ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی کی نظربندی میں اضافہ، پی ڈی پی صدر کو تین ماہ مزید رہنا ہوگا نظر بند

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی نظر بندی کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق محبوبہ مفتی آئندہ تین ماہ تک مزید نظر بند رہیں گی۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی کی نظربندی میں اضافہ، پی ڈی پی صدر کو تین ماہ مزید رہنا ہوگا نظر بند
محبوبہ مفتی کو رواں برس 7 اپریل کو سب جیل ٹرانسپورٹ یارڈ سری نگر سے اپنی رہائش واقع گپکار روڈ منتقل کیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (Peoples Democratic Party) کی صدر اور جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی (Mehbooba Mufti) کی نظر بندی کو بڑھا دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق محبوبہ مفتی آئندہ تین ماہ تک مزید نظر بند رہیں گی۔ گزشتہ سال جموں وکشمیر میں خصوصی ریاست کا درجہ دینے والی دفعہ دفعہ 370 (Article-370) ختم کرنے کے ساتھ ہی 5 اگست 2019 سے محبوبہ مفتی نظر بندی میں تھیں۔ گزشتہ دنوں رہائی کے لئے محبوبہ مفتی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ گزشتہ دنوں محبوبہ مفتی کو سرکاری رہائش گاہ میں شفٹ کیا گیا تھا۔ حالانکہ انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ (Public Safety Act) سے آزاد نہیں کیا گیا تھا اور وہ آئندہ حکم تک اپنے گھر میں ہی قید رہیں گی۔ ان کی سرکاری رہائش گاہ فیئر ویو کو جموں وکشمیر کے محکمہ داخلہ نے ایڈیشنل جیل کا درجہ دیا ہے۔

سجاد لون کو کیا گیا رہا


ایک طرف انتظامیہ نے محبوبہ مفتی کی نظر بندی کو بڑھا دیا ہے تو دوسری طرف پیپلز کانفرنس کے لیڈر سجاد لون (Sajad Lone) کو جمعہ کو حراست سے رہا کردیا گیا ہے۔ سجاد لون نے خود ہی ٹوئٹ کرکے رہا ہونے کی اطلاع دی۔


قبل ازیں حکومت نے محبوبہ مفتی کو رواں برس 7 اپریل کو سب جیل ٹرانسپورٹ یارڈ سری نگر سے اپنی رہائش واقع گپکار روڈ منتقل کیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ 60 سالہ محبوبہ مفتی، جنہیں پانچ اگست 2019 کو حراست میں لیکر چشمہ شاہی کے گیسٹ ہائوس میں نظربند کیا گیا تھا، کو گذشتہ برس نومبر کے وسط میں مولانا آزاد روڑ پر واقع سرکاری کوارٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کے لئے سرما کے پیش نظر گرمی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا تھا۔ بتادیں کہ محبوبہ مفتی سال 2016 میں پہلی مسلم خاتون وزیر اعلیٰ کے بطور تختہ پر براجمان ہوئی تھیں لیکن یہ عہدہ ان کے لئے نیک شگون ثابت نہیں ہوا تھا کیونکہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے روز اول سے ہی نہ صرف ہر گزرتے دن کے ساتھ محبوبہ مفتی کی سیاسی ساکھ تنزل پذیر ہوئی تھی بلکہ پارٹی میں اندورنی خلفشار آہستہ آہستہ آتش فشاں کی صورت اختیار کرتا گیا تھا جو بعد میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلوط حکومت کے پاش پاش ہونے کے ساتھ ہی پھٹ گیا تھا۔

محبوبہ مفتی سال 1996 میں ریاست کے سیاسی افق پر جلوہ افروز ہوئی تھیں اور اسی سال جموں وکشمیر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ انتخاب بجبہاڑہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔۔(فائل فوٹو:نیوز18)۔
محبوبہ مفتی سال 1996 میں ریاست کے سیاسی افق پر جلوہ افروز ہوئی تھیں اور اسی سال جموں وکشمیر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ انتخاب بجبہاڑہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔۔(فائل فوٹو:نیوز18)۔


محبوبہ مفتی سال 1996 میں ریاست کے سیاسی افق پر جلوہ افروز ہوئی تھیں اور اسی سال جموں وکشمیر میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں اپنے آبائی حلقہ انتخاب بجبہاڑہ سے کانگریس کی ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہیں گذشتہ برس منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات میں اپنے پشتنی پارلیمانی حلقے سے پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کے چند ماہ بعد جب مرکزی حکومت نے پانچ اگست 2019 کو جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن عطا کرنے والی آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 منسوخ کیں اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کیا تو علاقائی جماعتوں اور کانگریس کے درجنوں سیاسی لیڈران کو بند کیا گیا۔ رواں برس 6 فروری کو محبوبہ مفتی کے علاوہ عمر عبداللہ، نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری علی محمد ساگر اور پی ڈی پی لیڈر سرتاج مدنی پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا تھا۔

محبوبہ مفتی کو رواں برس 7 اپریل کو سب جیل ٹرانسپورٹ یارڈ سری نگر سے اپنی رہائش واقع گپکار روڈ منتقل کیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔
محبوبہ مفتی کو رواں برس 7 اپریل کو سب جیل ٹرانسپورٹ یارڈ سری نگر سے اپنی رہائش واقع گپکار روڈ منتقل کیا تھا جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔


پی ایس اے، جس کو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ نے جنگل اسمگلروں کے لئے بنایا تھا، کو انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے ایک 'غیرقانونی قانون' قرار دیا ہے۔ اس قانون کے تحت عدالتی پیشی کے بغیر کسی بھی شخص کو کم از کم تین ماہ تک قید کیا جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں اس قانون کا اطلاق حریت پسندوں اور آزادی حامی احتجاجی مظاہرین پر کیا جاتا ہے۔ جن پر اس ایکٹ کا اطلاق کیا جاتا ہے اُن میں سے اکثر کو کشمیر سے باہر جیلوں میں بند کیا جاتا ہے۔

نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 31, 2020 04:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading