ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر کا چار روزہ دورہ کیا مکمل ، کہی یہ بڑی بات

Jammua and Kashmir News : کمیشن کی سربراہ ریٹائرڈ جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی اور چیف الیکشن کمشنر سشیل چندن نے کمیشن کے حالیہ دورے کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار روز کے دوران کمیشن نے لگ بھگ 800 افراد کے ساتھ ملاقات کی ، جن میں سیاسی جماعتوں کے وفود اور سرکاری عہدیداران اور سماج کے مختلف طبقات سے وابستہ افراد شامل تھے۔

  • Share this:
حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر کا چار روزہ دورہ کیا مکمل ، کہی یہ بڑی بات
حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر کا چار روزہ دورہ کیا مکمل ، کہی یہ بڑی بات

جموں و کشمیر: جموں و کشمیر کا اپنا چار روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد حد بندی کمیشن نے اپنے کام کاج سے متعلق ظاہر کئے گئے تمام خدشات کو دور کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے تعلق سے فیصلہ لینے سے قبل سیاسی جماعتوں اور دیگر متعلقہ افراد کی آرا کو مدنظر رکھا جائے گا ۔ کمیشن کی سربراہ ریٹائرڈ جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی اور چیف الیکشن کمشنر سشیل چندن نے کمیشن کے حالیہ دورے کو انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ چار روز کے دوران کمیشن نے لگ بھگ 800 افراد کے ساتھ ملاقات کی ، جن میں سیاسی جماعتوں کے وفود اور سرکاری عہدیداران اور سماج کے مختلف طبقات سے وابستہ افراد شامل تھے۔


جموں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سشیل چندن نے کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران حد بندی سے متعلق حاصل کی گئی جانکاری پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن 2011 کی مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی انجام دے گا ۔ چندن نے کہا کہ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد جموں و کشمیر اسمبلی میں مزید 7 نشستوں کا اضافہ ہوگا ۔ چندن نے یقین دلایا کہ کمیشن شفافیت سے اپنی ذمہ داری نبھا کر حد بندی سے متعلق حتمی فیصلہ لینے سے قبل مسودے کو عام لوگوں کے سامنے رکھے گا ، تاکہ وہ اپنی آراء کمیشن کے سامنے رکھ سکے۔


ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ الیکسن کمیشنر نے واضح کیا کہ اسمبلی نشستوں کی حد بندی سے متعلق کمیشن پر کسی طرح کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور نہ ہی کمیشن نے اس کے بارے میں کوئی رائے بنا لی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا جموں و کشمیر کا چار روزہ دورہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ حد بندی کمیشن سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے مشورے کے بعد ہی کوئی فیصلہ لے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی ایک پیچیدہ عمل ہے ۔ لہذا کمیشن مستقبل قریب میں بھی جموں و کشمیر کا دورہ کرتا رہے گا ۔


پی ڈی پی کی طرف سے کمیشن سے ملاقات نہ کئے جانے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کمشین کی چیئرپرسن ریٹائرڈ جسٹس رنجنا پرکاش نے کہا کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ سبھی سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنا چاہتی ہیں ، لہذا ہر سیاسی جماعت کو کمیشن کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی مستقبل میں کمیشن کے سامنے اپنے خیالات رکھے گی ۔ پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر کیلئے 24 نشستیں مخصوص ہونے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ الیکشن کمیشنر نے کہا کہ 24 نشستیں ماضی کی طرح ہی مخصوص رکھی جائیں گی اور اس میں کوئی بدلاؤ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بی جے پی کی ریاستی یونٹ نے ان نشستوں کا ایک تہائی حصہ جموں و کشمیر کی اسمبلی میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ سشیل چندن نے کہا کہ کمشین مقررہ وقت میں جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی ازسر نو حد بندی کے عمل کو پورا کرنے کیلئے کوشاں رہے گا۔

بتادیں کہ سرکار نے کمیشن کو جموں و کشمیر میں حد بندی کے عمل کو 31 مارچ 2022 تک مکمل کرنے کی ہدایات دی ہیں ۔ جموں و کشمیر میں 1995 میں حدبندی کا کام عمل میں لایا گیا تھا ، جس میں 1981 کی مردم شماری کو بنیاد بنایا گیا تھا ۔ اس مرتبہ یوٹی میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق اسمبلی نشستوں کی ازسرنو حد بندی کی جا رہی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 09, 2021 09:08 PM IST