ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ کو جلد ہی کیا جائے گا منتقل ، اب گھر کے پاس ہی رہیں گے نظر بند

فاروق عبد اللہ ، محبوبہ مفتی ، عمر عبد اللہ سمیت سینکڑوں سیاسی اور سماجی کارکنان ، وکلا اور تاجروں کو جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے موقع پر حراست میں لیا گیا تھا ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ کو جلد ہی کیا جائے گا منتقل ، اب گھر کے پاس ہی رہیں گے نظر بند
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ کی فائل فوٹو ۔ پی ٹی آئی ۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر عمر عبد اللہ کو ہری نیواس گیسٹ ہاوس سے ان کی سرکاری رہائش گاہ کے نزدیک واقع ایک بنگلے میں منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ خیال رہے کہ پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر سے آٹیکل 370 ہٹائے جانے کے موقع پر انہیں حراست میں لیا گیا تھا ۔ عمر عبد اللہ کے علاوہ فاروق عبد اللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔


سرکاری ذرائع کے مطابق عمر عبد اللہ کو جمعرات کو ہری نیواس سے منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ جموں و کشمیر انتظامیہ ہری نیواس میں جلد ہی وادی کا دورہ کرنے والے مرکزی وزرا کے وفد کو ٹھہرانے کا منصوبہ بنارہی ہے ۔ عمر عبد اللہ کو جس گھر منتقل کیا جائے گا وہ ان کی سرکاری رہائش گاہ سے کافی قریب ہے اور اس گھر کو تیار بھی کرلیا گیا ہے ۔


قابل ذکر ہے کہ آرٹیکل 370 کے التزامات کو ختم کئے جانے کے تقریبا چھ ماہ بعد مرکزی وزرا کا ایک گروپ جموں و کشمیر کا جلد ہی دورہ کرنے والا ہے ۔  دورہ  کرنے والے ان وزرا میں پیوش گوئل ، روی شنکر پرساد ، اسمرتی ایرانی ، انوراگ ٹھاکر ، وی کے سنگھ ، ہردیپ سنگھ پوری ، آر کے سنگھ ، گری راج سنگھ ، مہندر ناتھ پانڈے ، سادھوی نرنجن جیوتی سمیت کئی بڑے لیڈران شامل ہیں ۔ یہ لیڈران 18جنوری سے 25 جنوری کے درمیان جموں و کشمیر کا دورہ کرسکتے ہیں ۔


فاروق عبداللہ اورعمرعبداللہ (تصویر:نیوز18)۔
فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ (تصویر:نیوز18)۔


خیال رہے کہ فاروق عبد اللہ ، محبوبہ مفتی ، عمر عبد اللہ سمیت سینکڑوں سیاسی اور سماجی کارکنان ، وکلا اور تاجروں کو جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے موقع پر حراست میں لیا گیا تھا ۔ عمر عبد اللہ گزشتہ تقریبا چھ ماہ سے ہری نیواس میں نظر بند ہیں جبکہ ان کے والد 82 سالہ فاروق عبد اللہ کو ان کی رہائش گاہ پر ہی نظر بند رکھا گیا ہے ۔
First published: Jan 15, 2020 10:06 PM IST