اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Jammu and Kashmir: امرناتھ گپھا میں بادل پھٹنے کے باوجود یاتریوں کے حوصلے بلند

    امرناتھ گپھا کے قریب بادل پھٹنے سے بڑی تعداد میں ہلاکت کے باوجود یاترا بیس کیمپوں میں یاتریوں کا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہیں دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

    امرناتھ گپھا کے قریب بادل پھٹنے سے بڑی تعداد میں ہلاکت کے باوجود یاترا بیس کیمپوں میں یاتریوں کا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہیں دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

    امرناتھ گپھا کے قریب بادل پھٹنے سے بڑی تعداد میں ہلاکت کے باوجود یاترا بیس کیمپوں میں یاتریوں کا ہجوم دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہیں دوسری طرف انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: کشمیر کے ہمالیائی پہاڑی علاقے میں واقع مقدس امرناتھ جی کی گُپھا کے قریب جمعہ کے روز بادل پھٹنے کے واقعہ کے باوجود سالانہ امرناتھ یاترا پر آنے والے یاتریوں کا جوش و خروش کم نہیں ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں یاتری آج بھی جموں کے یاتری نواس پہنچے۔ یاترا بیس کیمپ پر پہنچنے والے یاتریوں کا جوش و خروش دیکھتے ہی بنتا تھا۔ گرچہ بادل پھٹنے کےسانحہ میں کئی انسانی جانیں تلف ہونے کے باعث ان یاتریوں میں مایوسی تھی۔ تاہم ان کے مذہبی عقیدے اورگُپھا کے درشن کرنے کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

    نیپال سے جموں کے بیس کیمپ میں پہنچنے والی کامنا ٹھاکر نے کہا کہ اگرچہ انہیں اس واقعہ میں انسانی جانیں تلف ہونے کا کافی دُکھ ہے، تاہم  انہیں کسی طریقے کا خوف محسوس نہیں ہو رہا ہے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: میں نیپال سے یاترا کےلئے آج ہی جموں پہنچ چکی ہوں۔ مجھے یہاں پہنچنے پر یہ افسوسناک خبر ملی کہ مقدس گُپھا کے پاس بادل پھٹنے کے واقعہ میں کچھ یاتری فوت ہوئے ہیں جبکہ کئی یاتری اب بھی لاپتہ ہیں۔ مجھے اس بات کا کافی دُکھ ہے کہ اس ناگہانی آفت میں کئی لوگوں کی جان چلی گئی، تاہم مُجھے کسی طرح کا کوئی خوف نہیں ہے۔ مجھے بھگوان شیو پر پورا وشواس ہے اور اسی وشواس کو لے کر میں پوتر گُپھا کے درشن کے لئے جارہی ہوں۔

    ریاست اُتر پردیش کے باشندے سری نواس شرما نے کہا کہ مقدس امرناتھ گُپھا کے پاس پیش آئے سانحہ میں مارے گئے افراد کو وہ خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ہم کل دہلی سے جموں کے لئے روانہ ہوئے۔ سفرکے دوران یہ معلوم ہوا کہ مقدس گُپھا کے پاس بادل پھٹ جانے کا ایک واقعہ پیش آیا ہے۔ ہمارے گھر والوں نے فون پر ہم سے رابطہ کیا اور ہماری خیریت کے بارے میں دریافت کیا۔ ہم نے ان سے کہا کہ ہم محفوظ ہیں اور آگے کے سفر کے لئے تیار ہیں۔ یاتری نواس پہنچ جانے کے بعد اس واقعہ سے متعلق تمام جانکاریاں حاصل ہوئیں، جس میں  بتایا گیا کہ اس حادثے میں کئی لوگوں کی جانیں گئی ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ گرچہ اس بات سے ہم رنجیدہ ہیں، تاہم ہم بلا کسی ڈروخوف کے اپنی یاترا کو آگے بڑھائیں گے۔ میں سب یاتریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حکام کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے مطابق یاترا کو آگے بڑھائیں۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    Jammu and Kashmir: امرناتھ یاترا میں قہر بن کر پھٹے بادل، پانی اور پہاڑوں کے درمیان پھنسے ‘بابا برفانی‘ کے ہزاروں عقیدتمند

    امر چُترویدی نامی ایک یاتری نے اس حادثے میں مارے گئے افراد کی آتما کی شانتی کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا کہ بھگوان کی مرضی کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اُنہیں بھگوان پر پورا بھروسہ ہے اور وہ بحفاظت یاترا کرکے واپس اپنے گھر لوٹ آئیں گے۔  اسی دوران پوتر گُپھا کے آس پاس کے علاقوں میں راحت اور بچاو کا کام آج دوسرے روز بھی جاری رہیں۔ فوج، جموں و کشمیر پولیس، آئی ٹی بی پی اور این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی خصوصی ٹیمیں ملبے کے نیچے دبے ہوئے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
    فوجی ترجمان کے مطابق، آخری اطلاعات ملنے تک 15 لاشیں برآمد کی گئی تھیں جبکہ زخمی ہوئے 35 افراد کو بحفاظت اسپتالوں تک پہنچایا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔ دوسری جانب، انڈین ایئر فورس اور سیول ایڈمنسٹریشن کی جانب سے پنچترنی تک غذائی اجناس کے پانچ سو پیکیٹ آج پہنچائے گئے۔ اس کے علاوہ انڈین ایئر فورس کے خصوصی تیاروں کے ذریعہ ایک اعشاریہ چار ٹن وزن کے ضروری سازوسامان کو بھی پنچترنی پہنچایا گیا، جہاں سے یہ سامان پوترگپھا کے لئے روانہ کیا جا رہا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: