ہوم » نیوز » No Category

حد بندی کمیشن کا جموں و کشمیر دورہ کل سے ، لوگوں کی کافی امیدیں وابستہ

Jammu and Kashmir News : سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشرتی گروپوں کی اکثریت کمیشن کے آمد کی شدت سے منتظر ہے ۔ ان کا ماننا ہے یہ عمل بے حد اہم ہے ۔ کشمیری پنڈت، سِکھ اور POK refugees اسمبلی میں ریزرویشن کی مانگ کر رہے ہیں ۔

  • Share this:
حد بندی کمیشن کا جموں و کشمیر دورہ کل سے ، لوگوں کی کافی امیدیں وابستہ
حد بندی کمیشن کا جموں و کشمیر دورہ کل سے ، لوگوں کی کافی امیدیں وابستہ

جموں : کل سے شروع ہورہے ڈی لیمیٹیشن کمیشن کے ممبروں کے جموں و کشمیر کے پہلے دورے کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں ۔ حد بندی کمیشن کے دورے کے ساتھ لوگوں کے مختلف طبقوں کی کافی توقعات وابستہ ہیں ۔ وہیں سیاسی جماعتوں نے حد بندی کے عمل میں تمام طبقات کی مناسب نمائندگی کا مطالبہ کیا ہے ۔ حد بندی کمیشن کا جموں و کشمیر کا پہلا دورہ کل سے شروع ہوگا ، جو 9 جولائی تک جاری رہے گا ۔ اس دورے کے دوران کمیشن ممبران 6 جولائی اور 7 جولائی کو کشمیر ڈویژن میں رہیں گے اور جموں ڈویژن میں 8 اور 9 جولائی کو قیام کریں گے۔  اس دورے کے دوران کمیشن کے ممبران سیاسی حلقوں ، عوامی نمائندوں اور مرکزی خطے کے عہدیداروں سے بات چیت کریں گے ۔ تاکہ وہ نئے حلقہ بندیوں کی تشکیل کے لئے میگا ایکسرسائز کی پہلی معلومات حاصل کرسکیں ۔  لیکن بہت سارے ایسے افراد ہیں ، جو حد بندی کمیشن کے جموں و کشمیر کے دورے وپ زیادہ پرجوش نظر نہیں آرہے ہیں ۔ جموں میں مقیم 14 جماعتوں کے ایک گروپ نے حد بندی کمیشن سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کے مطابق جموں کو ریاست کا درجہ ملنا چاہئے۔


شیو سینا کے ریاستی صدر منیش ساونے نے کہا کہ ہمارا یہ ماننا ہے جو ڈی لیمیٹیشن کمیشن جموں و کشمیر کے دورے پہ آئے گا ، اُن کے پاس جموں ڈویژن کو دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ وہ جموں میں خالی ہاتھ آئیں گے ، کیونکہ یہ پہلے سے ہی صاف کر دیا گیا ہے کہ صرف سات سیٹیں ہی بڑھیں گی ۔ جبکہ ہمارا ماننا ہے کہ صرف جموں خطے میں ہی 50 سیٹیں ہونی چاہئیں ، اسی لئے اُن کا آنا یا نہ آنا ہمارے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہے ۔


سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سماجی اور معاشرتی گروپوں کی اکثریت کمیشن کے آمد کی شدت سے منتظر ہے ۔ ان کا ماننا ہے یہ عمل بے حد اہم ہے ۔ کشمیری پنڈت، سِکھ اور POK refugees اسمبلی میں ریزرویشن کی مانگ کر رہے ہیں ۔ کشمیری پنڈت لیڈر شادی لال نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے لئے 6 اسمبلی سیٹیں اور 3 پارلیمانی سیٹیں مختص رکھی جائیں ۔ تاکہ کشمیری پنڈتوں کو بھی نمائندگی کرنے کا موقع ملے ۔ کیونکہ آج  ہمارے ووٹ ڈالنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہوتا ہے ۔ ایک اور کشمیری پنڈت نے بتایا کہ کشمیری پنڈتوں کو بھی کمیشن سے بات چیت کرنے کا موقع دیا جائے ۔ تاکہ وہ اپنے امپاورمنٹ کے لئے اُن سے بات کر سکیں ۔ کشمیری پنڈتوں کا politically empowerment بہت ضروری ہے۔


سیاسی پارٹیوں این سی اور پی ڈی پی نے ابھی تک حد بندی کمیشن کے ممبروں سے  بات چیت کرنے کی بات ابھی نہیں کہی ہے۔  لیکن کانگریس ، اپنی پارٹی ، پیپلز کانفرنس ، پینتھرس پارٹی اور بی جے پی قائدین نے حد بندی کمیشن کے ممبروں سے ملاقات کا اعلان کیا ہے ۔  لیکن ان میں سے کچھ 2021 مردم شماری کے مطابق نشستوں میں حد بندی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں نہ کہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ۔

جے اینڈ کے اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر وکرم ملہوترا کا کہنا ہے دونوں خطوں کی سیاسی برابری ہو اور ڈی لیمیٹیشن ایک صاف انداز میں ہو ۔ کیونکہ یہاں لوگوں کے دلوں میں کئی طرح کی باتیں چل رہی ہیں ، جیسے جو رولنگ پارٹی ہے ، کہیں اس کے حق میں نہ ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب لوگوں کی رائے لی جائے اور زمینی سطح پر علاقوں اور آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن کے ساتھ انصاف کیا جائے ۔

جموں کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے سربراہ پروفیسر بھیم سنگھ کا کہنا ہے ڈی لیمیٹیشن 2021 مردم شماری کے مطابق ہونا چاہئے نہ کہ 2011 کے مطابق ۔ اگر ڈی لیمیٹیشن 10 سال پہلے کی گئی مردم شمار کی بنیاد پر کی گئی تو یہ پورے جموں و کشمیر، لداخ کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ ہم مانگ کرتے ہیں کہ ڈی لیمیٹیشن 2021 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہونی چاہئے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 05, 2021 11:22 PM IST