உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی اے جی ڈی کا اہم حصہ ہونے کے باوجود بھی عمر عبداللہ نے PDP کے خلاف کیوں کی بات، جانیں کیا کہتے ہیں سیاسی تجزیہ کار؟

    جموں و کشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سعید ملک کا کہنا ہے کہ عمر عبداللہ کی جانب سے دیا گیا یہ بیان غیر متوقع ہے ۔

    جموں و کشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سعید ملک کا کہنا ہے کہ عمر عبداللہ کی جانب سے دیا گیا یہ بیان غیر متوقع ہے ۔

    کئی سیاسی جماعتوں نے عمر عبداللہ کے بیان کے بعد پی اے جی ڈی PAGD کے مستقبل کے بارے میں سوال کھڑے کئے ہیں۔ چونکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پیپلز الائنس فار گُپکار ڈیکلرئیشن کے بنیادی اور اہم جُزو ہیں۔ ایسے میں اس بیان کے بعد دونوں جماعتوں کے بیچ مستقبل میں اس طرح کے سیاسی رشتے جاری رہیں گے۔اس بارے میں سیاسی مبصرین اپنی رائے کو کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔

    • Share this:
    نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ ( Omar Abdullah) کی جانب سے پی ڈی پی (PDP) کے بانی مرحوم مفتی محمد سعید پر 2014 میں اقتدار میں آنے کے لئے بی جے پی BJP کے ساتھ اتحاد کو جموں و کشمیر سے دفعہ تین سو ستر Article 370 ہٹائے جانے کی شروعات قراد دئے جانے کے بیان پر اگرچہ پی ڈی پی نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ تاہم کئی سیاسی جماعتوں نے اس بیان کے بعد پی اے جی ڈی PAGD کے مستقبل کے بارے میں سوال کھڑے کئے ہیں۔ چونکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پیپلز الائنس فار گُپکار ڈیکلرئیشن کے بنیادی اور اہم جُز ہیں۔ ایسے میں اس بیان کے بعد دونوں جماعتوں کے بیچ مستقبل میں اس طرح کے سیاسی رشتے جاری رہیں گے۔اس بارے میں سیاسی مبصرین اپنی رائے کو کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں۔

    جموں و کشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سعید ملک کا کہنا ہے کہ عمر عبداللہ کی جانب سے دیا گیا یہ بیان غیر متوقع ہے تاہم وہ مانتے ہیں کہ عمر عبداللہ نے اپنی پارٹی کے حق میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایسا بیان دیا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ اس بیان کے بعد نیشنل کانفرنس کو عوام کو بتانا پڑے گا کہ ان کی جماعت پی اے جی ڈی کا حصہ کیوں ہے۔

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا نیشنل کانفرنس پی اے جی ڈی میں اس لئے شامل ہے کہ جموں و کشمیر کی با اثر سیاسی پارٹیاں ایک جُٹ ہوکر مرکزی سرکار پرسیاسی دبائو بنا سکیں، محمد سعید ملک نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جموں و کشمیر کی کوئی بھی سیاسی پارٹی یا گروپ مرکز پر کبھی بھی دبائو نہیں بنا پایا ہے اور نہ ہی پی اے جی ڈی مرکزی سرکار پر کوئی سیاسی دبائو بنا پائے گی۔انہوں نے کہا کہ پانچ اگست دو ہزار اُنیس کے بعد بی جے پی کے بغیر جموں و کشمیر کی لگ بھگ تمام سیاسی جماعتیں ابھی تک اپنا سیاسی ایجنڈا طے نہیں کر پائی ہیں نتیجے کے طور پر آئے دن مختلف لیڈروں کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آنے ولے وقت میں بھی اسی طرح کے متضاد بیانات سامنے آتے رہیں گے۔جموں و کشمیر کے ایک اور سیاسی تجزیہ نگار پرکھشت منہاس کا کہنبا ہے کہ عمر عبداللہ کی جانب سے مرحوم مفتی محمد سعید کے بارے میں دیا گیا بیان ٹھیک نہیں ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ دوہزار چوداں میں اسوقت کے سیاسی حالات کے مطابق ہی حکومت سازی کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں جماعتوں نے مرکز پر دبائو بڑھانےکے لئے پی اے جی ڈی کو تشکیل دیا تھا تاہم یہ گروپ مرکز پر کسی طرح کا دبائو ڈال نہیں سکا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پی اے جی ڈی میں شامل تو ہیں لیکن اس بیان سے یہ حقیقت پر ایک بار ابھر کر سامنے آئی ہے کہ یہ گروپ بغیر کوئی ایجنڈا طے کئے ہوئے جلد بازی میں معرز وجود میں آیا تھا۔

    پی ڈی پی کی جانب سے عمر عبداللہ کے بیان پر رد عمل ظاہر نہ کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے منہاس نے چونکہ پی ڈی پی بنیادی سطح پر کافی کمزور ہوچکی ہے لہذا وہ فلحال کسی بھی غیر بی جے پی جماعت کے ساتھ الزامات اور جوابی الزامات میں اُلجھنا نہیں چاہتی۔ پرکھشت منہاس نے کہا کہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس الگ الگ سیاسی ایجنڈوں پر کاربند ہیں لہذا عین ممکن ہے کہ کشمیر میں اسمبلی انتخابات کے اعلان کے فورا بعد پیوپلز الائینس فار گُپکار ڈیکلریشن تاریخ کا ایک حصہ بنے گی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: