உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حد بندی کمیشن کی جانب سے جموں وکشمیر میں اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی سے متعلق ڈرافٹ تجاویز پیش ، نئی سیاسی بحث شروع

    حد بندی کمیشن کی جانب سے جموں وکشمیر میں اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی سے متعلق ڈرافٹ تجاویز پیش ، نئی سیاسی بحث شروع

    حد بندی کمیشن کی جانب سے جموں وکشمیر میں اسمبلی نشستوں کی نئی حد بندی سے متعلق ڈرافٹ تجاویز پیش ، نئی سیاسی بحث شروع

    Jammu and Kashmir News : حد بندی کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی ڈرافٹ تجاویز پر جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر میں سات نئی اسمبلی نشستوں کا اضافہ ہوگا ، جن میں سے چھ نشستیں جموں ڈویژن جبکہ ایک نشست کشمیر ڈویژن میں بڑھ سکتی ہے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر : پیر کے روز حد بندی کمیشن کی جانب سے جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی سے متعلق ڈرافٹ تجاویز سامنے آئیں ۔ اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر میں سات نئی اسمبلی نشستوں کا اضافہ ہوگا ، جن میں سے چھ نشستیں جموں ڈویژن جبکہ ایک نشست کشمیر ڈویژن میں بڑھ سکتی ہے۔ ڈرافٹ تجاویز کے مطابق جموں ڈویژن میں اسمبلی نشستوں کی موجودہ تعداد اب بڑھ کر تینتالیس ہو جائے گی ۔ جبکہ کشمیر خطے میں یہ تعداد اب بڑھ کر سینتالیس تک پہنچ جائے گی ۔ کمیشن نے درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے لئے سات اسمبلی نشستیں مخصوص رکھنے کی تجویز بھی پیش کی ۔ کمیشن نے ساتھی ممبران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی آراء اکتیس دسمبر دوہزار اکیس تک کمیشن کے سامنے رکھے۔

    حد بندی کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی ڈرافٹ تجاویز پر جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کمیشن پر اپنے مکمل یقین کا اظہار کیا جبکہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی ، پیپلز کانفرنس اور جموں وکشمیر اپنی پارٹی نے ان ڈرافٹ تجاویز کی مخالف کی ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر کے صدر رویندر رینہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان تجاویز کی تفصیلات سے متعلق پوری جانکاری حاصل نہیں کی ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ " چونکہ حد بندی کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے ، لہذا وہ کسی سیاسی پارٹی کے مؤقف سے متاثر نہیں ہوسکتا" ۔ رینہ نے کہا کہ حد بندی کمیشن کے ممبران نے سماج کے تمام طبقوں کے ساتھ انصاف کیا ہوگا۔

    نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رویندر رینہ نے کہا "جموں ڈویژن کے لوگ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ الزام لگاتے آئے ہیں کہ جموں خطے کے عوام کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا گیا ہے اور انہیں وہ سیاسی حقوق نہیں دئیے گئے ہیں جن کے مستحق ہیں"۔ رینہ نے کہا کہ بی جے پی نے جموں ڈویژن کے لوگوں کی یہ شکایات حد بندی کمیشن کے سامنے رکھی تھی اور ابھی جس طرح کی اطلاعات ملی رہی ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حد بندی کمیشن نے ایمانداری اور شفافیت سے اپنا کام انجام دیا ہوگا ۔

    جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے ڈرافٹ تجاویز کو ایک مخصوص سیاسی پارٹی کے اثرورسوخ کا نتیجہ قرار دیا ۔ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا " کمیشن کی جانب سے پیش کی گئی ڈرافٹ تجاویز قابل قبول نہیں ہے۔ جموں وکشمیر میں سات اسمبلی نشستوں کا اضافہ کیا گیا ، جن میں سے جموں میں چھ اور کمشیر ڈویژن میں ایک نشست کا اضافہ کرنے کی بات کہی گئی ہے ، جو دوہزار گیارہ کی مردم شُماری کے اعدادوشمار کے مطابق نہیں ہے ۔ یہ بات نہایت ہی مایوس کن ہے کیونکہ ایسا عیاں ہورہا ہے کہ کمیشن نے اسمبلی نشستوں کی تعداد کے بارے میں ڈرافٹ تجاویز مقرر کرتے وقت بی جے پی کے ایجنڈے کو ملحوظ نظر رکھا ہے نہ کہ اعدادوشمار کو۔ وعدہ خلافی کرتے ہوئے حد بندی کمیشن نے سائنٹفک اپروچ کے بجائے پولیٹیکل اپروچ  اپنایا"۔



    پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بھی حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ تجاویز کو مسترد کردیا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا : " کمیشن سے متعلق میری طرف سے ظاہر کئے گئے خدشات غلط نہیں تھے۔ کمیشن نے مردم شُماری کو نظر انداز کر کے کشمیر ڈویژن میں ایک اور جموں ڈویژن میں چھ نشستیں بڑھانے کی تجاویز پیش کی۔ یہ اقدام کرکے مرکزی سرکار کشمیر اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما کرنا چاہتے ہیں" ۔



    جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے حد بندی کمیشن کی تجاویز مسترد کرتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ یہ تجاویز قابلِ قبول نہیں ہیں ، کیونکہ اس میں تفرقہ پیدا کرنے کی بو آرہی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ڈرافٹ تجاویز جمہوریت میں یقین رکھنے والے افراد کے لئے کسی دھچکے سے کم نہیں ۔ جموں وکشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخآری کا کہنا ہے کہ یہ سائنسی بنیادوں پر مبنی تجاویز نہیں ہیں ۔ ڈرافٹ تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے الطاف بخآری نے امید ظاہر کی کہ حکومت ہند اور الیکشن کمیشن ان تجاویز پر دوبارہ غورو خوض کریں گے ۔ تاکہ اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے تعلق جموں وکشمیر کے لوگوں کے حق میں صحیح فیصلہ سامنے آئے۔

    ادھر جموں و کشمیر کانگریس اس پورے معاملے پر محتاط انداز میں اپنا ردعمل پیش کرتے ہوئے دکھائی دی ۔ پردیش کانگریس کے سینئر لیڈر رمن بھلا نے نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس معاملے کی پوری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں ، لہذا اس پر ردعمل ظاہر کرنا قبل از وقت ہوگا۔ تاہم کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموں ڈویژن میں بڑھائی جانے والی چھ اسمبلی نشستیں چناب ویلی، ادھم پور اور کٹھوعہ ضلع میں بڑھائی جانی چاہئے ، کیونکہ بقول ان کے ان علاقوں میں ماضی میں لوگوں کو سیاسی طور پر صحیح نمائندگی نہیں مل پائی ہے۔

    ادھر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملہ پر جموں وکشمیر میں آنے والے دنوں میں میں بھی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کئی بیانات سامنے آسکتے ہیں۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: