ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سرینگر:خوبصورتی بڑھانے کےنام پراجاڑےگئےغریبوں کےآشیانے،کارپوریٹر نےکہابغیر نوٹس دئیے کی گئی کاروائی

انہدامی کاروائی کے دوران اس علاقے کے کارپوریٹر وجاہت احمد کی لاوڈا کے انفورسمنٹ افسر کے ساتھ تکرار بھی ہوئی کیونکہ کارپوریٹر وجاہت کا کہنا تھا کہ انہدامی کاروائی سے پہلے ان لوگوں کو کم سے کم تین دن پہلے نوٹس دیا جانا چاہیے تھا تاکہ کم سے کم یہ اپنے گھر کاسامان باہر نکال دیتے۔

  • Share this:
سرینگر:خوبصورتی بڑھانے کےنام پراجاڑےگئےغریبوں کےآشیانے،کارپوریٹر نےکہابغیر نوٹس دئیے کی گئی کاروائی
ڈل جھیل کے کناروں پر انہدامی کارروائیاں اب معمول بن گئی ہیں

شہرہ آفاق ڈل جھیل کے آس پاس گھر بسانے اور اُجاڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔ سترہ جون کو جھیل کے ساتھ لگی ژونٹ کول چنار باغ پر تباہی اور آہ و زاری کا دل دہلانے والا منظر تھا۔ لیکس اینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اہلکاروں نے ایک درجن سے زاید جھونپڑیوں کو منہدم کیا جو انکے مطابق غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تھیں۔ اتھارٹی یعنی لاوڈا کے انہدامی سکارڈ نے مکینوں کو گھر کا سامان باہر نکالنے کی بھی مہلت نہیں دی۔ کچھ سامان پانی کی نظر ہوگیا اور کچھ ملبے کے اندر۔ لاوڈا کے عہدیداروں کے مطابق انھیں اس کوہل کے کناروں کو سجانا ہے لہذا ان جھونپڑیوں کو ہٹانا ضروری ہے۔ ادھر مقامی لوگ کہتے ہیں کہ پچھلے کئی سال سے انہیں ہاؤس بوٹوں کی مرمت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جسکی وجہ سے یہ خستہ ہوگئے اور پانی میں ڈوبنے لگے۔


ڈوبتے ہاؤس بوٹوں کا بوجھ کم کرنے کے لئے انہیں ان کے ساتھ یہ جھونپڑے بنانے پڑے اور اس کی انہیں باقاعدہ سرکاری اجازت مل گئی تھی۔ رخسانہ نامی ایک خاتون نے کہا کہ وہ یہاں سے منتقل ہونا چاہتے ہیں اور انھیں کسی جگہ زمین دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ایسا ابھی تک کیا نہیں گیا۔ مشتاق احمد نامی دوسرے شخص نے کہا کہ اس سال کئی برسوں کی منت سماجت کے بعد اب انہیں ٹوٹے پھوٹے ہاؤس بوٹوں کی مرمت کی اجازت مل گئی لیکن اب انکے پاس مرمت کے لئے پیسے نہیں کیونکہ پچھلے تین سال سے سیاحت کی صنعت تباہ حال ہے۔


عہدیداروں کے مطابق انھیں اس کوہل کے کناروں کو سجانا ہے لہذا ان جھونپڑیوں کو ہٹانا ضروری ہے۔
عہدیداروں کے مطابق انھیں اس کوہل کے کناروں کو سجانا ہے لہذا ان جھونپڑیوں کو ہٹانا ضروری ہے۔


انہدامی کاروائی کے دوران اس علاقے کے کارپوریٹر وجاہت احمد کی لاوڈا کے انفورسمنٹ افسر کے ساتھ تکرار بھی ہوئی کیونکہ کارپوریٹر وجاہت کا کہنا تھا کہ انہدامی کاروائی سے پہلے ان لوگوں کو کم سے کم تین دن پہلے نوٹس دیا جانا چاہیے تھا تاکہ کم سے کم یہ اپنے گھر کاسامان باہر نکال دیتے۔لاوڈا کے انفورسمنٹ افسر عزیز قادری سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر یہ جھونپڑے غیر قانونی ہیں تو لاوڈا کے دفتر سے چند میٹر کی دوری پر اتنے جھونپڑے کیسے تعمیر ہوئے۔ ابھی تک اتھارٹی نے کاروائی کیوں نہیں کی تو وہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پائے۔ ڈل جھیل کے کناروں پر انہدامی کارروائیاں اب معمول بن گئی ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کے کچھ رشوت خور افسر ان غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ہیں ورنہ اتنی بڑی تعمیرات کیسے ممکن ہیں۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jun 18, 2021 10:10 PM IST