ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

شوپیان میں سرسبز جنگلوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی مسلسل جاری، انتظامیہ خاموش تماشائی

جنت نظیر وادی کشمیر کا دلکش موسم، یہاں کے پانی کے ذخائر اور یہاں کی معتدل آب و ہوا یہاں کے سبز سونے یعنی جنگلوں کی ہی بدولت ہے۔ لیکن بےحد مایوس کن ہے کہ اس سبز سونے کو یہاں برسوں سے سرگرم خود غرض اسمگلروں کی جانب سے لوٹاجا رہا ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

  • Share this:
شوپیان میں سرسبز جنگلوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی مسلسل جاری، انتظامیہ خاموش تماشائی
شوپیان میں سرسبز جنگلوں میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی مسلسل جاری

 شوپیان۔ جنت نظیر وادی کشمیر کا دلکش موسم،  یہاں کے پانی کے ذخائر اور یہاں کی معتدل آب و ہوا یہاں کے سبز سونے یعنی جنگلوں کی ہی بدولت ہے۔ لیکن بےحد مایوس کن ہے کہ اس سبز سونے کو یہاں برسوں سے سرگرم خود غرض اسمگلروں کی جانب سے لوٹاجا رہا ہے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔


جنوبی کشمیر کے شوپیان میں سر سبز جنگلوں میں رواں دنوں درختوں کی غیر قانونی کٹائی لگاتار جاری ہے اور درجنوں ملازمین کے باوجود بھی یہ کام محکمہ کی ناک کے نیچے دن دھاڑے کیا جا رہا ہے۔ کمپارٹمنٹ نمبر 31 اور 32 کے ناگون بلاک میں رواں دنوں سر سبز اور جسیم درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ علاقے میں درجنوں  کٹے ہوئے درختوں کے تنے اور کٹی ہوئی لکڑی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس مقام پر نظارہ اتنا مایوس کن ہے کہ اسے لفظوں میں بیاں نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں پر یہ غیر قانونی کام جاری ہے ان میں بلاک تھارینہ،  گولولی،  تڈا ولی،  اور ناگون مقامات شامل ہیں۔


عینی شاہدین کے مطابق یہ کام خود غرض جنگل اسمگلر دن دھاڑے بنا کسی روک و بنا کسی ڈر کے کرنے میں محو ہیں۔ مایوس کن ہے کہ  متعلقہ محکمہ یا صوبائی انتظامیہ کی جانب سے اس سبز سونے کی لوٹ کو روکنے اور قومی سرمایہ کو بچانے کے لئے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں ہو رہی ہے جس سے عوام حیران و پریشان ہیں۔تاہم محکمہ کی جانب سے دعوی کیا جاتا ہے کہ ان کے پاس نفری کم ہے جبکہ جنگل وسیع علاقہ پر پھیلا ہوتا ہے۔ لیکن عوام کا کہنا ہے کہ اس عذر کے سبب جنگلات کو کٹنے نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ  سرکار کو ان سب کو روکنے کے لئے جامع پیمانہ پر کاروائی کرنا ہوگی۔


ارشاد احمد ملک کی رپورٹ
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 22, 2020 11:55 AM IST