உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مودی حکومت کے ذریعہ تین زرعی قوانین کی واپسی کے بعد جموں وکشمیر سے متعلق کیا جا رہا ہے یہ بڑا مطالبہ

    مودی حکومت کے ذریعہ تین زرعی قوانین کی واپسی کے بعد جموں وکشمیر سے متعلق کیا جا رہا ہے یہ بڑا مطالبہ

    مودی حکومت کے ذریعہ تین زرعی قوانین کی واپسی کے بعد جموں وکشمیر سے متعلق کیا جا رہا ہے یہ بڑا مطالبہ

    جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابقہ ​​ریاست کی خصوصی حیثیت کو بحال کرے۔

    • Share this:
    جموں: جموں و کشمیر کی کچھ سیاسی جماعتوں نے پھر سے اپنے مطالبات کو تسلیم کرانے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ مرکز کو سابقہ ​​ریاست کی خصوصی حیثیت کو بحال کرنا چاہئے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سابقہ ​​ریاست کی خصوصی حیثیت کو بحال کرے۔ یہ مطالبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا کہ مرکز پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ماہ متنازعہ تین زرعی قوانین کو منسوخ کر دے گا۔ جموں و کشمیر بی جے پی نے دریں اثناء اس مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ آرٹیکل 370 اور 35A اب ایک تاریخ ہے۔

    وزیر اعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز قوم کے نام اپنےخطاب میں ایک حیران کن اعلان کیا جس میں انہوں نے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا، جس کی وجہ سے کسانوں اور اپوزیشن جماعتوں نے ایک سال تک احتجاج کیا تھا۔  جیسے ہی مودی حکومت نے اپنے بنائے ہوئے فارم قوانین کو واپس لے لیا، جموں و کشمیر کی علاقائی جماعتوں خاص طور پر نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی دونوں آرٹیکل 370 اور 35A کی بحالی کے لئے آواز اٹھانا شروع کر دیا، جسے مودی حکومت نے 5 اگست 2019 کو منسوخ کر دیا تھا۔

    فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی جیسے رہنما اور محمد یوسف تاریگامی نے مطالبہ کیا کہ آرٹیکل 370 جو آئین کا حصہ ہے، اسے واپس لایا جائے۔ انہوں نے کسانوں کی اندرونی آواز سننے اور ان فارم قوانین کو منسوخ کرنے پر حکومت کی ستائش کی۔  اسی طرح کشمیر کی یہ جماعتیں اب اس بات کی وکالت کرتی ہیں کہ مودی حکومت کو کشمیریوں کی آواز سننی چاہیے اور اس طرح آرٹیکل 370 اور 35A کو بحال کرنے کا جرات مندانہ فیصلہ لینا چاہیے۔

    جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے صوبائی سیکٹری شیخ بشیر احمد نے کہا 370 ہٹنے کے بعد اور ریاست کا درجہ ختم کرنے کے بعد جموں کشمیر کے لوگوں کو جو امیدیں تھی سرکار اُن پر پوری نہیں اُتری۔ جموں کشمیر کے لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ اُن کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے۔ جس طریقے سے ایک سال کے احتجاج کے بعد farmer bill واپس لیا گیا اسی طرح جموں کشمیر کو بھی اُس کا حق واپس مل جانا چاہیے۔

    پی ڈی پی کے جنرل سیکرٹری سردار امریک سنگھ نے کہا مرکزی سرکار کو فوری طور پر جموں کشمیر کے جو بھی حقوق چھینے گئے ہیں اُن کو فوری طور پر واپس کرنا چاہیے۔ اس سے جو بھی جموں کشمیر میں حالات چل رہے ہیں ہو سکتا ہے ان میں سدھار آجائے۔ کیونکہ ان فیصلوں سے یہاں کی عوام کو بہت ٹھیس پہنچی ہے۔ اس وقت میں جموں کشمیر کے لوگوں کی کہیں بھی سنوائی نہیں ہو رہی ہے ایسا لگتا ہے جموں کشمیر میں افسران کی تانہ شاہی چل رہی ہے۔

    پی اے جی ڈی پارٹیوں کی طرف سے فارم قانون کو آرٹیکل 370 سے جوڑنے کی بولی نے بی جے پی کو کافی پریشان کیا ہے۔  جے اینڈ کے بی جے پی لیڈر نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 یا 35 اے کو بحال کرنے کے کسی بھی امکان کو مسترد کردیا۔  ان کا کہنا ہے کہ پی اے جی ڈی پارٹیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ فارم کے قوانین بالکل مختلف ہیں اور اس لیے انھیں 5 اگست 2019 کو کیے گئے فیصلوں کی بحالی کے لیے اندازہ لگانا یا دباؤ ڈالنا چاہیے۔

    بی جے پی کے سینئر لیڈر کاویندر گپتا کا کہنا ہے پی اے جی ڈی کو چاہیے کہ یہ ان باتوں کو بھول جائیں کیونکہ جموں کشمیر میں جتنی بھی تباہی ہوئی ہے ان میں ان کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ یہ وزیراعظم کا بڑا پن ہے کہ انہوں نے کسانوں کا درد سمجھ کر یہ فیصلہ لیا۔ باقی رہا سوال آرٹیکل 370 یا 35 اے کی بحالی کا اب یہ ایک تاریخ ہے اس کی بحالی کے لئے آواز اٹھانا بیوقوفی ہوگی۔ بی جے پی کا یہ agenda تھا جس کو ہم نے پورا کر دیا۔ اس فیصلے سے جموں کشمیر کے لوگ دکھی نہیں بلکہ خوش ہیں۔

    دریں اثناء سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ مودی حکومت کے فارم قوانین کو منسوخ کرنے کے فیصلے سے این سی، پی ڈی پی اور دیگر پی اے جی ڈی کو ایک سنہرا موقع ملا ہے کہ وہ آرٹیکل 370 کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جماعتیں اسمبلی تک یہ مطالبہ اٹھاتی رہیں گی۔ جموں وکشمیر میں انتخابات ہو رہے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: