دفاعی ماہرین

    جموں وکشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد میں رواں برس کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ فوج کی شمالی کمان کی طرف سے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یوٹی میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد 200 سے کم ہے۔ رواں برس جنوری سے مارچ تک کے تین ماہ کے عرصے کی تفصیلات دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد 172 ہے، جن میں سے 79 غیر ملکی دہشت گرد ہیں جبکہ باقی مقامی دہشت گرد ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں وکشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد میں رواں برس کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ فوج کی شمالی کمان کی طرف سے جاری حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یوٹی میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد 200 سے کم ہے۔ رواں برس جنوری سے مارچ تک کے تین ماہ کے عرصے کی تفصیلات دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں سرگرم دہشت گردوں کی تعداد 172 ہے، جن میں سے 79 غیر ملکی دہشت گرد ہیں جبکہ باقی مقامی  دہشت گرد ہیں۔
    دفاعی ماہرین دہشت گردوں کی تعداد میں کمی کو ایک مُثبت  پیش رفت سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم وہ غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافے کو باعث تشویش مانتے ہیں۔ سلامتی امور سے متعلق ماہر ریٹائیرڈ کیپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے  زیادہ سے زیادہ غیر ملکی دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں داخل کرنے کا مقصد کشمیر میں ملٹینسی کے واقعات میں اضافہ کرنا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا: پاکستان کی ہمیشہ سے ہی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ غیر ملکی دہشت گردوں کو جموں و کشمیر میں داخل کرے تاکہ وہ ان کی مدد سے جموں وکشمیر میں تخریبی کاروائیاں انجام دے پائے۔

    پاکستان مقامی دہشت گردوں کے بجائے غیر ملکی دہشت گردوں پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے، لہٰذا وہ اس طرح کی کوششوں میں مصروف ہے۔ جموں وکشمیر میں مقامی نوجوانوں کی طرف سے دہشت گردانہ صفوں میں شامل ہونے کے رُجحان میں کمی آنے کے باعث بھی پاکستان غیر ملکی دہشت گردوں کو جموں وکشمیر میں دھکیل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرچہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو کنٹرول لائن اور بین الاقوامی سرحد کے اس پار بھیجنے کی زیادہ تر کوششیں ناکام بنائی جاتی ہیں، تاہم یہ اعداد وشمار ظاہر کر رہے ہیں کہ غیر ملکی دہشت گرد کچھ تعداد میں جموں وکشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، جس پر قابو پانا نہایت لازمی ہے۔

    جموں وکشمیر کے سابق ڈائریکٹر پولیس ایس پی وید نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں  غیر ملکی دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر قابو پانے کی ضرورت ہے تاکہ حالات کو مزید بگڑنے سے روکا جاسکے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ گُفتگو کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا: میں نے بھی یہ رپورٹ پڑھی ہے، حالانکہ دہشت گردوں کی مجموعی تعداد دو سو سے کم ہونا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ حالات میں  بہتری واقع ہو رہی ہے۔ تاہم غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد 79 بتائی گئی ہے، جو باعث تشویش ہے۔ غیر ملکی دہشت گردوں کی یہ تعداد کنٹرول لائن اور بین الا اقوامی سرحد پر فوج اور دیگر حفاظتی عملے کی چوکسی پر بھی سوال کھڑا کرتا ہے، کیونکہ غیر ملکی دہشت گرد سرحد پار کرکے ہی ہمارے علاقے میں داخل ہوتے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سرحد کے کچھ مقامات پر نگرانی میں کمی ہے۔ لہذا چوکسی کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    ملک کے نام خطاب میں Imran Khan نے کہا- پاکستان میں کھلے عام ہو رہی ہے اراکین پارلیمنٹ کی خریدوفروخت

    ایس پی وید نے کہا کہ غیر ملکی دہشت گردوں کی جموں و کشمیر میں زیادہ تعداد میں موجودگی کئی لحاظ سے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا: غیر ملکی دہشت گرد نہ صرف دہشت گردانہ حملے انجام دینے کے لئے منصوبہ بندی کرتے ہیں بلکہ وہ مقامی نوجوانون کو گُمراہ کرکے دہشت گردانہ صفوں میں شامل کرنے کا خطرناک کھیل بھی کھیلتے ہیں، جس کے سبب وادی میں امن و قانون کی صورتحال بگڑ جاتی ہے۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم میں بہتری آنے کے ساتھ ہی جموں وکشمیر میں کنٹرول لائن سے متصل علاقوں میں اب برف پگلنے لگی ہے، لہٰذا پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو جموں وکشمیر میں داخل کرنےکی کوششوں میں اضافہ ہوگا۔ اس کے پیش نظر کنٹرول لائن پرحفاظتی عملے کی چوکسی کو مزید چُست کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دراندای کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: