ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

حد بندی کمیشن کا جموں و کشمیر کا چھ روزہ دورہ شروع ، کئی سیاسی پارٹیوں نے کی ملاقات ، کیا یہ بڑا مطالبہ

Jammu and Kashmir News : حد بندی کمیشن نے آج سرینگر میں کئی سیاسی جماعتوں کے وفود سے ملاقات کی ۔ کمیشن کے ساتھ ملاقات کرنے والی سیاسی جماعتوں میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ، کانگریس ، بھارتیہ جنتا پارٹی ، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس، سی پی آئی ایم اور سی پی آئی قابل ذکر ہے ۔

  • Share this:
حد بندی کمیشن کا جموں و کشمیر کا چھ روزہ دورہ شروع ، کئی سیاسی پارٹیوں نے کی ملاقات ، کیا یہ بڑا مطالبہ
حد بندی کمیشن کا جموں و کشمیر کا چھ روزہ دورہ شروع ، کئی سیاسی پارٹیوں نے کی ملاقات ، کیا یہ بڑا مطالبہ

جموں و کشمیر : حد بندی کمیشن نے آج سرینگر میں کئی سیاسی جماعتوں کے وفود سے ملاقات کی ۔  کمیشن کے ساتھ ملاقات کرنے والی سیاسی جماعتوں میں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ، کانگریس ، بھارتیہ جنتا پارٹی ، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس، سی پی آئی ایم اور سی پی آئی قابل ذکر ہے ۔ کمیشن سے ملاقات کرنے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر صوفی محمد یوسف نے کہا کہ پارٹی کے وفد نے کمیشن سے جموں و کشمیر میں حد بندی سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ صوفی یوسف نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی کی اشد ضرورت ہے ۔ نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی نے کشمیر وادی کے دور دراز علاقوں میں از سر نو حد بندی کی سفارش کی ۔ تاکہ ان علاقوں میں قیام پذیر پہاڑی اور گوجر طبقات کے لوگوں کو نمائندگی حاصل ہو۔


کانگریس صدر جی اے میر کی سربراہی میں پارٹی کے ایک وفد نے کمیشن سے ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد نیوز 18 اُردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جی اے میر نے جموں و کشمیر میں حد بندی کے عمل کے وقت کی موزونیت پر سوال اٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ جب پورے ملک میں حد بندی کا عمل 2026 تک روک دیا گیا ہے ، تو کیا وجہ ہے کہ جموں و کشمیر میں یہ عمل 2021 میں جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے سے قبل حد بندی سمیت اس طرح کا کوئی بھی قدم یوٹی کے عوام کےلئے سود مند ثابت نہیں ہوگا ۔ میر نے کہا کہ کمیشن ڈیڑھ سال قبل وجود میں آیا ہے ۔ لہذا پارٹی نے کمیشن سے پوچھا کہ اس عرصے کے دوران انہوں نے کن لوگوں کے ساتھ حد بندی کے بارے میں صلح مشورہ کیا ہے ۔


میر نے کہا کہ کمیشن پہلے وہ خاکہ پارٹی کے ساتھ سانجھا کرے  ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کمیشن کے سامنے واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ کسی مخصوص پارٹی کے مشورے کی بنا پر کوئی رائے بنا چکا ہے تو کانگریس اس کا حصہ نہیں بنے گی ۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ پارٹی کے وفد نے کمیشن سے کہا کہ حد بندی کا عمل جموں و کشمیر یوٹی کیلئے کیا جا رہا ہے ، جو ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے تحت وجود میں لائی گئی ہے ، جو پارٹی کی نظر میں غیر آئینی ہے اور یہ عمل نینشل کانفرنس کو قبول نہیں ہے ۔ لہذا حد بندی کا یہ عمل بے ثمر ہے ۔


سی پی آئی ایم کے سکریٹری غلام نبی ملک نے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کی جماعت نے کمیشن سے کہا کہ وہ تبادلہ خیال کے بعد ایک ایسا رپورٹ پیش کرے ، جس سے عام لوگ مایوس ہونے کی بجائے مطمئن ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے کمیشن کے سامنے جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے کا اپنا مطالبہ دہرایا۔

ادھر جموں و کشمیر عوامی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے کمیشن سے ملنے سے انکار کر دیا۔ پی ڈی پی نے کمیشن کے نام ایک خط میں خدشہ ظاہر کیا کہ اس سارے عمل کو ایک مخصوص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے انجام دیا جا رہا ہے ۔ پارٹی نے خط میں لکھا کہ اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے ذریعہ جموں و کشمیر کے لوگوں کے باقی ماندہ سیاسی اختیارات بھی ختم کئے جا سکتے ہیں ۔ پارٹی کے ترجمان سہیل بخاری نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سرکار کی طرف سے جموں و کشمیر سے متعلق جو بھی فیصلے کئے گئے ہیں ، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت جموں و کشمیر کے عوام کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

کمیشن اگلے 3 روز میں جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے عہدیداران اور ڈی ڈی سی میمبران سے بھی ملاقات کرے گا ۔ تاکہ اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی سے متعلق انکی رائے جانی جا سکے۔

واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں فی الحال اسمبلی کی 83 نشستیں ہیں ، جن میں سے 47 سیٹیں کشمیر ڈویژن جبکہ 36 نشستیں جموں ڈویژن میں ہیں۔ اسمبلی نشستوں کی از سر نو حد بندی کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی نشستوں کی کل تعداد 90 ہو جائے گی اور ایسا مانا جا رہا ہے کہ حد بندی عمل کا زیادہ فائدہ جموں ڈویژن کو حاصل ہو سکتا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 06, 2021 10:21 PM IST